مذاکرات سے مسائل حل کریں

وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے لیے وزیر دفاع پرویزخٹک کی سربراہی میں چاررکنی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کرلیا۔


Editorial October 18, 2019
وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے لیے وزیر دفاع پرویزخٹک کی سربراہی میں چاررکنی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ فوٹو : فائل

وزیر اعظم نے مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے لیے وزیر دفاع پرویزخٹک کی سربراہی میں چار رکنی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے،کمیٹی میں چاروں صوبوں سے سینئر پارٹی رہنماء شامل ہوں گے، آزادی مارچ کے متعلق کمیٹی قائم کردی ہے، وہی معاملات دیکھے گی، وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کو معیشت اورکشمیر جیسے بڑے چیلنجزکا سامنا ہے، ملک کسی اندرونی انتشارکا متحمل نہیں ہوسکتا، حکومت اپوزیشن کے جائز تحفظات ضرور سنے گی۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس بنی گالہ سیکریٹریٹ میں ہوا، جس میں وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اور وزیراعلیٰ کے پی کے محمود خان ، وفاقی وزراء، تین گورنرز اور پارٹی کی سینئر قیادت شریک ہوئی۔ کورکمیٹی اجلاس میں ارکان نے آزادی مارچ سے نمٹنے کے لیے مختلف تجاویز دیں تو وزیراعظم عمران خان نے کہا مولانا فضل الرحمان کے مارچ کو زیادہ اہمیت نہ دی جائے۔

جے یوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے استعفیٰ تک حکومت سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، مذاکرات کے لیے حکومتی کمیٹی کا علم نہیں اورنہ ہی ہم سے کسی نے رابطہ کیا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام کے آزادی مارچ سے متعلق حکومت نے جس چار رکنی کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا ہے، وہ کئی اعتبار سے خوش آیند پیش رفت ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے حوالے سے بادی النظر میں امکانی صورتحال اپنے نکتہ آغازکی طرف بڑھ رہی ہے، جس کے بارے میں حکومت کا ابتدائی رویہ '' گیس ورک '' سے مشروط رہا، وزرا، مشیروں اور معاونین خصوصی کے انداز نظر اور سیاسی کشیدگی کے مختلف پہلوؤں پر غورکیا گیا۔

ذرایع کے مطابق حکومت کا ابتدائی انداز نظر یہ تھا کہ آزادی مارچ کوئی سیریس مسئلہ نہیں ،حکومت کوکوئی خطرہ نہیں، احتجاج سیاسی جماعتوں کا آئینی حق ہے، تاہم سیاسی سطح پر ایک غیر محسوس ہلچل قیاس آرائیوں اور افواہوں کے جنم دینے لگیں تو سیاسی حلقوں کو ادراک ہواکہ افواہیں گردش میں ہیں اور آزادی مارچ کے حامی ایک جم غفیرکی اسلام آباد پہنچنے کی پیشگوئی کر رہے ہیں جب کہ حکومت اسے اپنے لیے کسی قسم کا ''تھریٹ '' سمجھنے پر قائل نہیں تھی۔

میڈیا میں یہ سیاسی تھیسس سرگرمی سے زیر بحث رہا کہ کسی ایجی ٹیشن ، دھرنے یا آزادی مارچ سے حکومت نہیں جانے والی ، وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ مولانا فضل الرحمان اسلام آباد نہیں آئیں گے اورکوئی حکومت نہیں گرا سکتا ، میڈیا ٹاکس میں فریق بدستور اپنے اس موقف پر قائم رہے ، بہرکیف اطلاعات ملتی رہی کہ تند و تیز بیانات کا سلسلہ نہ تھا تو حالات قابو میں نہیں رہ سکتے، چنانچہ ملک کے فہمیدہ حلقوں کا کہنا تھا کہ گھیراؤ جلاؤ اور تشدد اور قانون شکنی کے لہر کو روکنے کے لیے اب کچھ کرنا ضروری ہے۔

اس سیاق وسباق میں سیاسی مفاہمت، مصالحت اور مکالمہ میں پیش قدمی کی ناگزیریت کا ادراک کیا گیا اور وزیراعظم کمیٹی تشکیل دینے کا صائب اقدام کیا، تاہم عملیت پسند حلقوں کا کہنا تھا کہ حکومت کو یہ کام پہلے کرلینا چاہیے تھا، کمیٹی کی تشکیل پر بھی سیاسی بریک تھرو کے لیے مزید معتبر سیاسی شخصیات کی شمولیت پر زور دیا گیا۔

بعض کا خیال ہے کہ کمیٹی میں مولانا فضل الرحمان کی سیاسی قدوقامت کو مدنظر رکھتے ہوئے اور سیاسی گفتگوکو نتیجہ خیز بنانے کے لیے حکومت کو دلیرانہ اورآؤٹ آف باکس فیصلے کرلینے چاہئیں، ایک رائے سیاسی سواد اعظم کی طرف سے یہ بھی آئی کہ بات چیت کے لیے بریک تھرو خود وزیراعظم عمران خان کوکرنا چاہیے جس سے مولانا فضل الرحمان ، پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی قیادت مذاکرات کو ایک سنجیدہ عمل سمجھتے ہوئے ڈپلومیسی کو کامیابی کا راستہ بھی دے سکے گی۔

اسی طرح وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کو بھی مذاکراتی عمل میں شامل ہونا چاہیے۔ حکومت روادارانہ ، جمہوری اسپرٹ اور ملک کے بہترین مفاد میں اوپن مذاکرات کو یقینی بنائے، مولانا کے تحفظات اور خدشات اور مطالبات کو سنے تاکہ تمام فریقین میں اتفاق رائے ہو، ملک کشیدگی، تشدد اور ایجی ٹیشن کے خطرہ سے مٖٖحفوظ رہے، اگرچہ آزادی مارچ اور دھرنے کو روکنے کی حکمت عملی سے متعلق حکمت عملی واضح نہیں، بیانات کی افراط وتفریظ سے معروضی صوررتحال کوئی بھی کروٹ لے سکتی ہے۔

لہذا اس کا موثر ڈپلومیسی،جمہوری بصیرت اور تدبر وتحمل سے حل نکالا جاسکتا ہے۔ذرایع کے مطابق وزیراعظم نے جے یوآئی کے امکانی دھرنے پرکہا کہ گفتگو سے وقت ضایع نہیںکرنا چاہتے۔ ذرایع کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم حکومتی ترجمانوں کی کارکردگی سے بھی ناخوش نظرآئے، وزیراعظم نے کہا ہمارا موقف میڈیا پر درست انداز میں پیش نہیں ہو رہا، ادھرکورکمیٹی نے حکومتی موقف بھرپور انداز میں پیش کرنے کے لیے مختلف تجاویز دیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ملک معاشی بحران سے نکل آیا ہے، اب استحکام کی ضرورت ہے جس سے سرمایہ کاری اور روزگارکے مواقعے پیدا ہوں گے۔ جے یو آئی کے سربراہ نے محمود اچکزئی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا آئین کی حکمرانی اور اداروں سے حدود میں رہ کر کام کرنے کے مطالبے پر دوسری رائے نہیں ہوسکتی، قوم نے دس ماہ میں جعلی الیکشن کے نتائج دیکھ لیے، 400 ادارے بیچے جارہے ہیں، عوام کی ایک ہی آوازہے نئے الیکشن کرائے جائیں، جو بھی نئے الیکشن کے بعد جیتے نتائج قبول کریں گے، اداروں سے تصادم نہیں چاہتے۔

محمود اچکزئی نے کہا پاکستان دن بدن تنہا ہو رہا ہے، فضل الرحمٰن کی تحریک میں مذہبی کارڈ کی باتیں درست نہیں۔ پاکستان کے تمام سٹیک ہولڈرز ایک گول میزکانفرنس بلائیں اور اس خطرناک صورتحال میں سب مل کر بات کریں، میں مولانا فضل الرحمٰن کو اس گول میزکانفرنس میں لے کرآؤں گا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کو ہمہ قسم کے بحران ، تصادم ، ایجی ٹیشن اور پر تشدد واقعات سے بچانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرزکو سرجوڑکر بیٹھنا چاہیے، ملکی معاشی حالات چشم کشا ہیں،کشمیری بہن بھائیوں پربھارتی مظالم پرانسانیت سسک رہی ہے۔

آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کا کہنا ہے کہ کشمیریوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے، خطے میں پاکستان امن واستحکام کی داخلی اور علاقائی اور عالمی کوششوں میں اپنا کلیدی کردا ادا کرنے میں مصروف ہے، ایسی صورت حال میں پاکستان کسی داخلی انتشار اور انارکی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ سیاسی شراکت دار صورتحال کو ڈی فیوزکرکے قوم کو ایک درد ناک اعصابی کشمکش سے نجات دلاسکتے ہیں۔ سر ونسٹن چرچل نے کہا تھا کہ ایک سیاستدان کو اس قابل ہونا چاہیے کہ وہ یہ پیشگوئی کرسکے کہ کل کیا ہوگا۔

آیندہ ہفتہ، آیندہ ماہ یا اگلے سال کیا ہوگا۔ اور پھر اس بات کی وضاحت بھی کرسکے کہ ایسا کیوں نہ ہوسکا۔ حقیقت یہ ہے کہ جمہوری نظام کی کلید یہ نہیں کہ سیاسی طور پر سب لوگ کسی بات پرمتفق ہوگئے بلکہ اصل ٹارگٹ یہ ہونا چاہیے کہ اختلافات ، مشکلات اور عدم اتفاق کے باوجود قوم کو یقین ہوکہ سیاسی وجمہوری عمل میں سب شریک ہیں۔ ان کی نیت صاف ہے۔ ملک کے لیے سب ایک پیچ پر ہیں۔

اس میں دو رائے نہیں کہ سیاسی کشیدگی عروج پر ہے، لیکن ادراک کرنے کی ضرورت ہے کہ ٹکراؤ سے نقصان کس کا ہوگا، مادر وطن کا ۔ اور یہ کولیٹرل ڈیمیج ہوگا۔ کیا سیاسی تناؤکے خاتمہ کے لیے وزیراعظم زیتون کی شاخ لیے آزادی مارچ والوں سے ملنے پر آمادہ ہوں گے۔کیا قوم توقع رکھے کہ عمران خان ایک اور بریک تھروکرکے سیاسی ڈائنامکس کو بدلنے کا سنگ میل قائم کرنے جا رہے ہیں۔

مقبول خبریں