سمندری طوفان’’کیار‘‘ کے اثرات حکام ہوشیار رہیں

ٹھٹھہ کی ساحلی پٹی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے


Editorial October 29, 2019
ٹھٹھہ کی ساحلی پٹی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیاہے۔ فوٹو: فائل

بحیرہ عرب کے مشرق میں موجود سمندری طوفان کیارکے اثرات کراچی کے ساحلوں پر بھی نظر آنے لگے ہیں، سمندری طوفان کیار سے کراچی سمیت سندھ کے بیشتر ساحلی علاقے زیر آب آگئے ہیں، لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں، جب کہ ہزاروں افراد میں خوف وہراس پایا جاتا ہے۔ قدرتی آفات طوفان، بارش یا زلزلے کی صورت میں دنیا بھر میں آتی ہیں لیکن ان سے بچاؤکے لیے حکومتیں اپنی پوری توانائیاں صرف کرتی ہیں۔

بدقسمتی ہمارے یہاں سرے سے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی پلاننگ نہیں کی جاتی ہے۔ محکمہ موسمیات اس بات سے آگاہی بذریعہ میڈیا دے رہا ہے کہ 30 اکتوبر تک یہ مغربی ہواؤں کا سسٹم سائیکلون پر اثر انداز ہوسکتا ہے، مغربی ہواؤں کا سسٹم یا تو سائیکلون کوکمزورکردے گا یا اس کا رخ جنوب کی جانب کرسکتا ہے۔

ادھر ماہی گیروںکو فوری واپسی کی ہدایت کرتے ہوئے3دن تک سمندر میں جانے اور شکار پر پابندی عائدکردی ہے لیکن مقامی افراد نے بتایا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی انتظام نہیں کیا گیا ہے ، ایک اخباری اطلاع کے مطابق اب تک چار سے پانچ ہزار افراد براہ راست متاثر ہوئے ہیں ،جوکھلے آسمان تلے امدادکے منتظر ہیں۔

گزشتہ رات ابراہیم حیدری اور چشمہ گوٹھ سمندری پانی سے متاثر ہوئے، اب جب کہ بدھ تک سندھ کے زیریں علاقوں میں مٹی کے طوفان اورگرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے تو صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنا چاہیے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نبرد آزما ہوا جاسکے۔ سمندری طوفان کیارکے باعث شدید طغیانی اور اونچی لہروں کی پیشن گوئی کے بعد سجاول اور ٹھٹھہ کی ساحلی پٹی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیاہے۔

ٹھٹھہ میں مزید دس ساحلی دیہات زیر آب آچکے ہیں، کیٹی بندر کے اہم بچاؤ بند پر سمندری پانی کا دباؤ بڑھنے لگاہے جب کہ جوہو شہرکے بچاؤ بند میں شگاف پڑگیا ہے اور سمندرکا پانی آبادی کی طرف بڑھنے لگا ہے ، ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تاحال ریسکیو آپریشن شروع نہ کیا جاسکا۔

یہ ساری رپورٹس اس بات کو ظاہرکررہی ہیں کہ ابھی تک انتظامیہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے، حالانکہ سمندری طوفان کے اثرات سے کراچی سمیت سندھ کے ساحلی علاقے اور ان کے مکینوں کے متاثر ہونے کے واضح خطرات سرپر منڈلا رہے ہیں۔ یہ صوبائی ، ضلعی، مقامی انتظامیہ سمیت این جی اوزکی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ ساحلی پٹی پر آباد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کریں، تاکہ مالی وجانی نقصان سے بچا جاسکے۔

مقبول خبریں