ہوا میں موجود مضر صحت مادے سرطان کا باعث بن رہے ہیں

دنیا میں پھیپھڑوں کے کینسرسے ہلاک 2 لاکھ 23 ہزار افراد فضائی آلودگی کا نشانہ بنے

عالمی ادارہ صحت نے کارسینوجینک کو فضائی آلودگی کا درجہ دے دیا ،آئی اے آر سی۔ فوٹو: فائل

عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ ہوا میں موجود مضر صحت مادے انسانوں میں سرطان کی اہم وجہ ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے فضائی آلودگی کو باقاعدہ طور پر 'کارسینوجینک' کا درجہ دے دیا ہے، عالمی ادارہ صحت کے سرطان سے متعلق شعبے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں2010 میں پھیپھڑوں کے کینسر سے ہلاک ہونے والے 2 لاکھ 23 ہزار افراد بنیادی طور پر فضائی آلودگی کا نشانہ بنے ہیں، سرطان پر تحقیق کرنے والی بین الاقوامی ایجنسی آئی اے آر سی کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی انسانوںکو مثانے کا سرطان لاحق ہونے کے خطرات سے بھی دوچار کر رہی ہے۔




ایجنسی کا کہنا ہے کہ زمین پر موجود ہوا ''کارسینوجینک'' ہے گو کہ مختلف ممالک میں ہوا میں ان زہریلے مادوں کی شرح مختلف ہے، واضح رہے کہ کارسینو جینک انسانوں میں سرطان کا باعث بننے والے مادوں کوکہا جاتا ہے، یہ مادے انسانی جسم کی جنیات پر حملہ آور ہونے یا جسم میں خلیوں کے بننے اور ٹوٹنے کے عمل یا میٹابولزم کو متاثر کرنیکا باعث بنتے ہیں جسکا نتیجہ سرطان کی صورت میں نکلتا ہے۔
Load Next Story