آنکھ منہ دماغ اور پیٹ سے محروم لیکن 720 جنسوں والا عجیب جاندار

یہ جاندار ثابت کررہا ہے کہ فطرت کے خزانے میں ہمارے لیے سامانِ حیرت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی

دیکھنے میں یہ کھمبی جیسا ہے لیکن اس کا طرزِ عمل کسی جانور کی طرح ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

پیرس کے ایک چڑیا گھر میں گزشتہ ہفتے سے ایک عجیب و غریب جاندار کی نمائش جاری ہے جو اصل میں تو یک خلوی جاندار ہے اور پیلے رنگ کا ہے لیکن دیکھنے میں یہ کسی پھپھوندی کی طرح لگتا ہے اور اس کی حرکتیں جانوروں جیسی ہیں۔ لیکن، ان سب سے بڑھ کر اس جاندار کی دو تین نہیں بلکہ 720 جنسیں ہیں۔

انسانوں کی بات کریں تو ان میں صرف دو ہی جنسیں یعنی مرد اور عورت (نر اور مادہ) ہوتی ہیں۔ بہت ہوا تو کھینچ تان کر ''مخنث'' (خواجہ سرا) کو بھی تیسری جنس قرار دے دیا، لیکن اس سے زیادہ ''جنسوں'' کے بارے میں سوچنا ہمارے لیے تقریباً ناممکن ہے۔ ادنی درجے کے جانداروں میں جنسوں کی تعداد زیادہ ہوسکتی ہے جن کےلیے فی الحال ہمارے پاس کوئی مناسب نام بھی موجود نہیں۔ مثلاً کیچوے اور مچھلیوں کی بعض اقسام میں 3 جنسیں دیکھی گئی ہیں۔ لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ جب 720 جنسوں والا کوئی جاندار نمائش میں رکھا گیا ہے۔

اسے سائنس فکشن فلم میں خلائی مخلوق کے ایک کردار ''بلوب'' (blob) کا عوامی نام دیا گیا ہے۔ اس کا کوئی منہ ہے نہ معدہ، نہ آنکھیں اور نہ ہی کوئی دماغ لیکن پھر بھی سیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ پیروں کے بغیر حرکت کرسکتا ہے اور اگر اسے کاٹ کر ٹکڑے کردیئے جائیں، تب بھی صرف دو منٹ میں اس کا ہر ٹکڑا دوبارہ سے مکمل جاندار میں تبدیل ہوجاتا ہے۔


پیرس میوزیم آف نیچرل ہسٹری کے ڈائریکٹر برونو ڈیوڈ نے بتایا، ''یہ بلوب ایک ایسا جاندار ہے جو فطرت کے پراسرار پہلوؤں سے تعلق رکھتا ہے۔'' واضح رہے کہ پیرس کا چڑیا گھر بھی اسی میوزیم کا ایک حصہ ہے۔

''اس نے ہمیں حیران کردیا ہے کیونکہ اس کا کوئی دماغ نہیں لیکن پھر بھی یہ سیکھنے کے قابل ہے (...) اور اگر آپ کوئی سے دو بلوبز کو آپس میں ضم کردیں تو ایک نے جو کچھ بھی سیکھا ہے، اس کی تمام معلومات دوسرے میں منتقل ہوجائیں گی،'' ڈیوڈ نے مزید کہا۔

''ہمیں اتنا تو یقین ہے کہ یہ کوئی پودا نہیں۔ لیکن یہ کوئی جانور ہے یا پھپھوند، اس بارے میں واقعتاً ہم (اب تک) کچھ نہیں جانتے۔ دیکھنے میں یہ کسی کھمبی (مشروم) کی طرح لگتا ہے، مگر اس کا طرزِ عمل کسی جانور جیسا ہے جو سیکھنے کے قابل ہو،'' ڈاکٹر ڈیوڈ نے وضاحت کی۔

خیر! جاندار کچھ بھی ہو، لیکن ثابت کررہا ہے کہ فطرت کے خزانے میں ہمارے لیے سامانِ حیرت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔
Load Next Story