عراق میں ہنگاموں میں شدت بغداد میں کرفیو

یہ پابندی آدھی رات کے وقت چھ گھنٹے کے لیے لگائی گئی ہے

یہ پابندی آدھی رات کے وقت چھ گھنٹے کے لیے لگائی گئی ہے۔ فوٹو: فائل

عراق میں جاری ہنگاموں میں کالج طلبہ کے ساتھ اسکول کے بچوں کے بھی شامل ہونے کے بعد بغداد میں رات بھر کا کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ طلبہ کے احتجاج میں شامل ہونے سے مظاہروں میں شدت پیدا ہو گئی ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت کو تبدیل کیا جائے۔ عراق میں حکومت اور اس کے عمال پر کرپشن کا الزام لگایا جا رہا ہے۔

جس کی وجہ سے مہنگائی اور بیروز گاری میں اضافہ ہو رہا ہے لہٰذا اب حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ شروع ہوگیا ہے۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق بغداد میں کرفیو کے نفاذ کے باوجود مظاہرین جلوس کی شکل میں اکٹھے ہورہے ہیں۔میڈیا کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے گرفتاریوں اور تشدد میں اضافے کے نتیجے میں ڈھائی سو کے لگ بھگ افراد مارے جا چکے ہیں۔ بغداد میں سوموار کے دن پانچ مظاہرین مارے گئے۔ عراقی فوج نے اعلان کیا ہے کہ رات کے وقت کار سواروں کے باہر نکلنے پر پابندی ہو گی بلکہ پیدل بھی جمع نہیں ہونے دیا جائے گا۔ یہ پابندی آدھی رات کے وقت چھ گھنٹے کے لیے لگائی گئی ہے۔


سکیورٹی فورسز بغداد کے تحریر اسکوائر کو خالی کرانا چاہتی ہیں جہاں پر مظاہرین نے ایک طرح کا قبضہ کر لیا ہے تاہم سکیورٹی فورسز مظاہرین کو ریڈ زون کی طرف آنے سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔ جہاں پر سرکاری دفاتر کے علاوہ غیرملکیوں کی رہائش بھی موجود ہے لیکن مظاہرین تحریر اسکوائر میں خیمے نصب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور بعض کثیر المنزلہ عمارت پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

سکیورٹی فورسز مظاہرین پر بھاری آنسو گیس کی شیلنگ کر رہی ہیں، پولیس کی مظاہرین کے خلاف کارروائیوں سے مظاہرین میں نیا جوش پیدا ہو رہا ہے اور ان کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ دارالحکومت بغداد سے 120کلو میٹر کے فاصلے پر جنوب میں واقع قصبے دیوانیہ میں اسکول اور کالج بند کر دیے گئے ہیں۔

دیوانیہ میں یونیورسٹیوں کی یونین اور اسکولوں نے دس روزہ ہڑتال کا اعلان کیا ہے جس کے بعد ہزاروں کی تعداد میں طلبہ جنہوں نے اسکول یونیفارم پہنی ہوئی ہے اور جن میں پروفیسر حضرات بھی شامل ہیں، سڑکوں پر سیلاب کی صورت میں نکل آئے ہیں۔ بغداد میں مظاہرین تعلیمی اداروں اور تحریر اسکوائر میں اکٹھے ہو گئے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کا فوری طور پر استعفیٰ چاہتے ہیں کیونکہ حکومت ناکام ہو چکی ہے۔ مظاہرین کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ حکومت جس قدر جلد مستعفی ہوتی ہے اتنا ہی اچھا ہو گا ورنہ حالات ان کے قابو سے بالکل باہر ہو جائیں گے۔
Load Next Story