ہمسائے نہ بدلیں ان کا ہم سایہ بنیں

انیس سو اناسی سے پہلے خلیجی ریاستوں اور ایران کے درمیان ہلکی پھلکی تاریخی رقابت ضرور تھی مگر کوئی بقائی خطرہ محسوس نہیں ہوتا تھا۔



انیس سو اناسی سے پہلے خلیجی ریاستوں اور ایران کے درمیان ہلکی پھلکی تاریخی رقابت ضرور تھی مگر کوئی بقائی خطرہ محسوس نہیں ہوتا تھا۔کیونکہ خلیج کے آرپار رہنے والے امریکی کیمپ میں تھے اور شاہ ایران بزعمِ خود اس کیمپ کے داروغہ تھے۔

تاہم ایران میں نظریاتی الٹ پلٹ کے نتیجے میں اس اسٹرٹیجک خیمے کی طنابیں کھل گئیں۔تب سے خلیج کا سیکیورٹی ڈاکٹرائن امریکی سٹرٹیجک ساجھے داری سے منسلک ہے۔انیس سو اسی کے عشرے میں آٹھ سالہ جنگِ خلیج ایران میں تبدیلی کا عمل ریورس کرنے کی پہلی بھرپور مغربی و عرب کوشش تھی۔

 انیس سو اکیانوے کی جنگِ کویت کے بعد سے علاقے میں امریکی بیسز کی شکل میں اس اسٹرٹیجی کو ریڑھ کی ہڈی مل گئی۔یہ حکمتِ عملی نہ صرف ایرانی عزائم کے خلاف انشورنس پالیسی سمجھی گئی بلکہ خلیجی ریاستوں کی آپسی رقابتوں کو پسِ پشت ڈالنے کی خاطر بھی مشترکہ دفاع کی صورت میں ایک مقصد مل گیا اور یہ امید بھی بندھ گئی کہ ایک نہ ایک دن ایران سے مشترکہ دشمنی اسرائیل عرب تعاون کی راہ بھی کھول دے گی۔یوں امریکا کا علاقائی بوجھ بٹ جائے گا۔

مگر گذرے اٹھائیس فروری کے بعد سے علاقے کے حالات نے ایسی اچانک کروٹ لی ہے کہ اب یہ احساس ابھر رہا ہے کہ تمام انڈے ایک ہی توقعاتی ٹوکری میں رکھنے کا صدمہ جاں گسل بھی ہو سکتا ہے۔جنگ شروع ہونے سے پہلے خلیجی ریاستوں نے وائٹ ہاؤس جا کر صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کو بالمشافہ سمجھانے کی کوشش کی کہ کسی ممکنہ ایران امریکا اسرائیل جنگ کی صورت میں خلیج کا معاشی و جغرافیائی مستقبل بگڑ سکتا ہے اور یہ معاملہ محض خلیج تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عالمی معیشت پر بھی بری طرح اثرانداز ہو گا۔

مگر ٹرمپ انتظامیہ نے آخری فیصلہ اسرائیلی بریفنگ کی روشنی میں ہی کیا اور اپنے خلیجی اتحادیوں کو عملاً اس مہم جوئی کے نتائج بھگتنے کے لیے چھوڑ دیا۔

ٹیم ٹرمپ نے اس معرکے میں جس طرح اسرائیلی مفادات کو ترجیح دی اور خلیج کی اتحادی ریاستوں اور ان کے اسٹرٹیجک مفادات کو جس کھردرے انداز میں نکارا۔یہ تجربہ امارات کو چھوڑ کے ہر خلیجی اتحادی کے لیے چشم کشا ہے۔اب جب کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ کسی جامع سمجھوتے کی جانب بڑھتی نظر آ رہی ہے۔خلیج کے سیکیورٹی حلقوں کو سنجیدہ خدشہ ہے کہ ایسے کسی بھی معاہدے میں ان کی سلامتی اور تزویراتی مفادات کو اسرائیل کے علاقائی مفادات کے بعد ہی رکھا جائے گا۔

خلیجی ریاستوں نے گذشتہ چار عشروں میں بالخصوص امریکا کی حمائیت برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن تعاون کیا۔ غیر مشروط اڈوں اور دیگر سہولتوں کے ساتھ ساتھ امریکی تعمیراتی ، انرجی اور ٹیک کمپنیوں کی سرمایہ کاری کو بلا روک ٹوک خوش آمدید کہا۔

خلیج تعاون کونسل کے ارکان کی امریکا سے سالانہ تجارت کا حجم دو ہزار چوبیس میں ایک سو بیس بلین ڈالر سے زائد رہا۔خلیجی ریاستوں کا بنیادی ہدف یہ ہے کہ قومی آمدنی کے لیے محض تیل اور گیس پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ ایسا متبادل صنعتی و خدماتی ڈھانچہ استوار کیا جائے جو بعد از تیل و گیس بھی معاشی طور پر کارآمد رہے۔

گذشتہ برس باہمی قربت مزید بڑھتی دکھائی دی جب صدر ٹرمپ کے خلیجی ممالک کے دورے میں چار ٹریلین ڈالر سے زائد کے معاشی و تجارتی سرمایہ کاری سمجھوتے ہوئے۔اس ایک برس میں خلیجی ساورن ویلتھ فنڈز سے امریکی اثاثوں میں ستر ارب ڈالر کی اضافی سرمایہ کاری کی گئی۔

امریکا میں شرحِ سود اور افراطِ زر کو کم رکھنے اور ڈالر کوبطور ایک موثر اور فعال عالمی کرنسی برقرار رکھنے میں خلیجی ریاستوں کی جانب سے امریکی ٹریژری بانڈز میں سرمایہ کاری کا بھی بنیادی کردار ہے۔جب کہ دفاعی صنعت اور ٹیکنالوجی سیکٹرز میں ہزاروں امریکی ملازمتوں کا تحفظ بھی خلیجی ممالک کی جانب سے امریکی اسلحے کی وافر خریداری کا مرہونِ منت رہا ہے۔اس معاشی و اسٹرٹیجک تعاون کے عوض ان ریاستوں کی صرف ایک ہی بنیادی خواہش رہی کہ ان کے علاقائی مفادات کو بھلے اسرائیلی مفادات پر ترجیح نہ بھی ملے لیکن کم ازکم عرب مفادات کی اہمیت و حساسیت کو اہم فیصلوں کے دوران امریکی فیصلہ ساز اہمیت ضرور دیں۔

مثلاً یہی توقع کہ انرجی کا عالمی حساس مرکز ہونے کے سبب خلیج میں امن و استحکام یقینی طور پر برقرار رکھنا امریکا کی بنیادی ذمے داری ہے تاکہ ان ریاستوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے تسلسل میں کوئی خلل نہ آئے۔اس مقصد کے حصول کے لیے ان ریاستوں نے امریکا کی جانب دیکھنے کے ساتھ ساتھ ایران کے ساتھ بھی تصادم کے بجائے سفارت کاری ، مصالحت اور اچھی ہمسائیگی کی روایات مستحکم کرنے کا ڈول ڈالا۔

سعودی عرب اور ایران کو قریب لانے میں چینی سفارت کاری نے اہم کردار نبھایا۔سعودی عرب اس نتیجے پر پہنچا کہ یمن کی جنگی مہم اس کے ترقیاتی ویژن دو ہزار تیس کے اہداف کے حصول میں خواہ مخواہ کی اڑچن ہے۔چنانچہ اس جنگ سے پیچھے ہٹا گیا اور اس معاملے پر متحدہ عرب امارات سے کشیدگی بھی بڑھی۔

پاکستان اور ترکی کے ساتھ سعودی تعاون کی نئی راہیں کھولی گئیں۔چین اور روس نے ان کوششوں کو سراہا تاکہ ایسا علاقائی ڈھانچہ قائم ہو جو باہمی سلامتی اور ترقی کا ضامن بنے اور جس کا انحصار محض ایک طاقت ( امریکا ) کے مفادات سے نہ بندھا ہو۔یہ پالیسی اس طویل المیعاد امریکی پالیسی سے بھی ہم آہنگ ہے کہ مشرقِ وسطی میں ایسا بنیادی استحکام آ جائے جس کے بعد امریکا اپنی اسٹرٹیجک توجہ بحیرہ جنوبی چین اور بحرالکاہل کی جانب منتقل کر سکے ۔

مگر ٹرمپ نے ’’ مزید کوئی جنگ نہیں ‘‘ کی اپنی ہی انتخابی پالیسی کو نیتن یاہو کے دکھائے گئے سبز باغ میں گھس کے الٹ دیا اور دنیا کو یوں لگا گویا امریکی پالیسی امریکی مفادات کے تحفظ کے بجائے ’’ عظیم تر اسرائیل ‘‘ کے صیہونی پروجیکٹ کی سیوا میں لگ گئی۔ یہ پروجیکٹ علاقے میں افراتفری کی فضا برقرار رکھے بغیر مکمل ہونا مشکل ہے۔لہٰذا موجودہ لڑائی بھلے امریکا اور خلیجیوں کے مفادات میں نہ بھی ہو مگر اسرائیل کے لیے یہ جنگ نعمتِ غیر مترقبہ ہے۔یہ حالت جتنا طول پکڑے اسرائیلی ایجنڈے کے لیے اتنا ہی اچھا ہے۔

سرکردہ لبنانی مبصر حسین چوکر کا تجزیہ ہے کہ عرب بالخصوص خلیجی ریاستوں کو اب اس حقیقت سے آنکھیں چار کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر ان کا سب سے بڑا اتحادی اس علاقے سے ہزاروں میل دور ہے۔اس کا تہذیبی پس منظر و ترجیحات کی ترتیب ہی مختلف ہے اور بھلے دنیا ایک گلوبل ولیج ہی کیوں نہ کہلائے۔جغرافیے اور آبادی کی سیاسی و مفاداتی اہمیت نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔چنانچہ اب عرب دنیا کو دور پار سیکیورٹی تلاش کرنے کے بجائے اپنے محلے میں ہی تلاشِ امن کی حکمتِ عملی ترتیب دینا ہو گی۔

اس دنیا میں ہر شے بدل سکتی ہے سوائے ہمسائیوں کے۔اور ہمسائیوں کے سامنے دو ہی راستے ہیں۔یا تو لڑ بھڑ کے اور ایک دوسرے کا راستہ کاٹ کے زندہ رہیں یا پھر ایک دوسرے کے مفادات و ضروریات دھیان میں رکھتے ہوئے پرامن بقاِ باہمی کے تحت فالتو کے خرچے ، غلط فہمیوں اور خواہ مخواہ کی رقابتوں کو ایک جانب کرتے ہوئے اپنے ہمسائیوں کی ترقی کو رشک سے دیکھیں اور خود بھی قابلِ رشک بنیں۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)