ماہِ مئی بھی عجب مہینہ ہے : حیرت انگیز ، تاریخ ساز اور پریشان کن !آج سے225سال قبل یہ بھی مئی کا گرم اور غبار آلود دن تھا جب انگریز سامراج نے سازش ، جھوٹ اور دغا بازی سے شیرِ میسور سلطان ٹیپو ؒ کو شہید کیا تھا۔یوں برصغیر میں برطانوی انگریزوں کے سامنے کھڑی مضبوط دیوار بھی ڈھے گئی ۔
بقول ناول نگار ، نسیم حجازی، ٹیپو سلطان ؒ کی جہادی تلوار ٹوٹنے سے اسلامیانِ برصغیر کے حوصلے بھی ٹوٹ گئے ۔ ٹیپو سلطان کے گرنے سے متحدہ ہندوستان میں مقتدر مسلمانوں کے وقار، عظمت اور اقتدار کا پرچم بھی گر گیا۔ اِس چٹان کے ٹوٹنے سے مسلمانانِ برصغیر پر غلامی کی طویل اندھیری رات ٹوٹ پڑی۔
ماہِ مئی عجب مہینہ ہے !مئی ہی کے مہینے میں ساری دُنیا کے مزدور پچھلے 140 برسوں سے ’’یومِ مئی‘‘ منا کر طاقتوروں ، مقتدروں اور سرمایہ داروں کو اپنے وجود اور محرومیوں کا احساس دلارہے ہیں ، مگر مزدور کی زندگی پر چھائے محرومیوں کے سیاہ سائے دُور نہیں ہوئے ۔ اہلِ اقتدار ’’یومِ مئی‘‘ کے موقع پر زیر لب چند رٹے رٹائے جملے دہرا کر اپنا ’’فرض‘‘ پورا کر لیتے ہیں ۔ اللہ ، اللہ ، خیر سلّا۔ ابھی پچھلے سال، ماہِ مئی میں اسلامی جمہوریہ پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے جارح ملک، بھارت، کو اُس کی جارحیت پر شرمناک شکست دی تھی ۔ ایک سال گزر گیا ہے، مگر شکست خوردہ اور ہزیمت زدہ بھارت کی حیرانی ابھی تک اپنی جگہ قائم ہے ۔
اوپر سے امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ، آئے روز ، جگہ بہ جگہ، بھارتی شکست اور مہنگے بھارتی جنگی طیاروں (رافیل) کے ( بہادر اور لافانی پاکستانی ہوا بازوں کے ہاتھوں)زمیں بوس کیے جانے کا ذکر کرکے نریندر مودی بھارتی فوج اورانڈین اسٹیبلشمنٹ کے زخموں پر نمک پاشی کرتے رہتے ہیں ۔ بقول ٹرمپ: مئی 2025ء کی ( چار روزہ پاک بھارت جنگ میں) 11کی تعداد میں ’’رافیل‘‘ طیارے گرائے گئے ۔ بھارت اِس تعداد پر کسمسا کر رہ جاتا ہے ۔ مودی جی کی بیچارگی بھی ملاحظہ کیجئے کہ اِن طیاروں کے گرائے جانے کی تردید بھی نہیں کر سکتے۔ پاکستان ، عسکریاتِ پاکستان اور اہلِ پاکستان نے یہ پورا گزرا ہفتہ مئی2025ء کی چارروزہ جنگ (معرکہ حق) میںبھارت کو دی گئی شرمناک شکست کی یاد میں گزارا ہے ۔وفاق کے ساتھ ، چاروں صوبائی حکومتوں نے بھی سرکاری جشن منائے ہیں۔ لاہور تو اِس ضمن میں سب پر بازی لے گیا ہے ۔
10مئی2026ء کو راولپنڈی کے جی ایچ کیو میں ہماری جری افواج نے ایک بہت بڑی تقریب میں یادِ فتح منائی ہے ۔ اِس تقریب میں فیلڈ مارشل کا خطاب معنی خیز تھا۔ معیشت ، تعداد اور رقبے کے لحاظ سے پاکستان ، بھارت کے مقابل، ایک چھوٹا اور کمزور ملک ہے ، مگر اللہ کے خاص فضل سے اور افواجِ پاکستان کے بروقت اور طاقتور جواب سے بھارت کی نام نہاد بڑائی کو زمیں بوس کر دیا گیا ۔ بِلا شبہ یہ ایک عظیم الشان کامیاب اور سرخروئی ہے ۔ پاکستان اور اہلِ پاکستان نے 6تا10مئی2026ء معرکہ حق کی فتح کی یاد میں اللہ کے حضور سجدہائے شکر ادا کیے ہیں تو یہ شکر بجا بنتا ہے ۔ اِس فتح نے سپہ سالارِ پاکستان ، جنرل عاصم منیر، کے سر پر ’’فیلڈمارشل‘‘ کی کلغی بھی سجا دی اور بجا ہی سجائی ہے ۔لاریب مئی کی چار روزہ جنگ نے پاکستان کو اقوامِ عالم میں ایک نئے ، منفرد اور بلند مقام سے سرفراز کیا ہے ۔
بِلا شبہ پاکستانی قوم بھی، مئی کی جنگ کے دوران، اپنی جری افواج کے کندھے سے کندھا ملائے کھڑی رہی ۔پاکستانی میڈیا بھی اِس جنگ میں اپنی افواج کے جملہ اہداف و مقاصد کے ساتھ برابر کھڑا رہا ۔ بھارتی میڈیا نے تو اِس جنگ کے دوران پاکستان کے خلاف جھوٹ و افترا ، بد زبانی اور دریدہ دہنی کی شرمناک داستانیں رقم کیں،مگر پاکستانی میڈیا مہذب اور محتاط رویئے کا مظہر رہا ۔ سالِ گذشتہ کی مئی جنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر کا دلیرانہ کردار بھی ہمیشہ یاد رہے گا۔ پچھلے ایک ہفتے کے دوران پورے پاکستانی میڈیا نے بجا طور پر معرکہ حق کی پُر افتخار یاد میں جشن منائے ہیں۔ یہ مناظر یقینا بھارتی میڈیا اور بھارتی نیتاؤں کے اعصاب پر بھاری گزرے ہیں ۔
مئی کا یہ عجب مہینہ ہے !فتح کی یاد میں خیبر پختونخوا کی مقتدر پی ٹی آئی بھی زیرلب شرکت کرتی نظر آئی ہے ۔ اِس کے چند وزیروں ، مشیروں اور سینئر لیڈروں کے ہونٹوں پر بھی شکرانے کے الفاظ جاری ہُوئے ہیں ۔ پچھلے سال مئی جنگ کے دوران بعض اطراف سے، ملک بھر میں، یہ شکوہ بہرحال سنا جاتا رہا کہ اسیر بانی پی ٹی آئی کی یاد میں پی ٹی آئی کی جانب سے جارح بھارت کے بارے وہ ردِ عمل دکھائی اور سنائی نہیں دے رہا جس کی بجا طور پر پی ٹی آئی ایسی بڑی سیاسی جماعت سے توقع کی جارہی تھی ۔پی ٹی آئی کو بس9مئی کے تلخ اور متحارب پس منظر میں جن مسائل اور مصائب کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا (اور ہنوز کرنا پڑ رہا ہے) ، اِن مصائب کے کارن پی ٹی آئی گھٹن زدہ رہی ۔ تعصب اور جانبداری کے زیر سایہ !!9مئی2026ء کو پی ٹی آئی اور بانی پی ٹی آئی کی آزمائشوں کے تین سال گزر گئے ہیں ۔
یہ پی ٹی آئی کی بد قسمتی ہے کہ اِس 9مئی کو بھی وہ، حسبِ سابق، مقدور بھر احتجاج کرنے کی متمنی تھی ، مگر بھارت کے خلاف جنگِ مئی کی فتح کے شادیانے ملک بھر میں اِس قوت و شدت سے بجائے جارہے ہیں کہ پی ٹی آئی کی احتجاجی خواہشات گھٹ کر رہ گئی ہیں ۔ وزیر اعلیٰ کے پی کے ، جناب سہیل آفریدی، کی معروفِ عالم بڑھکیں بھی خاموش ومعدوم ہیں ۔
سچ یہ ہے کہ عوامی صبر کی حد ٹوٹ چکی ہے ۔ حکومت آئی ایم ایف کا ڈراوا دکھا کر ہر ہفتے عوام کے سروں پر مہنگے پٹرول کے جو بم گرا رہی ہے، یہی حکومت بے حسی سے اپنے لاڈلوں میں بی ایم ڈبلیو اور مرسڈیز ایسی مہنگی ترین اورلگژری گاڑیاں بھی تقسیم کر رہی ہے ۔
سابق وزیر خزانہ ، مفتاح اسماعیل، حکومت کو چیلنج کرتے ہُوئے مطالبہ کررہے ہیں کہ ’’ مبینہ حکومتی کفائت شعاری کی بنیاد پر جو روپیہ بچایا گیا ہے، اس کا حساب سامنے رکھا جائے ۔‘‘ حساب دینے والے مگر دانستہ خاموش ہیں ۔ عوامی مایوسیاں بے پناہ ہیں ۔ ایسے میں یہ خونی خبریں پاکستانیوں کا حال مزید دگرگوں کر گئی ہیں کہ 9اور10مئی2026ء کی درمیانی شب خوارج نے بنوں شہر اور اِس کے مضافات پر کئی حملے کیے ہیں ۔ شہادتیں بہت بیان کی جا رہی ہیں۔مطلب یہ ہے کہ مقتدر افغان طالبان اور خوارج کی بدمعاشیاں رُک نہیں رہیں!!