ایران امریکا جنگ، مستقبل کیا ہوگا؟

مجھ سے وہ کہہ رہا ہے کہ تلوار پھینک دے ہے جس کی آستیں میں خنجر چھپا ہوا


زمرد نقوی May 11, 2026

مجھ سے وہ کہہ رہا ہے کہ تلوار پھینک دے

ہے جس کی آستیں میں خنجر چھپا ہوا

کیا کمال شعر ہے ، یہ تو کوزے میں سمندر بند کرنے والی بات ہے ۔ مستقبل میں جب موجودہ جنگ کی تاریخ لکھی جائے گی تو یہ شعر اس پوری جنگ کی تفہیم کے لیے کافی ہو گا ۔ ایران امریکا جنگ کی داستان پچاس کی دہائی کی ابتداء سے شروع ہوتی ہے ۔ یعنی اس قضیہ کو شروع ہوئے 72سال ہونے جارہے ہیں ۔ 72کے ہندسے کی بھی ایک عجیب پراسراریت ہے جہاں وہ اپنے کو مٹا کر بھی لافانی ہو جاتا ہے ۔

ایرانی وزیر اعظم ڈاکٹر محمد مصدق کی حکومت تھی جس نے تیل کی کمپنیوں کو قومی ملکیت میں لے لیا اس کو برطانیہ اور امریکا نے بغاوت سے تعبیر کیا کہ یہ جرات اور ہمت ۔ چنانچہ سازشیں شروع ہو گئیں امریکی CIAاور برطانوی خفیہ ایجنسیوں نے مل کر ایسا جال بنا کہ ایرانی مولوی مصدق حکومت کے خلاف سڑکوں پر آگئے ۔ نہ صرف یہ بلکہ ایرانی تاجر مل کر ایسے یکجان ہوئے کہ مصدق حکومت کو گرا کر ہی دم لیا ۔ ذرا یاد کریں پاکستان میں نظام مصطفی تحریک کو جس کا روح رواں برطانوی صحافی مارک ٹیلی اور سرپرست امریکا تھا۔ اس وقت خطے کے حالات دگر گوں تھے ۔ افغانستان انقلاب در انقلاب کی لپیٹ میں تھا۔ اور امریکی سرپرستی میں شاہ ایران نے ایرانی عوام پر ظلم کی انتہاء کردی تھی۔

سیدھی فائرنگ ہزاروں نہتے انسانوں کا قتل عام کر رہی تھی ۔ ذوالفقار علی بھٹو کی لاہور میں بلائی اسلامی سربراہ کانفرنس، تیل کا ہتھیار، پاکستانی ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنا ناقابل معافی جرم ٹھہرا۔ امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کی بھٹو کو اس پر عبرت کا نشان بنانے کی گورنر ہاؤس لاہور میں دھمکی ۔کیونکہ سرد جنگ سوویت یونین کے خاتمے کے لیے اپنے فیصلہ کن مرحلے میں تھی لیکن جینئس بھٹو صاحب کے مندرجہ بالا تباہ کن اقدامات نے ہمارے خطے میں امریکی سامراجی ایجنڈے کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ بہرحال امام خمینی پیرس سے جب تہران ائیر پورٹ اترے تو لاکھوں ایرانیوں نے ان کا ایسے استقبال کیا جس کا نظارہ چشم فلک نے کم ہی دیکھا ہو گا۔

اس وقت بھی امریکا ایران سے غیر مشروط اطاعت چاہتا تھا کہ ایک شاہ گیا دوسرا آگیا۔ اس پر امام خمینی نے یہ تاریخی جواب دیا کہ یہ اسلامی انقلاب اسلام کو بچانے کے لیے ہے ، ایران کو بچانے کے لیے نہیں ۔ ایران رہے نہ رہے اسلام باقی رہنا چاہیے ۔ پھر اس کے بعد امریکی سامراج نے ایران کو لامتناہی سازشوں کا نشانہ بنا لیا۔ اسلامی انقلاب کی ابتداء میں ہی ایرانی پارلیمنٹ کو بم دھماکے سے اُڑا دیا گیا جس میں 72 اراکین پارلیمنٹ شہید ہو گئے ۔جن میں بیشترانتہائی تعلیم یافتہ اورPHD اسکالرز تھے ۔ ابتدائی دو تین برس کے مختصر عرصے میں ایرانی صدر ، وزیر اعظم ، چیف جسٹس ، سائنسدان شہید ہو گئے ۔

جب بات پھر بھی نہ بنی تو امریکا نے عراق کے ذریعے ایران پر 8سالہ جنگ مسلط کردی جس میں مجموعی طور پر 8لاکھ افراد کام آئے اس وقت بھی ایران اکیلا تھا۔ امریکی سامراج کے خلاف مزاحمت ناقابل معافی جرم ٹھہری اور پھر ایران کے خلاف ہر طرح کی پابندیوں کا آغاز کر دیا گیا۔ ژ اقتصادی پابندیوں سمیت 47سال ہو گئے ہر گزرتے دن یہ پابندیاں سخت سے سخت ترہوتی چلی گئیں۔ ان بے پناہ صعوبتوں کے باوجود ایران فلسطینی مسلمانوں کی مدد سے باز نہ آیا جو کہ امریکا اور اسرائیل کی نظر میں ناقابل معافی جرم تھا اس کی سزا ایران بے پناہ تباہیوں کی شکل میں مسلسل بھگت رہا ہے۔

آیت اﷲ خامنائی کی شہادت کے بعد امریکی صدر نے غیظ وغضب کے عالم میں فرمایا کہ اب ایران کا اگلا سربرا ہ میں مقرر کروں گا۔ یہ جنگ ایران کی آزادی اور خود مختاری کی جنگ ہے کیونکہ امریکی سامراج کا ایران کو پانچ حصوں میں تقسیم کرنے کا پروگرام تھا۔ کردستان اور گریٹر بلوچستان وغیرہ کی شکل میں ۔ اس لیے ایرانی قوم موت قبول کرلے گی مگر ہتھیار نہیں ڈالے گی۔ تاکہ ایران کی شکل میں آخری رکاوٹ بھی دور کر کے گریٹر اسرائیل کی راہ ہموار کی جا سکے ۔ ایران اپنا اور اپنے تیل کا دفاع کر رہا ہے ۔ جس کو صدرٹرمپ ہڑپنے کے لیے بیقرار ہیں ونیزویلا کی طرح ۔ امریکا ،اسرائیل اور ایران کا مقابلہ ایسے ہی ہے جیسے ایک فریق کو بھوکا ننگا کرکے ہاتھ پاؤں باندھ کر اکھاڑے میں ڈال دیا جائے ۔

ایک پاکستانی مشہور ماہرطبیعات کا نوے کی دہائی میں ایران جانا ہوا وہاں انھوں نے مختلف تعلیمی اداروں کا دورہ کیا تو نصاب کی ورق گردانی کرتے ہوئے وہ حیرت زدہ رہ گئے ۔ انھوں نے ایرانی میزبان سے پوچھا کہ آپ ابتدائی جماعتوں میں نظریہ ارتقاء پڑھاتے ہیں ۔ پاکستان میں تو اسے پڑھانا ممنوع ہے ۔ انھوں نے کہا کہ امام خمینی کے مطابق اسے پڑھانے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ دین اور سائنس دونوں کی اپنی حدود ہیں ۔ یہی وہ سائنسی سوچ تھی جس نے سینتالیس سالہ گلا گھونٹ دینے والی پابندیوں کے باوجود ایران کو سائنس اور ٹیکنالوجی میں دنیا کی انتہائی ترقی یافتہ قوموں کے ہم پلہ کھڑا کر دیا۔ جس کا اظہار مسلسل عسکری سطح پر ہو رہا ہے ۔

ایران امریکا بحران کا عارضی حل تو ہو سکتا ہے لیکن کوئی پائیدار اور مستقل حل دور دور تک نہیں ۔ حساب کتاب کے حوالے سے اس کے لیے ہمیں بہرحال اس سال کم از کم اکتوبر ۔ نومبر کا انتظار کرنا پڑے گا۔