پیرس کے چڑیا گھر کی عجیب مخلوق نہ جانور نہ پودا اور نہ ہی فنگس
پیرس کے چڑیا گھر میں ایک کھمبی کی طرح کا جانور ہے جو دلیہ کھاتا ہے اور سیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے
پیرس کے چڑیا گھر میں شوخ پیلے رنگ کی یہ عجیب و غریب مخلوق لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے (فوٹو: بشکریہ اسمتھ سونین)
پیرس کے چڑیا گھر میں ایک عجیب و غریب شے ہے جسے نہ ہی پودا، نہ ہی جان دار اور نہ ہی فنگس قرار دیا جاسکتا ہے، یہ ایک طرح کا سلائم مولڈ یا فطر لعاب ہے جو سیکھتا ہے اور دلیے پر گزارا کرتا ہے۔
اس کا حیاتیاتی نام Physarum polycephalum ہے جس نے خود سائنس دانوں کو معمے میں ڈال رکھا ہے۔ چڑیا گھر کے عملے نے اسے بلوب کا نام دیا ہے جو زردی مائل سلائم مولڈ ہے۔ ماہرین اسے پروٹسٹس کا نام دیتے ہیں اور فیرس جبر نامی ماہر کے مطابق اب تک اس کے بارے میں درست طرح سے نہیں سمجھا گیا۔
اسے حیاتیاتی عجوبے کا نام دیا جاسکتا ہے۔ یہ یک خلوی جاندار ہے جس میں لاکھوں کروڑوں مرکزے (نیوکلیئس) ہوتے ہیں اور یہ گھنے جنگلات کے درختوں کے تنے پر اگتے ہیں۔ یہ کھانے کی اشیا تلاش کرتا ہے اور انہیں ہضم کرجاتا ہے لیکن اس کا منہ نہیں ہے اور نہ معدہ ہے۔
اس کا ایک حصہ تجربہ گاہی ڈش میں رکھا گیا اور اسے باریک دلیہ کھلایا گیا جو اس نے خوشی خوشی کھالیا۔ 1958ء میں اس پر بلوب نامی ڈراؤنی فلم بھی بنائی گئی تھی اور اسے ایلین کی طرح کوئی مخلوق تصور کیا جاتا ہے۔
اگرچہ یہ بے شکل بلبلے کے مانند ہے لیکن یہ پتلی پٹی کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور اس پر نسیجوں کی طرح ابھار بھی بن جاتے ہیں۔ اس صورت میں دو ٹکڑے کردئیے جائیں تب بھی دونوں حصوں کی الگ الگ مولڈ بن جاتی ہیں تاہم اس عمل میں پانچ سال لگتے ہیں۔
چڑیا گھر میں لوگوں کی بڑی تعداد اس عجیب و غریب شے کو دیکھنے آرہی ہے۔
اس کا حیاتیاتی نام Physarum polycephalum ہے جس نے خود سائنس دانوں کو معمے میں ڈال رکھا ہے۔ چڑیا گھر کے عملے نے اسے بلوب کا نام دیا ہے جو زردی مائل سلائم مولڈ ہے۔ ماہرین اسے پروٹسٹس کا نام دیتے ہیں اور فیرس جبر نامی ماہر کے مطابق اب تک اس کے بارے میں درست طرح سے نہیں سمجھا گیا۔
اسے حیاتیاتی عجوبے کا نام دیا جاسکتا ہے۔ یہ یک خلوی جاندار ہے جس میں لاکھوں کروڑوں مرکزے (نیوکلیئس) ہوتے ہیں اور یہ گھنے جنگلات کے درختوں کے تنے پر اگتے ہیں۔ یہ کھانے کی اشیا تلاش کرتا ہے اور انہیں ہضم کرجاتا ہے لیکن اس کا منہ نہیں ہے اور نہ معدہ ہے۔
اس کا ایک حصہ تجربہ گاہی ڈش میں رکھا گیا اور اسے باریک دلیہ کھلایا گیا جو اس نے خوشی خوشی کھالیا۔ 1958ء میں اس پر بلوب نامی ڈراؤنی فلم بھی بنائی گئی تھی اور اسے ایلین کی طرح کوئی مخلوق تصور کیا جاتا ہے۔
اگرچہ یہ بے شکل بلبلے کے مانند ہے لیکن یہ پتلی پٹی کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور اس پر نسیجوں کی طرح ابھار بھی بن جاتے ہیں۔ اس صورت میں دو ٹکڑے کردئیے جائیں تب بھی دونوں حصوں کی الگ الگ مولڈ بن جاتی ہیں تاہم اس عمل میں پانچ سال لگتے ہیں۔
چڑیا گھر میں لوگوں کی بڑی تعداد اس عجیب و غریب شے کو دیکھنے آرہی ہے۔