جرمنی میں جنازے کے شرکا کو حشیش سے بنا کیک کھلا دیا گیا

ریسٹورینٹ کے مالک کی بیٹی نے اپنی دوستوں کے لیے حشیش سے بنا کیک بنایا تھا جو غلطی سے جنازے کے شرکا کو کھلا دیا گیا

غفلت برتنے اور جنازے میں خلل ڈالنے پر پولیس نے ریسٹورینٹ کے مالک کی بیٹی کو گرفتار کرلیا ہے۔ فوٹو : فائل

جرمنی کے ریستوران میں جنازے کے شرکا کو غلطی سے حشیش سے بنا کیک کھلا دیا گیا جس کی وجہ سے بیوہ اور دیگر 13 سوگواروں کی طبیعت بگڑ گئی۔

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق شہر روسٹوک کے ایک ریسٹورینٹ سے کھانا کھانے والے جنازے کے شرکا کی طبیعت بگڑ گئی جس پر بیوہ سمیت دیگر 13 سوگواروں کو فوری طور پر قریبی اسپتال لے جانا پڑا۔ طبی امداد کی فراہمی کے بعد تمام افراد کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے۔


پولیس نے تفتیش کے بعد انکشاف کیا ہے کہ جنازے کے شرکا کی طبیعت ریسٹورینٹ میں کیک کھانے کی وجہ سے بگڑی، کیک کے تجزیے سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ کیک کی تیاری میں حشیش کا استعمال کیا گیا تھا جس سے کیک کھانے والوں کو متلی اور چکر آنے کی شکایت ہوئیں۔

ریسٹورینٹ کے مالک نے واقعے کی تحقیقات کی تو انکشاف ہوا ہے کہ یہ کیک ان کی 18 سالہ بیٹی نے اپنی دوستوں کے ساتھ پارٹی پر جانے کے لیے تیار کیا تھا تاہم ملازم نے غلطی سے جنازے کے شرکا کے لیے بنائے گئے کیک کے بجائے حشیش والا کیک پیش کردیا۔

متاثرین نے ریستوران کے خلاف پولیس کو شکایت درج کرائی اور نقصان کے ازالے کا مطالبہ کیا۔ متاثرین کی شکایت پر 18 سالہ لڑکی سے غفلت برتنے، جسمانی چوٹ پہنچانے، جنازے میں خلل ڈالنے اور منشیات کے قانون کی خلاف ورزی کی دفعات کے تحت تفتیش کی جا رہی ہے۔
Load Next Story