بھارت پاکستان کے خلاف بار بار جارحیت کیوں کرتا ہے؟ معرکہ حق میں شان دار کام یابی کا جشن مناتے ہوئے اس سوال پر غور مناسب ہو گا۔ اس سوال کو زیربحث لاتے ہوئے یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ یہ ملک ہر کچھ عرصے کے بعد فالس فلیگ آپریشن کر کے اس کا الزام پاکستان پر کیوں دھر دیتا ہے؟ یہ سوال کچھ ایسا مشکل نہیں لیکن بھارت کے ایک نام ور صحافی پراوین ساہنی نے چین اور بھارت کے بیچ مسائل کے تعلق سے ایک بات کہی ہے جس سے پاکستان کے بارے میں بھی بھارت کا ذہن سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
بھارت کے نام نہاد آپریشن سندور کی ناکامی کے موضوع پر ایک مباحثے میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا:
' چین ایک کام یاب ملک ہے جسے ہم (بھارت) تسلیم نہیں کر پا رہے۔'
میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے بارے میں بھی بھارت کا مخمصہ یہی ہے۔ یہ مخمصہ دل چسپ بھی ہے اور عبرت انگیز بھی۔ اس بھارتی شخصیت کا نام تو میرے ذہن میں محفوظ نہیں رہ سکا لیکن اس دانش ور کا اٹھایا ہوا ایک سوال میرے حافظے میں دیے کی طرح لو دیتا ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ 1857 کی جنگ آزادی میں مسلمانوں نے ہندوؤں کے کاندھے سے کاندھا ملا کر لڑائی کی تھی پھر ایسا کیا ہو گیا کہ مسلمانوں نے اپنا راستہ ہندوؤں سے علیحدہ کر لیا؟ یہی وہ بنیادی سوال ہے جو برصغیر کی تقسیم کے راز سے پردہ اٹھاتا ہے اور ان وجوہات سے آگاہ کرتا ہے جن کی وجہ سے پاکستانی بنیان مرصوص بن کر راہ حق جیسے آپریشن کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
سر سید احمد خان مسلم برصغیر کی وہ پہلی عبقری شخصیت ہیں جنھوں نے مسلمانوں کے ساتھ ہندوؤں کے امتیازی طرز عمل کو زبان دی اور دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ یہ دونوں اقوام ساتھ ساتھ نہیں چل سکتیں کیوں کہ مسلمانوں کے سلسلے میں ہندو اکثریت اپنی تنگ دلی پر قابو پانے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ سرسید کے بعد خیری برادران نے استنبول سے شائع ہونے والے اپنے اخبار میں یہ تصور پیش کیا۔
یہ تصور مسلمان اہل دانش میں زیر بحث تو رہا لیکن تحریک کی شکل اختیار نہ کر سکا۔ 1930 میں شاعر مشرق علامہ اقبال کا خطبہ الہٰ آباد تھا جس نے اس تصور کو جلا بخشی اور اسے ایک قابل عمل فارمولے کی صورت میں پیش کیا جو بعد میں قرارداد پاکستان کی صورت میں سامنے آیا۔ تاریخ کے اس بیانیے کو مسلمانوں کا بیانیہ قرار دے کر مسترد کیا جا سکتا ہے لیکن کچھ ایسی بات ہی جسونت سنگھ جیسے ہندو دانش ور کی طرف سے کہی جائے تو صورت حال مختلف ہو جاتی ہے۔
جسونت سنگھ نے اپنی کتاب ' جناح' میں لکھا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے کیبنٹ مشن پلان اس لیے قبول کر لیا تھا کہ ایک ڈھیلے ڈھالے وفاق میں مسلم اکثریتی صوبوں کے گروپ کو آئینی تحفظ مل سکے گا یوں مسلمانوں کے حقوق محفوظ ہو جائیں گے۔ مسلمانوں کے حقوق محفوظ ہو جاتے تو برصغیر بھی تقسیم نہ ہوتا لیکن پنڈت جواہر لال نہرو کے لیے مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ قابل قبول نہیں تھا، اس لیے انھوں نے دو ٹوک اعلان کر دیا کہ اس کی آئینی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ یہ کانگریسی قیادت کی تنگ دلی تھی جس نے تقسیم ہند کی راہ اختیار کی۔
ہندوستان کی تقسیم کے بعد پاکستان وجود میں آ گیا تو ہندو اکثریت اور کانگریسی قیادت کا خیال تھا کہ یہ چار دن کی چاندنی ہے، پاکستان بالآخر واپس ہندوستان میں ضم ہو جائے گا۔ اثاثوں کی تقسیم میں دھاندلی اور اس کے حصے کی ادائی میں رکاوٹ کا سبب بھی یہی تھا۔ یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔کانگریسی قیادت دشمنی بھی کرتی تھی اور سماجی تعلق بھی رکھتی تھی لیکن جن سنگھی یعنی بھارتیہ جنتا پارٹی کی موجودہ قیادت کے آتے آتے سارے رکھ رکھا اٹھ گئے۔ اب نریندر مودی منھ پھاڑ کر دیتا ہے:
' روٹی کھا ورنہ میری گولی تو ہے ہی۔'
نریندر مودی کا یہ طرز عمل واضح کرتا ہے کہ مسلمانوں اور خاص طور پر پاکستان کے بارے میں بھارتی قیادت خاص طور پر جن سنگھی یعنی آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والے تنگ نظر ہندوؤں کا ذہن وہی ہے جو اہل فلسطین کے بارے میں نیتن یاہو اور صہیونی یہودیوں کا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو وجود میں آئے80 برس ہو چکے۔ دنیا میں پاکستان کا سکہ بھی کام یابی سے چل رہا ہے یعنی اس ملک نے اتنی اہمیت حاصل کر لی کہ امریکا جیسی طاقت ور عالمی قوت عالمی مسائل کے حل کے لیے اس کی سفارتی دانش پر بھروسہ کرتی ہے لیکن اس کے باوجود بھارت کا تنگ نظر ذہن پاکستان کے وجود اور اس کی عدیم النظیر کام یابی کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہے یعنی یہ بالکل وہی بات ہے جو پراوین ساہنی چین اور بھارت کے تعلق سے کہتے ہیں۔ یہی سبب ہے جس کی وجہ سے بھارت پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔
پاکستانی قیادت اور فوج نے ہر دور میں بھارت کی ان ناپاک کوششوں کو خاک میں ملایا ہے لیکن 2019 میں صورت حال بدل گئی۔ عمران خان کے دور حکومت میں بھارت نے بالاکوٹ پر حملہ کیا تو پی ٹی آئی کی حکومت نے بزدلی دکھائی ۔ عمران خان نے قائد ایوان کی حیثیت سے اسمبلی کے فلور پر کہا:
' ۔۔۔۔ تو کیا میں بھارت پر حملہ کردوں؟'
اس طرز عمل سے بھارت کے حوصلے بڑھ گئے۔ اس کا خیال تھا کہ عمران خان کے طرز عمل کی وجہ سے پاکستان چوں کہ عالمی تنہائی کا شکار ہے اور شدید مالی مسائل سے بھی دوچار ہے، اس لیے اس پر ضرب لگانے کے لیے یہ وقت موزوں ہے۔ نریندر مودی اور اس کی فوجی قیادت کی یہ بہت بڑی غلطی تھی۔ اس وقت ملک کے وزیر اعظم شہباز شریف تھے اور فوج کی قیادت فیلڈ مارشل عاصم منیر جیسے جری کمانڈر کے ہاتھ تھی جنھوں نے چار دن کے معرکے میں بھارتی سورماؤں کے چھکے چھڑا دیے۔
یہ پاکستان کی تاریخ ساز فتح تھی۔ پوری دنیا نے بھارت پر پاکستان کی سیاسی اور عسکری بالادستی کو تسلیم کر لیا ہے۔ کیا بھارت اور اس کی اسٹیبلشمنٹ نے بھی اسے تسلیم کیا ہے؟ بنگال سمیت بھارت کی بعض دیگر ریاستوں کے انتخابات میں جو کچھ ہوا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نہیں۔ بنگال میں جس طرح الیکشن جیتا گیا اور مسلمانوں کو رائے دہی کے حق سے محروم کیا گیا، اس سے واضح ہوتا ہے کہ بنگال میں بی جے پی کی حکومت لانے کا مقصد یہ ہے کہ بنگلا دیش کو بھارت کے سائے میں واپس لایا جائے۔
نریندر مودی اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ کی کوشش ہو گی کہ ملک میں مذہبی منافرت کی ایک نئی اور خون ریز لہر پیدا کی جائے تاکہ نریندر مودی کو اقتدار میں رکھا جا سکے۔ اگر اسے چوتھی بار اقتدار میں لانا ممکن نہ ہو تو اسی کی طرح کے کسی اور شدت پسند کو وزیر اعظم بنا دیا جائے تاکہ پاکستان کے خلاف سرگرمیاں جاری رکھی جا سکیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپریشن سندور کی ناکامی کے باوجود بھارت کی نیت کا فتور برقرار ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسی صورت حال میں پاکستان کیا کرے؟
پاکستان کو زیادہ کچھ نہیں کرنا، آپریشن راہ حق اور بنیان مرصوص کا جذبہ برقرار رکھنا ہے۔ ملک کو سیاسی استحکام دینا ہے تا کہ دشمن ہمارے اختلافات سے فایدہ اٹھانے کا سوچ بھی نہ سکے اور اقتصادی استحکام دینا ہے تا کہ عوام کو آسودگی میسر آئے اور وہ اپنے وطن کے دفاع کے لیے بنیان مرصوص بنے رہیں اور بھارت آپریشن سندور کی طرح ہمیشہ منھ کی کھاتا رہے۔