کاری کا کاروبار

سندھ میں کاری ایک کاروبار بن چکا ہے۔ اس کاروبار سے سردار کی سرداری مضبوط ہوتی ہے


جاوید قاضی May 10, 2026
[email protected]

اس دن میں سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ میں تھا، جب سندھ کی ایک ضلعی عدالت نے کاری کے الزام میں جرگہ فیصلے کے تحت عدالت میں پناہ لی ہوئی لڑکی کو باپ کے حوالے کردیا، وہ باپ جس نے اپنی پگڑی، اس بیٹی کے پاؤں میں رکھ دی ،یہ کہہ کر کہ وہ میری عزت اور اس پگ کی لاج رکھے، بیٹی نے باپ کی عزت اور پگ کی لاج رکھنے کے لیے عدالت میں کہہ دیا کہ وہ اسے دارالامان نہ بھیجیں اور وہ اپنے والد کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہے۔

عدالت نے اس لڑکی کی مرضی کے مطابق اسے باپ کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔ عدالت سے باہر آتے ہی لڑکی نے سب کے سامنے یہی کہا کہ ’’مجھے پتا ہے کہ میں ماری جاؤں گی لیکن میں اپنے والد کی پگ کا بھرم رکھتے ہوئے، ان کے ساتھ واپس جا رہی ہوں۔‘‘

اور ایسا ہی ہوا۔ یہ واقعہ چار مئی کا ہے، یہ خبر سن کر جو مجھ پر بیتی وہ ایک الگ تکلیف اور دکھ ہے جو کہ الفاظ میں شاید بیان نہ کر سکوں، لیکن یہ واقعہ ایک نہیں، یہ واقعات ہیں جو اب روز مرہ کا معمول بن چکے ہیں۔ اس سے دو چار دن پہلے روبینہ چانڈیو نامی لڑکی کو خیرپور کے قریب ٹنڈو مستی میں کاری کے الزام میں جرگے کے فیصلے کے تحت بیچ راستے میں، رات کے اندھیرے میں، لوگوں کے ہجوم کے سامنے گولیوں سے بھون دیا گیا اور اسی رات لاڑکانہ میں ایک لڑکی اور اس کی ماں کو مار کر ان کے گھر کو آگ لگا دی گئی، وہ بھی صرف اس لیے کہ ماں اپنی بیٹی کی شادی نہیں کروانا چاہتی تھی۔

اسی طرح کی ایک اور گمنام قبر ملی ہے وہ لڑکی بھی اپنے باپ کے ہاتھوں کاری کرکے ماری گئی ہے۔ یوں کہیے کہ آج کل نہتی عورتوں کا قتل، ان کی جائیداد پر قبضے ایک روایت بن گئی ہے۔

سندھ میں کاری ایک کاروبار بن چکا ہے۔ اس کاروبار سے سردار کی سرداری مضبوط ہوتی ہے اور گدی نشین کی گدی۔ جرگہ عدالتوں سے بڑا ہوجاتا ہے اور اس سے پولیس کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں۔ پولیس ، سردار، وڈیرہ اورگدی نشین مل کے کماتے ہیں۔

جتنا سماج پسماندہ ہوگا، ایسے واقعات روز جنم لیں گے۔ یہ کاروبار خود نوشتہ دیوار بن کر برسوں میں منظم ہوا ہے۔سندھ جہاں تعلیم پسماندہ ہوئی ہے، لگ بھگ ستر لاکھ بچے اسکولوں سے محروم ہیں جس کا تناسب مجموعی طور پر پاکستان کے دوسرے صوبوں سے زیادہ ہے۔

انکے جو بھی سیاسی مخالف ہیں، ان کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر کاٹنا معمول بن چکا ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پولیس ان کے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے کام کر رہی ہے، بلکہ بہت سے واقعات ایسے بھی ہیں جس میں خود پولیس ملوث ہے۔ پورے پانچ سال پنجاب اور سندھ کے بارڈر کے قریب ڈاکوؤں کا راج رہا۔

اب کہیں جا کر ڈرون ٹیکنالوجی کی مدد سے اس پر قابو پایا گیا ہے، لیکن ان ڈاکوؤں کے سرپرست یہ قبائلی سردار، گدی نشین اور وڈیرے خود ہیں۔ یہ طبقہ اپنا وجود برقرار رکھ نہیں سکتا،اگر اس کے تعلقات ان وارداتی لوگوں سے نہ ہو۔

 میں ان دنوں جب جرمنی، آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ میں تھا، میرے دیکھنے کا زاویہ مختلف تھا۔ یہاں تو ایسے کسی سرداری، قبائلی نظام یا وڈیرہ شاہی کا وجود نہیں ہے جو کبھی یہاں پر بھی موجود تھا۔ انگلستان میں بھی لارڈز ہوا کرتے تھے جو ہاؤس آف لارڈز میں بیٹھتے تھے، پھر آہستہ آہستہ اقتدار میں ہاؤس آف لارڈ کی بہ نسبت ہاؤس آف کامن کے طاقتور بن گیا جس میں کامن یا یوں کہیے عام لوگ بیٹھتے تھے، ایسا اس لیے ہوا کہ وہاں انفرا اسٹرکچر کا جال بچھایا گیا۔

اس کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت تھی۔ اسٹاک مارکیٹ کا قیام ہوا جس میں کوئی بھی متوسط طبقے کا آدمی چند سو پاؤنڈ سے اپنی کمپنی کے حصے خرید سکتا تھا جو ایسے انفرا اسٹرکچر کو بنانے پر کام کرتی تھی۔ اس بدلاؤ سے مڈل کلاس طبقہ ابھرا، جنھوں نے ایسی کمپنیوں کے حصے خریدے جن کی قیمت دن دگنی اور رات چوگنی ہوتی گئی، مارکیٹ پھیلی، روزگار کے ذرائع پیدا ہوئے اور پھر اس طرح یورپ نے ان لارڈز کو شکست دی۔

اس سے پہلے ان ممالک میں چرچ کا قبضہ تھا،بادشاہ کمزور اور چرچ مضبوط ہوا کرتے تھے۔ پھر بادشاہ نے جمہوریت کے لیے دروازے کھولے، ریفارمز کیں۔اس طرح پاپائیت کو شکست ہوئی۔ پھر لارڈز کو شکست ہوئی اور بیانیہ بدلا، یعنی مڈل کلاس ووٹ کی اہمیت بنی۔

اس میں بھی آجکل ایک پاپولسٹ ہیں جو دائیں بازو سے تعلق رکھتے ہیں، جو نفرتیں پھیلا کے، اسلامو فوبیا پھیلا کر ووٹ لیتے ہیں، کیونکہ اب وہاں ایشیا کے لوگ وہ کام کرتے ہیں جو کل تک ان کی مڈل کلاس کرتی تھی۔ گلوبلائزیشن کی وجہ سے آزاد تجارت نے فروغ پایا جس سے جو چیز سستی تھی، اس نے مقامی مہنگی چیز پر تقویت پائی اور آج دنیا میں انھیں تضادات و حالات نے تیسری جنگ عظیم کے آثار پیدا کر دیے ہیں۔

امریکا اور یورپ جیسی طاقتیں جنھوں نے دنیا پر راج کیا،وہ راج آج سکڑ رہا ہے۔ دنیا کی سرحدیں اب پرانے انداز میں قائم نہیں رہ سکتیں۔ مصنوعی ذہانت نے تمام سرحدیں توڑ دی ہیں، ایک نیا مجموعی بیانیہ بننے جا رہا ہے۔

 وڈیرہ شاہی اور سرداری نظام نہ ہی ہندوستان میں وجود رکھتا ہے اور نہ ہی بنگلا دیش میں اور نہ ہی ایران میں۔ پورے پاکستان میں سب سے زیادہ مضبوط یہ نظام کراچی کو چھوڑ کر پورے سندھ میں ہے۔اس ذہنی پسماندگی کے اثرات کراچی میں بھی موجود ہیں۔

’’کارو‘‘ اور ’’کاری‘‘ میں کارو وہ کردار جس پر الزام صرف یہ ہوتا ہے کے وہ کاری قرار دی ہوئی عورت سے تعلق رکھتا ہے وہ خود بینفیشری ہے۔ نوے فیصد ایسے کردار کے خلاف کچھ نہیں کیا جاتا، وہ قتل نہیں ہوتا، یہ ہے مردانہ سماج کی کارو قرار دیے ہوئے شخص پر مہربانیاں۔

 پاکستان بننے کے بعد سندھ پر ایک جمود طاری ہے۔ پاکستان بننے سے پہلے یہاں بھرپور مڈل کلاس تھی۔ کراچی، حیدرآباد، سکھر، شکارپور میں ان کا ہولڈ تھا اور یہ وڈیرے ان سے قرض لے کر اپنی زندگی گزارتے تھے۔ ان کے سائے میں جو کہ اسکولوں میں استاد بھی تھے، میرے والد سے لے کر اے کے بروہی جیسے سیکڑوں کردار جو مڈل کلاس سے وابستہ تھے اپنا لوہا منوایا لیکن جب سے وڈیروں کا تسلط قائم ہوا ہے۔

سندھ کی سماجی قدریں بجائے بہتر ہونے کی اور پسماندہ ہوتی گئیں اور مزید ہوتی جا رہی ہیں۔ خاص طور پر حالیہ دہائیوں میں انتظامیہ، قانون کی حکمرانی اور مفلوج ہوتی ہے، اس لیے کہ وڈیرہ شاہی، جرگہ اور سردار اور مضبوط ہوئے ہیں۔ وہ سندھ جو امن پسند تھا، اس سندھ کے ایک طرف دولھ دریا خان، دودو، ہوشو تھے تو دوسری طرف، مارئی، سسئی، سوہنی، سمبارا یا بے نظیر تھیں۔

بد قسمتی سے اب ان کے سورمے سردار، پیر اور وڈیرے ہیں جن کے سیکڑوں ٹک ٹاک سوشل میڈیا پروائرل ہوتی ہیں اور اس طرح عام سندھی نوجوان کی ذہن سازی کی جاتی ہے۔

دوسری طرف جو مڈل کلاس سیاست ہے اس کو ایک ایسے بیانیہ میں دھکیل دیا گیا ہے جو کبھی بھی اس وڈیرے کو چیلنج نہیں کرسکتا ہے کہ وہ پاکستان میں شفاف الیکشن کی سیاست پر یقین نہیں رکھتا۔ اٹھتر سالہ تاریخ میں ایک بھی ایسی نشست نہیں جہاں سے سندھی مڈل کلاس کا نمایندہ جیت کر اسمبلی تک پہنچا ہو۔

اور اب ہمارے لیے اب باقی رہ گیا ہے یہ ’’کاری‘‘ اور کاری کا کاروبار جو دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے یہ اور کچھ نہیں بلکہ ایک جمود ہے جس کا عکس ہے۔ ٹھہرا پانی دراصل ٹھہرا نہیں ہوتا وہ اندر سے بدبودار ہو جاتا ہے۔ آج کل ایسا ہی کچھ ہمیں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ سندھ کے اندر عورتوں کا قتل اور تیزی بڑھتا ہوا یہ رجحان ہمیں یہ بتا رہا ہے کہ اب یہاں قانون کی حکمرانی نہیں رہی ہے۔