کویت میں گھریلو ملازماؤں کی آن لائن فروخت کا انکشاف کارروائی شروع
غیرملکی خواتین کو MaidForSale# کے ہیش ٹیگ کے ساتھ انسٹا گرام، گوگل ایپس اور ایپل ایپس پر فروخت کیا جارہا تھا
غیرملکی خواتین ملازماؤں کی خرید و فروخت انسٹاگرام، گوگل ایپس اور ایپل ایپس کے ذریعے کی جارہی تھی (فوٹو : بی بی سی)
کویت نے سوشل میڈیا پر خواتین گھریلو ملازمین کی خرید و فروخت کے انکشاف پر کارروائی کا آغاز کردیا جب کہ گوگل، انسٹا گرام اور ایپل نے بھی ایسے اکاؤنٹس کو بند کر دیا ہے۔
کویتی میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا پر انسٹاگرام اور دیگر ایپس کے ذریعے گھریلو ملازماؤں کی خرید و فروخت کے مکروہ دھندے کے خلاف کریک ڈاؤن آپریشن میں اکاؤنٹس کو بند کر کے اکاؤنٹ ہولڈرز کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔ اس حوالے سے قانون سازی بھی کی جائے گی۔
کارروائی کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کویت کے پبلک اتھارٹی فار مین کے سربراہ ڈاکٹر مبارک علی عظمی کا کہنا ہے کہ خواتین ملازماؤں کی آن لائن خرید و فروخت میں ملوث افراد کو سخت سزا دی جائے گی اور ایسی خواتین کے نقصان کا ازالہ کیا جائے گا۔ ایسی خواتین کو کام کے پیسے دینے کے بجائے ایک دوسرے کو فروخت کردیا جاتا تھا۔
https://youtu.be/Qxz-vmbFXd4
کویتی حکومت نے یہ کارروائی برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد کی جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ خواتین کو گھریلو ملازمین کے طور پر فروخت کیا جا رہا ہے اور اس کے لیے سوشل میڈیا کو استعمال کیا جا رہا ہے جہاں باقاعدہ اس دھندے کیلیے ہیش ٹیگ چلائے جاتے ہیں۔
انسٹا گرام اور گوگل نے اس مکروہ دھندے میں اپنے پلیٹ فارمز استعمال ہونے کا نوٹس لیا ہے اور ایسے اکاؤنٹس بند کردیئے ہیں جب کہ گوگل اور ایپل نے ایپ ڈیولپرز کے ساتھ مختلف پلیٹ فارمز پر غیر قانونی کام کو روکنے کے لیے اقدامات شروع کردیئے ہیں۔
کویتی میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا پر انسٹاگرام اور دیگر ایپس کے ذریعے گھریلو ملازماؤں کی خرید و فروخت کے مکروہ دھندے کے خلاف کریک ڈاؤن آپریشن میں اکاؤنٹس کو بند کر کے اکاؤنٹ ہولڈرز کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔ اس حوالے سے قانون سازی بھی کی جائے گی۔
کارروائی کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کویت کے پبلک اتھارٹی فار مین کے سربراہ ڈاکٹر مبارک علی عظمی کا کہنا ہے کہ خواتین ملازماؤں کی آن لائن خرید و فروخت میں ملوث افراد کو سخت سزا دی جائے گی اور ایسی خواتین کے نقصان کا ازالہ کیا جائے گا۔ ایسی خواتین کو کام کے پیسے دینے کے بجائے ایک دوسرے کو فروخت کردیا جاتا تھا۔
https://youtu.be/Qxz-vmbFXd4
کویتی حکومت نے یہ کارروائی برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد کی جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ خواتین کو گھریلو ملازمین کے طور پر فروخت کیا جا رہا ہے اور اس کے لیے سوشل میڈیا کو استعمال کیا جا رہا ہے جہاں باقاعدہ اس دھندے کیلیے ہیش ٹیگ چلائے جاتے ہیں۔
انسٹا گرام اور گوگل نے اس مکروہ دھندے میں اپنے پلیٹ فارمز استعمال ہونے کا نوٹس لیا ہے اور ایسے اکاؤنٹس بند کردیئے ہیں جب کہ گوگل اور ایپل نے ایپ ڈیولپرز کے ساتھ مختلف پلیٹ فارمز پر غیر قانونی کام کو روکنے کے لیے اقدامات شروع کردیئے ہیں۔