بلوچستان کے موجودہ حالات فوجی آپریشنز کا نتیجہ ہیں محمد خان اچکزئی

اغوا برائے تاوان کے واقعات صرف قلات کے علاقے میں رونما ہوتے ہیں، گورنر بلوچستان

جو سہولیات باقی صوبوں کے عوام کو حاصل ہیں وہ بلوچ عوام کو بھی ملنی چاہئیں، گورنر بلوچستان. فوٹو: فائل

RAWALPINDI:
گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں جو کچھ ہورہا ہے وہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک کئے گئے فوجی آپریشنز کا ردعمل ہے۔


اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے کہا کہ لاپتہ افراد کی ذمہ داری کسی پر نہیں ڈالی جاسکتی، بلوچستان میں اغوا برائے تاوان کے واقعات صرف قلات کے علاقے میں رونما ہوتے ہیں جبکہ باقی بلوچستان میں ایسی صورتحال نہیں ہے، بلوچستان میں جو کچھ ہورہا ہے وہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک کئے گئے فوجی آپریشنز کا ردعمل ہے، ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے وسائل پر صرف بلوچوں کا حق ہونا چاہیئے، سوئی گیس 1960 میں نکلی مگر کوئٹہ کو اب مل رہی ہے، جبکہ صحت اور تعلیم کے وسائل نہ ہونے کے برابر ہے، جو سہولیات باقی صوبوں کے عوام کو حاصل ہیں وہ بلوچ عوام کو بھی ملنی چاہئیں۔

گورنر بلوچستان نے بتایا کہ بلوچستان کی چودہ رکنی کابینہ 14 اکتوبر تک حلف اٹھالے گی، کابینہ میں مسلم لیگ (ن) کے 6 جبکہ نیشنل پارٹی اور پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے 4،4 وزرا شامل ہوں گے اس کے علاوہ تینوں جماعتوں سے 3،3 مشیر بھی لئے جائیں گے۔
Load Next Story