ٹارگٹڈآپریشن کے بعدشہریوں نے سکھ کاسانس لیا قائم علی شاہ

تجارتی سرگرمیاں بحال ہورہی ہیں، بیرونی سرمایہ کارسندھ میں دلچسپی لے رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

ڈنمارک کے سفیر کی وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات، قائم علی شاہ کو سکھر بیراج سے متعلق بریفنگ فوٹو: فائل

وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ نے کہاہے کہ کراچی میں دہشت گردوں،اغواکاروں اور بھتہ خوروں کے خلاف جاری آپریشن کے بعدہی عام لوگوں نے سکھ کاسانس لیاہے اورتاجر برادری اورسول سوسائٹی کے مختلف نمائندگان نے حکومت سے آخری کرمنل کے خاتمے تک یہ آپریشن جاری رکھنے کی درخواست کی ہے ۔

اس آپریشن کے بعدبیرونی کمپنیوں اورسرمایہ داروں کا حوصلہ بڑھاہے اور بہت سی کمپنیوں نے حکومت سندھ سے مختلف شعبہ جات میں سرمایہ داری کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ڈنمارک کے سفیر جیسپر مولر سورینسین(Jesper Mollar Sorensen)سے ملاقات میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ کراچی کے علاوہ بہت سے کرمنلزکاتعلق ملک کے شمالی علاقوں سے ہے جویہاں کراچی میں پناہ لیے ہوئے ہیں اورسماج دشمن کارروائیاں کر رہے ہیں،بہت سے ممالک نہ صرف تجارت بڑھاناچاہتے ہیں۔

بلکہ سندھ حکومت کے ساتھ مل کر مختلف ترقیاتی منصوبوں پر بھی کام کرنے کے خواہش مند ہیں،52سے54فیصد صنعتیں کراچی میں ہیں اور کراچی ہی پوری دنیا کی تجارتی سرگرمیوں کے لیے ملک کاسب سے بڑامعاشی مرکزہے جبکہ کراچی کی آبادی کا تناسب بڑھنے کے باعث سندھ حکومت کومواصلات ، پانی و بجلی اور دوسرے شعبوں میں دشواریوں کا سامنا ہے اور اس ضمن میں حکومت ان شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاروں اورکمپنیوں کوسرمایہ کاری کی دعوت دیتی ہے اوراس مقصد کے لیے حکومت نے سندھ بورڈ آف انویسٹمنٹ کی تشکیل کی تاکہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کوصوبے میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے مدعو کیاجاسکے۔




قبل ازیں وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ کی زیرصدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں سکھربیراج کی بحالی، تجدید،پانی کی گنجائش 1.5ملین کیوسک کرنے اور سکھر بیراج کے 10بند دروازوں کودوبارہ کھولنے کے حوالے سے غور و غوض کیاگیا۔اجلاس میں وزیراعلیٰ کوبریفنگ دی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سکھر بیراج صوبہ سندھ کی زراعت اورلوگوں کے لیے لائف لائن ہے اور 70 فیصد سے زائد لوگ بیراج پر انحصار کرتے ہیں۔

گزشتہ چند سالوں کے دوران ہمیں بارشوں اورسیلاب کا سامنا رہا ہے ان بارشوں اورسیلاب کے پانی گنجائش سکھر بیراج کی مو جودہ 9 لاکھ کیوسک گنجائش سے زائد رہی ہے جس کے سبب بیراج کوشدید خطرہ لاحق رہاہے ،اس لیے بیراج پانی کے اخراج کی گنجائش 1.5ملین کیوسک کرناناگزیرہے تاکہ نہ صرف یہ پانی آسانی سے گزر سکے بلکہ اس سے نکلنے والی نہروں کو بھی پانی کی فراہمی یقین بنائی جاسکے۔انھوں نے بتایا کہ سکھر بیراج 1932میں برطانوی راج کے دوران تعمیر کی گئی تھی،اس شعبے میں مطلوبہ مہارت کے پیش نظر ہم اس مہارت کا اطلاق بیراج کی نئے سرے سے بحالی پر کر رہے ہیں جا رہاہے تاکہ صوبے کی معشیت کو تحفظ دیا جائے۔
Load Next Story