نیروبی کی مضافاتی بستیوں میں جب شام ڈھلتی ہے تو فضا میں صرف کینیا کی مشہور کافی کی خوشبو نہیں ہوتی، بلکہ وہاں بارود کی بو اور جلے ہوئی ٹائروں کا دھواں ایک ایسی کہانی سناتا ہے جسے سرکاری گزٹ ہمیشہ سنسر کر دیتے ہیں۔ اکیس سالہ ’’کایوڈے ‘‘ ایک خستہ حال بینچ پر بیٹھا اپنی اُن انگلیوں کو دیکھ رہا ہے جن پر نیلے رنگ کا نشان اب بھی مدہم سا باقی ہے۔
یہ نشان اس ’’جمہوری حق‘‘کی گواہی تھا جو اس نے چند ماہ قبل استعمال کیا تھا۔ ’’کایوڈے ‘‘ کے جسم پر پولیس کی لاٹھیوں کے نشانات ابھی تازہ ہیں، مگر اس سے زیادہ گہرا زخم اس کے شعور پر لگا ہے۔ ریڈیو پر ایک پر اعتماد نسوانی آواز گونج رہی ہے۔تنزانیہ کی صدر ’’سامیہ صُلحو‘‘ کینیا کے صدر’’ولیم روتو‘‘ کے پہلو میں بیٹھی،’’کایوڈے ‘‘اور اس کی نسل کو ’’بدتمیز بچے‘‘ اور ’’شر پسند‘‘ قرار دے رہی ہیں۔
یہ محض ایک سیاسی بیان نہیں تھا، یہ اس ’’سماجی معاہدے‘‘ کی موت کا اعلان تھا جس کی بنیاد پر جدید ریاست کا تصور کھڑا ہے۔ کایوڈے نے سوچا، ’’اگر میرا ووٹ مجھے ’بدمعاش‘بناتا ہے، تو پھر وہ 98 فی صد کیا ہے جس کا جشن پڑوسی ملک میں منایا جا رہا ہے؟‘‘
تنزانیہ کی تاریخ ’’جولیئس نیئریرے‘‘ کے خوابوں سے شروع ہوئی تھی، جہاں ’’اُجاما‘‘ کے نام پر افریقی سوشلزم کا علم بلند کیا گیا۔ مگر وقت کے بے رحم پہیے نے ثابت کیا کہ جب ریاست کے پاس لامحدود طاقت آ جائے تو وہ ’’ اخوت‘‘کو ’اطاعت'‘میں بدلنے میں دیر نہیں لگاتی۔ ’جان میگوفولی‘ کے دور میں جس جبر نے جنم لیا، اسے ’’بلڈوزر‘‘ کا نام دیا گیا۔ لیکن مئی 2026 میں ’’سامیہ صُلحو‘‘ کے دوراقتدار نے اس جبر کو ایک نئی ’جمہوری وردی‘ پہنا دی ہے۔
اعداد و شمار کی دنیا میں 98 فی صد کا ہندسہ ایک معجزہ ہوتا ہے، مگر سیاسیات میں یہ ’’کفن‘‘کی علامت ہے۔ کسی بھی زندہ معاشرے میں جہاں انسان سانس لیتے ہوں، وہاں 98 فی صد اتفاق رائے صرف قبرستان میں ہی ممکن ہے۔ تنزانیہ کے حالیہ انتخابات میں ’’سامیہ صُلحو ‘‘کی یہ ’’عظیم الشان فتح‘‘دراصل اپوزیشن لیڈر ’’تندو لیسو‘‘کی گرفتاری، جبری گمشدگیوں اور ان ہزاروں نوجوانوں کی خاموشی کا نتیجہ ہے جنھیں پولنگ اسٹیشن تک پہنچنے سے پہلے ہی ’نظام کا دشمن‘ قرار دے دیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی تشویش اور بین الاقوامی مبصرین کی تردید کے باوجود، یہ 98 فی صد نتیجہ اس عالمی منڈی میں قبول کر لیا گیا جہاں انسانی حقوق سے زیادہ ’استحکام‘ کی قیمت لگتی ہے۔
مئی 2026 کا یہ منظرنامہ کہ دو صدور مل کر ’باغی نسل‘ کو کچلنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، ایک خطرناک عالمی رجحان کی نشان دہی کرتا ہے۔ کینیا کے صدر ولیم روتو، جو خود کو ’’ہسلر‘‘ یعنی عام آدمی کا نمایندہ کہہ کر اقتدار میں آئے تھے، آج اسی عام آدمی کے خلاف تنزانیہ کی ’’انتخابی آمریت‘‘ سے راہ نمائی لے رہے ہیں۔
خبر کا تجزیہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ صدر سامیہ کا ’’روایات‘‘ اور ’’ثقافت‘‘کو ڈھال بنانا دراصل ایک فکری دھوکا ہے۔ جب وہ کہتی ہیں کہ ’’ہماری جمہوریت کا کوئی فارمولا نہیں‘‘، تو وہ دراصل یہ کہہ رہی ہوتی ہیں کہ ہمیں ہرقسم کی جواب دہی سے استثنا حاصل ہے۔ یہاں ’’روایت‘‘ سے مراد ’’بزرگوں کی عزت نہیں‘‘ بلکہ ’’اقتدار کی پرستش‘‘ہے۔ جب ریاست نوجوانوں کو ’’اَن رُولی‘‘ (بے لگام) کہتی ہے، تو وہ دراصل ان کے اس شعور سے خوفزدہ ہوتی ہے جو ان کے ڈیجیٹل رابطوں اور عالمی معلومات سے کشید کیا گیا ہے۔
یہ صورت ِحال جدید لبرل ڈیموکریسی کے اُس ڈھانچے کو بے نقاب کرتی ہے جسے ’’منظم رضامندی‘‘کہا جاتا ہے۔ اس نظام میں عوام کو ’’ووٹ‘‘دینے کی آزادی تو دی جاتی ہے، مگر ’’انتخاب‘‘ کی نہیں۔ آپ کو یہ حق حاصل ہے کہ آپ اپنے جلاد خود چُنیں، مگر آپ کو یہ حق حاصل نہیں کہ آپ اس ’’مقتل‘‘ کے خلاف سوال اٹھائیں۔
جدید جمہوریت دراصل ایک ایسا کارخانہ ہے جہاں عوام کی مرضی کو میڈیا، سرمائے اور ریاستی جبر کے ذریعے بُنا جاتا ہے۔ کینیا اور تنزانیہ کا یہ گٹھ جوڑ ثابت کرتا ہے کہ جب سرمایہ دارانہ ڈھانچے کو خطرہ لاحق ہوتا ہے، تو وہ ’’انسانی حقوق‘‘ کا لبادہ اتار کر اپنی اصل شکل یعنی ’’آمریت‘‘ میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ ’’جین زی‘‘ کے نوجوان صرف ٹیکسوں کے خلاف نہیں لڑ رہے، وہ اس ’عالمی اسٹرکچر‘کے خلاف لڑ رہے ہیں جو انھیں محض ’’ہیومن ریسورس‘‘ سمجھتا ہے۔
اوریہ المیہ صرف مشرقی افریقا تک محدود نہیں۔ بھارت سے لے کر امریکا تک اور مشرق وسطی سے لے کر لاطینی امریکا تک، ہم ایک ایسے عہد میں داخل ہو چکے ہیں جہاں ریاستیں ’’انتخابی عمل‘‘ کو اپنے جبر کے لیے ایک قانونی جواز کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ یہ ایک ایسی دنیا ہے جہاں:
1۔ قانون صرف طاقتور کے تحفظ کا نام ہے۔
2۔معیشت صرف قرضوں کے جال میں عوام کو جکڑنے کا فن ہے۔
3۔امن صرف ان آوازوں کی خاموشی ہے جو عدل کا مطالبہ کرتی ہیں۔
اعداد و شمار کی یہ لکیریں دراصل اس ’’منظم رضامندی‘‘کے جغرافیے کی حد بندی کرتی ہیں۔ کینیا، جس کا مجموعی قرضہ اس کی جی ڈی پی کے 70 فی صد سے تجاوز کر چکا ہے، اب اپنے نوجوانوں سے ’’جمہوریت‘‘ کا تقاضا نہیں بلکہ ’’قرض کی قسط‘‘ وصول کرنا چاہتا ہے۔ جب مشرقی افریقہ کی75فی صد سے زائد آبادی 35 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہو، تو صدر سامیہ کا 98 فی صد انتخابی نتیجہ ایک ریاضیاتی تضاد بن جاتا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ نسل جس کی بے روزگاری کی شرح خطے میں 13 فی صد کی حد عبور کر رہی ہو اور جس کی قوتِ خرید افراطِ زر کے 8 فی صد کے بوجھ تلے دم توڑ چکی ہو، وہ یک زبان ہو کر اسی نظام کو دوام بخشے جو اسے بھوک بانٹ رہا ہے؟
کینیا کے حالیہ احتجاجات میں 60 سے زائد جانوں کا نذرانہ اور تنزانیہ میں اپوزیشن کے سیکڑوں کارکنوںکی جبری نظربندی اس ’’انتخابی آمریت‘‘ کا وہ تاریک ڈیٹا ہے جسے کوئی سرکاری ایگورتھم چھپا نہیں سکتا۔ عالمی مالیاتی اداروں کا 10 بلین ڈالر سے زائد کا قرضہ وہ بیڑی ہے جو ان قوموں کے پیروں میں پہنائی گئی ہے تاکہ وہ ’’آزادی‘‘ کے نام پر صرف اپنی زنجیروں کا وزن تبدیل کر سکیں۔ جب اعداد سچ بولنے لگیں، تو آمریتیں ’’روایات‘‘ کے پیچھے پناہ لیتی ہیں، مگر یہ حقائق اب تاریخ کے ماتھے پر وہ رقم بن چکے ہیں جسے مٹانا کسی ’’شاہی ٹھوکر‘‘ کے بس میں نہیں۔
صدر سامیہ صلحو کا یہ کہنا کہ وہ احتجاج کرنے والوں کو ’’ٹھوکر مار کر نکال دیں گی‘‘ اس بات کا اعتراف ہے کہ اب ریاست کے پاس کوئی ’’اخلاقی دلیل‘‘ باقی نہیں رہی۔ جب دلیل ختم ہوتی ہے، تو لاٹھی شروع ہوتی ہے۔ مگر وہ یہ بھول رہی ہیں کہ تاریخ میں کسی بھی ’’ٹھوکر‘‘ نے سیلاب کا راستہ نہیں روکا۔
’’کایوڈے ‘‘ اب بھی اُس ریڈیو کو سن رہا ہے، مگر اُس کی نظریں افق پر جمی ہیں۔ وہ سوچ رہا ہے کہ کیا جمہوریت واقعی وہ روشنی تھی جس کا وعدہ اس کے آباؤ اجداد سے کیا گیا تھا یا یہ صرف اندھیرے کو منظم کرنے کا ایک طریقہ ہے؟
آج کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ کس نے کتنے فی صد ووٹ لیے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے جمہوریت کو اس لیے اپنایا تھا کہ وہ ہماری آواز بنے یا اس لیے کہ وہ ہمیں یہ احساس دلائے کہ ہماری غلامی میں ہماری اپنی ’’رضامندی‘‘ شامل ہے؟
جدید جمہوریت وہ مقتل ہے جہاں انسان اپنی مرضی سے چل کر جاتا ہے، صرف اس فریب میں کہ اس بار چھری کا رنگ اس کی اپنی پسند کا ہوگا۔