ملک بھر میں لاقانونیت، غیر ذمے داری، رشوت ستانی، بہیمانہ قتل، مظالم و بربریت کی وارداتیں ہورہی ہیں۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں تو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، ان صوبوں میں جرائم کی شرح معلوم کرنے کا پیمانہ کیا ہے، کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے۔ سندھ اور پنجاب میں بھی جرائم کی بھرمار ہے۔
سندھ اور پنجاب کے شہری لاقوں میں جرائم کی شرح میں اضافے کی ایک وجہ افغان مہاجرین کی آبادیاں ہیں، ان کے علاوہ بلوچستان و خیبرپختونخوا کے قبائلی باشندے بھی قبیلے یا برداری کو قوم سمجھتے ہیں اور شہری علاقوں میں مدتوں بعد تک ایڈجسٹ نہیں ہوپاتے ہیں۔ قبیلے کے نام پر جھتے بندی کرکے خود کو قانون کی گرفت سے بچاتے ہیں جس کی وجہ سے شہری علاقوں میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔ادھر اندرون سندھ محکمہ پولیس کی تعیناتیوں میں سفارش کا کلچر بہت عام ہے ۔
وڈیروں اور گدی نشینوں کی منظوری کے بغیر کوئی تعیناتی نہیں ہوسکتی ۔ خیبر پختونخوا میں تو پولیس کو اختیارات ہی نہیں دیے جاتے ۔ سابقہ فاٹا کے اضلاع میں پولیس تھانے تک قائم نہیں ہوسکے ہیں۔ ان علاقوں کے لوگ کراچی اور ملک کے دیگر شہروں میں قطار اندر قطار آرہے ہیں لیکن متعلقہ صوبے کے حکومت کو اس حوالے سے کوئی فکر نہیں ہے ۔
ادھر اندرون سندھ اور خاص کر کراچی میں پولیس فائرنگ میں اکثر مجرم مارے جاتے ہیں، یہ لوگ راہ زنی کی وارداتوں میں ملوث ہوتے ہیں ، بعض اوقات پتہ چلتا ہے کہ کراس فائرنگ کے دوران کوئی بے گناہ راہ گیر بھی مارا گیا ہے ۔ذمے دار پولیس اہلکاروں کی طرف سے جواز پیش کیا جاتا ہے کہ مذکورہ افراد کو رکنے کا کہا گیا وہ رکے نہیں اور فرار ہونے لگے تھے یا ان کی طرف سے پولیس پر فائرنگ کی گئی تھی جس کے جواب میں پولیس نے بھی فائرنگ کی تھی جس کی وجہ سے ہلاکت کا واقعہ پیش آیا۔اس قسم کے واقعات پنجاب و سندھ اور خاص طور پر کراچی میں زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ ان شہروں میںبیروں شہر سے آئے سے ہوئی لوگ اکثر وارداتوں میں ملوث پائے جا رہے ہیں ۔
کراچی میں لیاری گینگ وار کا سب کو پتہ ہے لیکن اب راولپنڈی اور اسلام آباد جیسے پرامن شہروں میں بھی جرائم کی شرح بلند ہورہی ہے، اس کی وجہ بھی ان شہروں میں بڑھتا ہوا آبادی کا دباؤ، افغان مہاجرین اور دیگر علاقوں سے آئے ہوئے ، وہ لوگ ہیں جو یہاں جرائم کرکے اپنے دور دراز علاقوں میں روپوش ہوتے ہیں اور ان علاقوں میں پولیس کی رٹ نہیں ہوتی۔ یوں یہ لوگ قانون کی گرفت کی بچے رہتے ہیں۔
ایسے مقدمات میں اکثر مجرم یا ملزم پکڑے نہیںجاتے ہیں۔ محفوظ علاقوں میں پناہ لینے والے ملزمان کے لواحقین جو شہروں میں رہ رہے ہوتے ہیں، وہ پولیس کو کہتے ہیں کہ ہم تو بے گناہ ہیں، ہمارا ملزموں کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی ہمیں پتہ ہے کہ وہ کہاں ہیں، اگر پولیس ان گرفتار کرے تو جتھ بن کر آجاتے ہیں، ان کے علاقوں کے رکن اسمبلی بھی ساتھ ہوتے ہیں، معاملے کو صوبائیت، لسانیت کی شکل دیتے ہیں اور انتظامیہ اور پولیس کو بلیک میل کرتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ متاثرہ فریق کو کسی نہ کسی طریقے سے صلح پر تیار کرتے ہیں، جب معاملات طے ہوجاتے ہیں تو ملزمان واپس آجاتے ہیں۔کراچی اور ملک بھر میں ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔