بچوں کے جنسی استحصال کا عالمی نیٹ ورک پکڑے جانے کا انکشاف
پاکستان میں بھی بچوں سے زیادتیوں اور قتل کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
پاکستان میں بھی بچوں سے زیادتیوں اور قتل کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ فوٹو:فائل
امریکی، برطانوی اور کورین حکام نے واشنگٹن میں ایک نیوز بریفنگ میں انکشاف کیا ہے کہ انھوں نے بچوں کے عالمی پورنوگرافی نیٹ ورک کے سب بڑے گینگ کا سراغ لگا کر متعدد ملزموں کو گرفتار کر لیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق جنوبی کوریا کے حکام نے ایک ویب سرور کی تحقیقات کیں اور وہاں سے ایک ایسی ویب سائٹ کا سراغ لگایا جس میں دس لاکھ سے زیادہ کوائف موجود تھے جس کا مطلب تھا کہ اس ویب سائٹ کو دس لاکھ سے زیادہ لوگ استعمال کر رہے ہیں۔ اس تحقیق کی روشنی میں برطانیہ، اسپین اور امریکا میں پولیس نے کریک ڈاون کر کے23 کمسن بچوں کو بازیاب بھی کرا لیا ہے جن کا اس ویب سائٹ کے ذریعے جنسی استحصال کیا جا رہا تھا۔
انٹرنیٹ کی بنیاد پر یہ ویب سائٹ بچوں کے جنسی استحصال کا دنیا کا سب سے بڑا نیٹ ورک قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی ڈپٹی اسسٹنٹ اٹارنی جنرل رچرڈ ڈاؤننگ نے بتایا ہے کہ اس نیٹ ورک نے بہت بڑی مارکیٹ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ سیکڑوں مشتبہ افراد کا کھوج لگا لیا گیا ہے جو بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث ہوسکتے ہیں۔ اس نیٹ ورک کے لیے Bitcoin کے ذریعے فنڈز دیے گئے ہیں۔
واشنگٹن کی جیوری کو بتایا گیا کہ اس ضمن میں جنوبی کوریا کے ایک23 سالہ شہری پر اس ویب سائٹ کو چلانے کا الزام ہے۔ امریکی عدالت نے ملزموں پر نو الزامات عائد کیے جنھیں افشاء کر دیا گیا، اس کے علاوہ ان پر کئی سول چارج بھی عاید کیے گئے، انھیں حراست میں بھی لے لیا گیا ہے۔ حکام نے 337 دیگر افراد کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔
یہ لوگ امریکی ریاست الباما' آرکنساس' کیلی فورنیا'کونٹی کٹ' فلوریڈا' جارجیا' لیوزیانہ' میری لینڈ' میاچوسٹس' نیبراسکا' نیو جرسی' نیو یارک' کیرولینا' ٹکساس' اوٹاہ' ورجینیا اور واشنگٹن کے بہت سارے لوگ اس شرمناک ویب سائٹ کو استعمال کر رہے ہیں۔ بعض مشتبہ افراد کو برطانیہ میں بھی پکڑا گیا ہے۔ گرفتاریاں جنوبی کوریا' جرمنی اور گلف کے دو ملکوں میں بھی ہوئی ہیں جب کہ چیک ری پبلک' کینیڈا' آئر لینڈ اور اسپین میں بھی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔
امریکی اسسٹنٹ اٹارنی جنرل برین بین چیسکووسکی نے کہا ہے کہ ڈارک نیٹ ویب سائٹس سے وسیع پیمانے پر رقوم کمائی گئی ہیں۔ انھوں نے کہا امریکی انتظامیہ اس قسم کے کاروبار کو جاری رہنے کی ہرگز اجازت نہیں دے سکتی۔ انھوں نے بتایا کہ امریکا کا جسٹس ڈیپارٹمنٹ جنوبی کوریا کے بچوں کے والدین کے ساتھ قریبی رابطے میں کام کر رہا ہے اور سب سے زیادہ توجہ معصوم بچوں کو اس سے نجات دلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ڈارک نیٹ سائٹس انٹرنیٹ کی دنیا کا انتہائی مکروہ اور شرمناک حصہ ہیں۔ یہ عالمی سطح پر پھیلا ہوا گھناونے جرائم کا نیٹ ورک ہے جو عام دنیا کی نظروں سے اوجھل ہے۔ پاکستان میں بھی بچوں سے زیادتیوں اور قتل کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان کی حکومت کو بھی اپنے سائبر کرائمز نیٹ ورک کو زیادہ سے زیادہ فعال بنانا چاہیے تاکہ یہ بیماری جو ترقی یافتہ ملکوں میں پھیل چکی ہے، اسے یہاں اپنے پنجے گاڑنے سے پہلے ہی ختم کردیا جائے۔
اطلاعات کے مطابق جنوبی کوریا کے حکام نے ایک ویب سرور کی تحقیقات کیں اور وہاں سے ایک ایسی ویب سائٹ کا سراغ لگایا جس میں دس لاکھ سے زیادہ کوائف موجود تھے جس کا مطلب تھا کہ اس ویب سائٹ کو دس لاکھ سے زیادہ لوگ استعمال کر رہے ہیں۔ اس تحقیق کی روشنی میں برطانیہ، اسپین اور امریکا میں پولیس نے کریک ڈاون کر کے23 کمسن بچوں کو بازیاب بھی کرا لیا ہے جن کا اس ویب سائٹ کے ذریعے جنسی استحصال کیا جا رہا تھا۔
انٹرنیٹ کی بنیاد پر یہ ویب سائٹ بچوں کے جنسی استحصال کا دنیا کا سب سے بڑا نیٹ ورک قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی ڈپٹی اسسٹنٹ اٹارنی جنرل رچرڈ ڈاؤننگ نے بتایا ہے کہ اس نیٹ ورک نے بہت بڑی مارکیٹ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ سیکڑوں مشتبہ افراد کا کھوج لگا لیا گیا ہے جو بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث ہوسکتے ہیں۔ اس نیٹ ورک کے لیے Bitcoin کے ذریعے فنڈز دیے گئے ہیں۔
واشنگٹن کی جیوری کو بتایا گیا کہ اس ضمن میں جنوبی کوریا کے ایک23 سالہ شہری پر اس ویب سائٹ کو چلانے کا الزام ہے۔ امریکی عدالت نے ملزموں پر نو الزامات عائد کیے جنھیں افشاء کر دیا گیا، اس کے علاوہ ان پر کئی سول چارج بھی عاید کیے گئے، انھیں حراست میں بھی لے لیا گیا ہے۔ حکام نے 337 دیگر افراد کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔
یہ لوگ امریکی ریاست الباما' آرکنساس' کیلی فورنیا'کونٹی کٹ' فلوریڈا' جارجیا' لیوزیانہ' میری لینڈ' میاچوسٹس' نیبراسکا' نیو جرسی' نیو یارک' کیرولینا' ٹکساس' اوٹاہ' ورجینیا اور واشنگٹن کے بہت سارے لوگ اس شرمناک ویب سائٹ کو استعمال کر رہے ہیں۔ بعض مشتبہ افراد کو برطانیہ میں بھی پکڑا گیا ہے۔ گرفتاریاں جنوبی کوریا' جرمنی اور گلف کے دو ملکوں میں بھی ہوئی ہیں جب کہ چیک ری پبلک' کینیڈا' آئر لینڈ اور اسپین میں بھی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔
امریکی اسسٹنٹ اٹارنی جنرل برین بین چیسکووسکی نے کہا ہے کہ ڈارک نیٹ ویب سائٹس سے وسیع پیمانے پر رقوم کمائی گئی ہیں۔ انھوں نے کہا امریکی انتظامیہ اس قسم کے کاروبار کو جاری رہنے کی ہرگز اجازت نہیں دے سکتی۔ انھوں نے بتایا کہ امریکا کا جسٹس ڈیپارٹمنٹ جنوبی کوریا کے بچوں کے والدین کے ساتھ قریبی رابطے میں کام کر رہا ہے اور سب سے زیادہ توجہ معصوم بچوں کو اس سے نجات دلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ڈارک نیٹ سائٹس انٹرنیٹ کی دنیا کا انتہائی مکروہ اور شرمناک حصہ ہیں۔ یہ عالمی سطح پر پھیلا ہوا گھناونے جرائم کا نیٹ ورک ہے جو عام دنیا کی نظروں سے اوجھل ہے۔ پاکستان میں بھی بچوں سے زیادتیوں اور قتل کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان کی حکومت کو بھی اپنے سائبر کرائمز نیٹ ورک کو زیادہ سے زیادہ فعال بنانا چاہیے تاکہ یہ بیماری جو ترقی یافتہ ملکوں میں پھیل چکی ہے، اسے یہاں اپنے پنجے گاڑنے سے پہلے ہی ختم کردیا جائے۔