خیبر پختونخوا میں دہشت گرد حملے اور حقائق

ویسے تو یہ بات حقیقت ہے کہ جب سے پاکستان نے افغانستان میں دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے ۔


[email protected]

ویسے تو یہ بات حقیقت ہے کہ جب سے پاکستان نے افغانستان میں دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے ۔ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی ہوئی ہے۔ بالخصوص خود کش حملوں کی شرح میں کافی حد تک کمی ہوئی ہے۔ افغانستان میں دہشت گردوں کو نشانہ بنانے سے پاکستان کو کافی فائدہ ہوا ہے۔لیکن پھر بھی دہشت گردی ابھی مکمل ختم نہیں ہوئی ہے۔ دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں۔ دہشت گرد اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں۔

حال ہی میں کے پی میں بنوں میں فتح خیل پولیس اسٹیشن پر خود کشن حملہ کیا گیا ہے۔ یہ پولیس اسٹیشن بنوں شہر سے پانچ کلومیٹر دور واقع ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ پولیس اسٹیشن نسبتا آبادی سے دور ہے۔ لیکن اس پولیس اسٹیشن کو اس سے پہلے بھی کئی بار دہشت گرد نشانہ بنانے کی کوشش کر چکے ہیں۔ لیکن اس بار وہ کامیاب ہو گئے ہیں۔ پنجاب کے شہر اٹک میں بھی ایک واقعہ ہو اہے۔ لیکن وہاں خود شک حملہ آور اپنے ٹارگٹ کو نشانہ نہیں بنا سکا ہے۔ بلکہ پہلے ہی پکڑ اگیا۔ اور اس نے خود کا وڑا لیا۔ جس کی وجہ سے وہ نقصان نہیں ہوا۔منگل کے روز لکی مروت کے سرائے نورنگ بازار میں بھی دہشت گردی کا واقعہ ہوا ہے۔

 بنوں واقعہ میں خیبر پختونخوا پولیس کے 15 جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا جب کہ 3 جوان زخمی ہیں۔ 2 جوان دھماکے کی زد میں آ کر شہید ہوئے جب کہ باقی 13 جوان پولیس اسٹیشن کی چھت گرنے سے ملبے تلے دب کر شہید ہوئے۔ بنوں اور اس کے ملحقہ علاقے عرصہ دراز سے دہشت گردی کا نشانہ بنائے جا رہے ہیں۔قبل ازیں دہشت گردوں کی کارروائیاں بنوں چھاؤنی اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف کی جاتی رہی ہیں، تاہم سیکیورٹی فورسز کی مربوط اور پُراَثر جوابی کارروائی اور حفاظتی اقدامات کی وجہ سے دہشت گردوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

دہشت گردوں کو جب یہ احساس ہو اکہ وہ اب سیکیورٹی فورسز کو نشانہ نہیں بنا سکتے بلکہ اس میں دہشت گردوں کا زیادہ نقصان ہو جاتا ہے تو اب انھوں نے  سافٹ ٹارگٹس بشمول سویلینز اور پولیس کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ پولیس کو اس سے پہلے بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ کچھ عرصہ قبل بنوں میںپولیس نے کم وسائل اور دیگر وجوہات کی بنا پر احتجاج بھی کیا تھا۔ پولیس جدید اسلحہ اور دہشت گردوں سے نبٹنے کے لیے جدید سہولیات مانگ رہی تھی۔ لیکن کے پی حکومت نے اس جانب کوئی خاص توجہ نہیں دی ۔

یہ کہان غلط نہ ہوگا کہ وسائل اور سہولیات کے حوالے سے کے پی پولیس پنجاب، سندھ بلکہ اب تو بلوچستان سے بھی پیچھے ہے۔ان کے پا س نہ تو جدید اسلحہ ہے نہ بلٹ پروف جیکٹس ہیں۔ نہ دیگر بنیادی سہولیات موجود ہیں۔ جس سے وہ دہشت گردوں کا مقابلہ کر سکیں۔ دہشت گردی کے واقعات میں پولیس کے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا جائے تو چند تشویشناک حقائق سامنے آتے ہیں۔

 یہ بھی حقیقت ہے کہ گزشتہ پندرہ سال سے کے پی میں تحریک انصاف کی حکومت آئی ہے، یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ کے پی میں تحریک انصاف کی یہ مسلسل تیسری حکومت ہے۔ آج وہاں جو بھی صورتحال ہے اس کی براہ راست ذمے د اری تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اور پارٹی پر آتی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کے تمام صوبائی ڈیپارٹمنٹس کو سیاست زدہ کردیا گیا ہے، پولیس ڈیپارٹمنٹ کو سب سے زیادہ سیاست زدہ کر دیا گیا ہے۔ پولیس کی پوسٹنگز، ٹرانسفرز اور بھرتیاں پولیس اتھارٹی کی عملداری میں ہونے کے بجائے تحریک انصاف کے وزیراعلیٰ، وزراء، MNAs، MPAs اور مقامی سیاستدانوں کے ہاتھوں میں ہیں، جس کی وجہ سے خیبر پختونخوا پولیس کی پیشہ ورانہ کارکردگی اور استعداد بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ دہشتگردی کا شکار صوبے میں پولیس کو سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھانا، عوام کے تحفظ اور صوبے میں امن و امان کی بہتری کے لیے زہرِ قاتل ہے۔

 خیبر پختونخوا پولیس کے تمام تھانوں اور عمارتوں کی ناگفتہ حالت صوبے کی سیاسی حکومت کی ترجیحات پر سوالیہ نشان اٹھاتی ہے۔ فتح خیال تھانے کی حالت بھی بہت خستہ تھی۔ بلڈنگ ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی۔ یہی حالات پورے کے پی میں ہیں۔ کے پی حکومت کی اس جانب کوئی توجہ ہی نہیں ہے۔ اس کے ساتھ تمام صوبوں میں پولیس کے ساتھ سی ٹی ڈی کا محکمہ بنایا گیا ہے۔ جو دہشت گردی اور دہشت گردوں سے نبٹتا ہے۔ سی ٹی ڈی بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ پولیس دہشت گردوں سے نبٹ سکے۔ کے پی کا سی ٹی ڈی بھی نہ ہونے کے برابرہے۔ حالانکہ وہاں دہشت گردی سب سے زیادہ ہے۔ لیکن سی ٹی ڈی سب سے کمزور ہے۔ یہ کس کی نا اہلی ہے؟ اس پر بھی بات ہونی چاہیے بلکہ ذمے داروں کا احتساب ہونا چاہیے۔

 اگر صرف بنوں کی ہی بات کی جائے تو بنوں کی مقامی سیاسی قیادت، جس میں پی ٹی آئی، جے یو آئی ایف اور جماعتِ اسلامی نمایاں ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ان جماعتوں کی مقامی سیاسی پولیس فورس کے ساتھ کھڑی ہوتاکہ پولیس کا مورال بلند ہو ، لیکن یہاں الٹی گنگا بہتی ہے، تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کی قیادت دہشت گردوں، ٹی ٹی پی اور طالبان کی دہشت گردی کے خلاف مظاہرے یا احتجاج نہیں کرتی بلکہ پولیس تھانوں، چیک پوسٹوں کے خلاف احتجاجی کرتی رہتی ہے اور ان کے نقصانات گنواتی رہتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ پولیس کی وجہ سے دہشت گردی ہوتی ہے، دنیا کے شاید ہی کسی ملک میں اس قسم کی سیاست ہوتی ہوگی، یہ سب سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کر رہی ہیں۔ ان تین سیاسی جماعتوں کی آپس کی کھینچا تانی نے بنوں کے انتظامی امور کو پسِ پشت ڈال رکھا ہے۔پولیس کے اتنے بڑے جانی نقصان کے بعد بھی یہ لوگ پولیس کی بجائے دوسری طرف کھڑے نظر آرہے ہیں۔ بلکہ خیبر پختوا کی پوری پشتو بیلٹ میں یہی صورتحال ہے۔

 پولیس کے معاملات میں سیاسی دخل اندازی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ مقامی اور صوبائی سطح پر اپنے سیاسی کارکنوں کو بھرتی کرایا جاتا ہے اور ان اہلکاروں کے ذریعے کسی بھی دہشتگردی کے واقعے کے بعد ایک مخصوص سیاسی ایجنڈے کی ترویج کی جاتی ہے، جس کا مقصد سیکیورٹی اداروں اور پولیس کے محبِ وطن اور دیانت دار عناصر کو تنقید کا نشانہ بنانا ہوتا ہے۔ یہ عناصر پولیس کی صفوں میں مایوسی اور Frustation پھیلاتے ہیں، جس سے ان سیاسی عناصر کے مفادات کا تحفظ ہوتا ہے۔ پولیس کی پیشہ ورانہ استعداد میں کی گئی غفلتیں ماضی میں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ بنوں میں آج سے تین سال قبل CTD تھانے کے اہلکاروں کو یرغمال بنایا گیا، جس کے بعد سیکیورٹی اداروں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے تھانے کو دہشتگردوں سے پاک کیا۔

 جب تک کے پی پولیس کی استعداد، عملداری اور اپنے انفراسٹرکچر کی مضبوطی کے لیے اقدامات نہیں اٹھائے جائیں گے، اس طرح کے نقصانات کا خطرہ برقرار رہے گا۔ خیبر پختونخوا میں جاری دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تحریکِ انصاف اور کلعدم تنظیم کی قیادت مسلسل‘‘اچھے اور برے طالبان’’کا نام نہاد بیانیہ بنا کر سیکیورٹی اداروں اور پنجاب پر تنقید کرتی ہیں۔ حالانکہ دہشتگردی کی اس جنگ میں اچھا طالبان صرف مرا ہوا طالبان ہے۔ اس دو ٹوک مؤقف کی موجودگی میں اچھے اور برے طالبان کا بیانیہ عوام کے تحفظ کے سلسلے میں اپنی ناکامی کو چھپانے کے مترادف ہے۔

 موجودہ بحران کے پیشِ نظر خیبر پختونخوا پولیس کے انفراسٹرکچر کی قلعہ بندی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پولیس لائنز، چیک پوسٹوں اور تھانوں کی سیکیورٹی کو جدید ٹیکنالوجی، جیمرز اور حفاظتی باڑ کے ذریعے ناقابلِ تسخیر بنایا جائے۔ بنوں حملوں کے ماسٹر مائنڈ حافظ گل بہادر اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف حتمی اور فیصلہ کن آپریشن ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ ان خوارج کے نیٹ ورک اور مالی معاونت کے تمام ذرائع کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے کابل حکومت پر سفارتی اور عسکری دباؤ بڑھایا جائے اور انھیں واضح باور کرایا جائے کہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کا خاتمہ یقینی بنائیں۔

 سیاسی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر پولیس کو مکمل خود مختاری دی جائے، تبادلوں، تعیناتیوں اور نئی بھرتیوں کے تمام اختیارات محکمہ پولیس کے پاس ہونے چاہئیں تاکہ فورس بغیر کسی سیاسی دباؤ کے پیشہ ورانہ فرائض سرانجام دے سکے۔