ٹیکس چوری کے کسی کیس کی پیروی کی اور نہ مستقبل میں کریں گے چیئرمین نیب
جنہوں نے ماضی میں بدعنوانی کی انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جارہا ہے، چیئرمین نیب
نیب کسی بھی شہری کی عزت نفس متاثر نہیں کرے گا، جسٹس (ر) جاوید اقبال۔ فوٹو:فائل
جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ نیب ان لوگوں کے خلاف کارروائی کررہا ہے جنہوں نے ماضی میں بدعنوانی کی، کسی بھی شہری کی عزت نفس متاثر نہیں کریں گے۔
کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس انڈسٹری کے دورے کے موقع پر چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا نیب کی کسی جماعت، گروپ یا فرد سے کوئی وابستگی نہیں، بلا تفریق احتساب ہورہا ہے، معاشرے سے بدعنوانی کے خاتمے کی پوری کوشش ہے، ہمارا کام لوگوں کو ڈرانا نہیں ان کی خدمت کرنا ہے، کاروباری طبقہ اپنے کاروبار پر توجہ دے نیب کسی بھی شہری کی عزت نفس متاثر نہیں کرے گا۔
چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ ملک 100 ارب روپے سے زائد کا مقروض ہے، اسپتالوں میں بستر نہیں اور یونیورسٹیوں میں داخلے نہیں مل رہے، جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیوں نے کم یا زمین نہ ہونے کے باوجود دلکش اشتہارات لگا کر غریب عوام کو لوٹا جو ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی تھی، نیب ان لوگوں کے خلاف کارروائی کررہا ہے جنہوں نے ماضی میں بدعنوانی کی، اب انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جارہا ہے، ملک و قوم کی لوٹی ہوئی رقم وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کرائی جائے گی، پہلی اور اہم ترجیح ملک کی ترقی اور خوشحالی ہے۔
جسٹس(ر) جاوید اقبال نے مزید کہا کہ ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ میں فرق ہے، نیب نے ٹیکس چوری کے کسی بھی کیس کی پیروی نہیں کی اور نہ ہی مستقبل میں ایسا کیا جائے گا، یہ معاملات ایف بی آر کے سپرد کیے جائیں گے، نیب بینک ڈیفالٹرز کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کررہا مگر اسٹیٹ بینک ایسے کیسز نیب کو ارسال کردیتا ہے۔
کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس انڈسٹری کے دورے کے موقع پر چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا نیب کی کسی جماعت، گروپ یا فرد سے کوئی وابستگی نہیں، بلا تفریق احتساب ہورہا ہے، معاشرے سے بدعنوانی کے خاتمے کی پوری کوشش ہے، ہمارا کام لوگوں کو ڈرانا نہیں ان کی خدمت کرنا ہے، کاروباری طبقہ اپنے کاروبار پر توجہ دے نیب کسی بھی شہری کی عزت نفس متاثر نہیں کرے گا۔
چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ ملک 100 ارب روپے سے زائد کا مقروض ہے، اسپتالوں میں بستر نہیں اور یونیورسٹیوں میں داخلے نہیں مل رہے، جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیوں نے کم یا زمین نہ ہونے کے باوجود دلکش اشتہارات لگا کر غریب عوام کو لوٹا جو ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی تھی، نیب ان لوگوں کے خلاف کارروائی کررہا ہے جنہوں نے ماضی میں بدعنوانی کی، اب انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جارہا ہے، ملک و قوم کی لوٹی ہوئی رقم وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کرائی جائے گی، پہلی اور اہم ترجیح ملک کی ترقی اور خوشحالی ہے۔
جسٹس(ر) جاوید اقبال نے مزید کہا کہ ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ میں فرق ہے، نیب نے ٹیکس چوری کے کسی بھی کیس کی پیروی نہیں کی اور نہ ہی مستقبل میں ایسا کیا جائے گا، یہ معاملات ایف بی آر کے سپرد کیے جائیں گے، نیب بینک ڈیفالٹرز کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کررہا مگر اسٹیٹ بینک ایسے کیسز نیب کو ارسال کردیتا ہے۔