کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن حتمی کامیابی تک جاری رہے گا قائم علی شاہ
سندھ اور بلوچستان کے تاریخی تعلقات ہیں، بلوچ بھائیوں کی بھرپور مدد کرینگے، وزیراعلیٰ
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ بلوچستان میں زلزلے میں زخمی شہری کو امدادی رقم کا چیک دے رہے ہیں۔ فوٹو: اے پی پی
وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ نے کہاکہ دہشت گردوں،اغواکاروں اوربھتہ خوروںکے خلاف ٹارگٹڈآپریشن کراچی سے ان کے مکمل خاتمے اورحتمی کامیابی تک جاری رہے گا۔
سیاسی جماعتیں اپنے عہدکی تجدیدکریں کہ وہ جرائم پیشہ عناصرکی کسی بھی طرح کی سرپرستی نہیں کریںگی کیونکہ مجرم صرف اورصرف مجرم ہوتاہے اور ان کاکوئی دین ایمان یامذہب نہیں ہوتا۔بدھ کوجناح اسپتال میں بلوچستان کے علاقے آواران کے زلزلہ متاثرین،زخمیوں کی عیادت اورزخمیوں کو فی کس ایک لاکھ روپے کے چیک دینے کے بعد میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ ٹارگٹڈآپریشن کے آغازسے قبل ہمارے کچھ دوستوں نے حکومت پرتنقیدکی تھی کہ حکومت مجرموںکیخلاف سخت اقدامات نہیں کررہی اورانھوں نے دہشت گردوں اور دیگر جرائم پیشہ افراد کے خلاف سخت سے سخت کارروائی اور آپریشن کا مطالبہ کیا تھا،4 ستمبر 2013 کو وزیراعظم پاکستان کے دورہ کراچی کے موقع پرتما م سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نے متفقہ طورپرٹارگٹڈ آپریشن پر اتفاق کیاتھا،تمام جماعتوں نے ٹارگٹڈ آپریشن میں کسی بھی قسم کی مداخلت اور مجرموں کی حمایت سے گریزپربھی اتفاق کیا تھا،اب جب کہ متعدد کلرز،مجرموں کوگرفتار کیاجاچکاہے اور ان سے بھاری مقدار میں ہتھیاربرآمدکرلیے گئے ہیں توحکومت پرتنقیدکی جارہی ہے۔
انھوں نے کہاکہ حکومت اس تنقیدکے آگے نہیں جھکے گی بلکہ آپریشن جاری رکھے گی اورگرفتارملزمان کوشواہدکے ساتھ عدالتوں میں پیش کرے گی،ٹارگٹڈآپریشن کاسماجی اور معاشی سر گرمیوں پربڑااچھامثبت اثر پڑاہے اوراس کے نتیجے میں بدنام کلرز اوردہشت گردوںکوگرفتار کیاگیا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ کے بلوچستان کیساتھ تاریخی روابط اورتعلقات ہیں اورہم بلوچوں کو اپنا بھائی تصور کرتے ہیں اورہرمشکل گھڑی میں ہم ان کے ساتھ کھڑے ہوںگے،ڈاکٹروں کو ہدایت کی گئی ہے وہ مریضوں کا بھرپور طریقے سے حکومتی اخراجات پر علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کریں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ووٹوں کی تصدیق کے بارے میں نادرایا الیکشن کمیشن سے پوچھاجائے کیونکہ وہی اس سلسلے میں متعلقہ ذمے دار ادارے ہیں۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ سندھ اسپتال کے وارڈ میں گئے جہاں پر زیر علاج زخمی افرادسے انہوں نے فردا ًفرداًان کے بیڈ پر جاکر ان کی خیریت دریافت کی۔
سیاسی جماعتیں اپنے عہدکی تجدیدکریں کہ وہ جرائم پیشہ عناصرکی کسی بھی طرح کی سرپرستی نہیں کریںگی کیونکہ مجرم صرف اورصرف مجرم ہوتاہے اور ان کاکوئی دین ایمان یامذہب نہیں ہوتا۔بدھ کوجناح اسپتال میں بلوچستان کے علاقے آواران کے زلزلہ متاثرین،زخمیوں کی عیادت اورزخمیوں کو فی کس ایک لاکھ روپے کے چیک دینے کے بعد میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ ٹارگٹڈآپریشن کے آغازسے قبل ہمارے کچھ دوستوں نے حکومت پرتنقیدکی تھی کہ حکومت مجرموںکیخلاف سخت اقدامات نہیں کررہی اورانھوں نے دہشت گردوں اور دیگر جرائم پیشہ افراد کے خلاف سخت سے سخت کارروائی اور آپریشن کا مطالبہ کیا تھا،4 ستمبر 2013 کو وزیراعظم پاکستان کے دورہ کراچی کے موقع پرتما م سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نے متفقہ طورپرٹارگٹڈ آپریشن پر اتفاق کیاتھا،تمام جماعتوں نے ٹارگٹڈ آپریشن میں کسی بھی قسم کی مداخلت اور مجرموں کی حمایت سے گریزپربھی اتفاق کیا تھا،اب جب کہ متعدد کلرز،مجرموں کوگرفتار کیاجاچکاہے اور ان سے بھاری مقدار میں ہتھیاربرآمدکرلیے گئے ہیں توحکومت پرتنقیدکی جارہی ہے۔
انھوں نے کہاکہ حکومت اس تنقیدکے آگے نہیں جھکے گی بلکہ آپریشن جاری رکھے گی اورگرفتارملزمان کوشواہدکے ساتھ عدالتوں میں پیش کرے گی،ٹارگٹڈآپریشن کاسماجی اور معاشی سر گرمیوں پربڑااچھامثبت اثر پڑاہے اوراس کے نتیجے میں بدنام کلرز اوردہشت گردوںکوگرفتار کیاگیا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ کے بلوچستان کیساتھ تاریخی روابط اورتعلقات ہیں اورہم بلوچوں کو اپنا بھائی تصور کرتے ہیں اورہرمشکل گھڑی میں ہم ان کے ساتھ کھڑے ہوںگے،ڈاکٹروں کو ہدایت کی گئی ہے وہ مریضوں کا بھرپور طریقے سے حکومتی اخراجات پر علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کریں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ووٹوں کی تصدیق کے بارے میں نادرایا الیکشن کمیشن سے پوچھاجائے کیونکہ وہی اس سلسلے میں متعلقہ ذمے دار ادارے ہیں۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ سندھ اسپتال کے وارڈ میں گئے جہاں پر زیر علاج زخمی افرادسے انہوں نے فردا ًفرداًان کے بیڈ پر جاکر ان کی خیریت دریافت کی۔