عید کے تینوں روز ٹرانسپورٹ کی کمی سے شہری پریشان

رکشا اور ٹیکسی ڈرائیورز نے صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے منہ مانگے کرائے لیے


Staff Reporter October 19, 2013
کم از کم فاصلے کا عام دن میں کرایہ جو 50 روپے بنتا ہے وہ 100 روپے وصول کیا گیا۔فوٹو:فائل

عید الاضحی کے تینوں ایام میں پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی کے سبب شہریوں کو آمد ورفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

رکشا اور ٹیکسی والوں نے منہ مانگے کرائے وصول کیے، تفصیلات کے مطابق عیدالاضحی کے تینوں ایام میں حکومت کی جانب سے سی این جی اسٹیشنز کھولنے کا اعلان کیا گیا تھا جس پرعمل در آمد ہوا اور یہ تمام گیس اسٹیشنز کھلے رہے تاہم عید کے تینوں ایام میں پبلک ٹرانسپورٹ شاہراہوں پر سے غائب رہی جس کی وجہ سے شہریوں کو آمد ورفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔



بسیں ، منی بسیں اور کوچز انتہائی کم تعداد میں سڑکوں پر رواں دواں تھیں اس صورت حال کے باعث شہریوں کو آمد ورفت میں مشکلات پیش آئیں ، عید کے باعث موٹر سائیکل چنگ چی اور چھ سے گیارہ سیٹر سی این جی رکشے بھی کم تعداد میں سڑکوں پر چل رہے تھے، بڑی پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی کمی کے باعث رکشا اور ٹیکسی والوں نے اس صورت حال کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور شہریوں سے منہ مانگے کرائے وصول کیے۔

کم از کم فاصلے کا عام دن میں کرایہ جو 50 روپے بنتا ہے وہ 100 روپے وصول کیا گیا جبکہ درمیانی فاصلے کے کرائے 150 سے 200روپے کے بجائے 250سے 300 روپے جبکہ زیادہ فاصلے کے کرائے 350 سے 450 روپے وصول کیے گئے، شہریوں کا کہنا تھا کہ عید کی خوشیوں کے موقع پر اضافی کرائے وصول کرنا نا انصافی کے مترادف ہے۔