امریکا اور افغانستان میں امریکی فوج کے آئینی استثنیٰ کا معاملہ سنگین صورت اختیار کرگیا
کیری اور کرزئی کے درمیان طے پانے والی ڈیل کی ابھی افغان عوام اور قبائلی رہنمائوں کی کونسل لویہ جرگہ سے منظوری باقی ہے
کابل میں طالبان کے خودکش حملے کے بعد امریکی فوجی جائے وقوع کے قریب پوزیشن لیے ہوئے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اصرار کیا کہ 2014 میں افغانستان سے غیر ملکی فوجی دستوں کے انخلا کے بعد وہاں متعین امریکی فوجیوں کو امریکی قانون کو جوابدہ ہونا چاہیے نہ کہ افغان قانون کو۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جان کیری کی جانب سے یہ تازہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور کابل حکومتیں اگلے برس افغانستان سے غیر ملکی فوجی دستوں کے انخلا کے بعد بھی وہاں امریکی فوجیوں کی موجودگی اور مستقبل کے حوالے سے کسی معاہدے کی منظوری کی کوششوں میں ہیں ۔گزشتہ ہفتے اسی سلسلے میں جان کیری نے کابل میں افغان صدر حامد کرزئی سے بات چیت بھی کی تھی، خبر رساں ادارے کے مطابق افغان حکومت کا خیال ہے کہ غیر ملکی فوجی دستوں کے عمومی انخلا کے بعد افغانستان میں خدمات انجام دینے والے امریکی فوجیوں کو افغان قانون کے ماتحت ہونا چاہیے کیوں کہ دوسری صورت میں انھیں ایک طرح سے کسی بھی جرم کے ارتکاب کی صورت میں سزا سے استثنیٰ حاصل رہے گا۔
جان کیری نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی امریکی فوجی کو کسی بھی جرم میں ملوث ہونے کی صورت میں صرف امریکی قانون کے تحت مقدمے اور سزا کا سامنا کرنا چاہیے۔ کابل میں جان کیری اور حامد کرزئی کے درمیان 2 روزہ مذاکرات میں طے پانے والی ڈیل کی ابھی افغان عوام اور قبائلی رہنمائوں کی کونسل لویہ جرگہ سے منظوری باقی ہے۔ جان کیری نے امریکا کے نیشنل پبلک ریڈیو کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ کسی معاہدے کو کامیاب بنانے کے لیے درکار تمام ضروری چیزیں اس معاہدے میں موجود ہیں، ہم افغانستان کے مستقبل میں امریکی حصے کے حوالے سے حدود کا تعین کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کو ابھی یہ طے کرنا ہے کہ کسی امریکی فوجی کی جانب سے کسی جرم کے ارتکاب کی صورت میں اسے امریکی عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے یا افغان عدالت میں۔ جان کیری نے کہاکہ ہم نے واضح طور پر بتا دیا کہ ایسی کسی بھی صورت میں مقدمہ امریکا میں چلایا جانا چاہیے، وہ انتخاب کر سکتے ہیں کہ یا تو وہ ہماری یہ بات تسلیم کریں یا پھر وہاں کوئی بھی امریکی فوجی خدمات انجام نہیں دے گا۔ افغانستان میں کابل کے نواح میں واقع غیر ملکی امدادی کارکنوں کی ایک کالونی پر شدت پسندوں نے حملہ کیا ہے، برطانو ی نشریاتی ادارے کے مطابق سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کالونی جو ایک قلعہ نما کمپائونڈ ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں مختلف عالمی امدادی اداروں کے کارکن اور عالمی سفارت کار رہتے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملے کا آغاز ایک کار بم دھماکے سے ہوا جو کمپائونڈ کے دروازے پر کیا گیا جسے گرین ولیج کہا جاتا ہے، ایک خاتون اورکم از 4 بچے اس کار بم دھماکے میں ہلاک ہوگئے جو پاس سے گزرتی ہوئی ایک کار میں سوار تھے۔ اطلاعات کے مطابق کمپائونڈ کی حفاظت پر تعینات سیکیورٹی عملے نے حملہ آوروں پر فائرنگ کی اور ان پر قابو پا لیا،دوسری جانب بعض اطلاعات کے مطابق شدت پسند کمپائونڈ میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ دریں اثنا افغانستان میں شدت پسندوں کے حملے میں ایک برطانوی فوجی ہلاک ہوگیا۔ برطانیہ کی وزارت دفاع سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق ان کا ایک فوجی شورش زدہ جنوبی صوبے ہلمند میں پٹرولنگ کے دوران شدت پسندوں کی فائرنگ کی زد میں آگیا اور ہلاک ہوگیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جان کیری کی جانب سے یہ تازہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور کابل حکومتیں اگلے برس افغانستان سے غیر ملکی فوجی دستوں کے انخلا کے بعد بھی وہاں امریکی فوجیوں کی موجودگی اور مستقبل کے حوالے سے کسی معاہدے کی منظوری کی کوششوں میں ہیں ۔گزشتہ ہفتے اسی سلسلے میں جان کیری نے کابل میں افغان صدر حامد کرزئی سے بات چیت بھی کی تھی، خبر رساں ادارے کے مطابق افغان حکومت کا خیال ہے کہ غیر ملکی فوجی دستوں کے عمومی انخلا کے بعد افغانستان میں خدمات انجام دینے والے امریکی فوجیوں کو افغان قانون کے ماتحت ہونا چاہیے کیوں کہ دوسری صورت میں انھیں ایک طرح سے کسی بھی جرم کے ارتکاب کی صورت میں سزا سے استثنیٰ حاصل رہے گا۔
جان کیری نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی امریکی فوجی کو کسی بھی جرم میں ملوث ہونے کی صورت میں صرف امریکی قانون کے تحت مقدمے اور سزا کا سامنا کرنا چاہیے۔ کابل میں جان کیری اور حامد کرزئی کے درمیان 2 روزہ مذاکرات میں طے پانے والی ڈیل کی ابھی افغان عوام اور قبائلی رہنمائوں کی کونسل لویہ جرگہ سے منظوری باقی ہے۔ جان کیری نے امریکا کے نیشنل پبلک ریڈیو کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ کسی معاہدے کو کامیاب بنانے کے لیے درکار تمام ضروری چیزیں اس معاہدے میں موجود ہیں، ہم افغانستان کے مستقبل میں امریکی حصے کے حوالے سے حدود کا تعین کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کو ابھی یہ طے کرنا ہے کہ کسی امریکی فوجی کی جانب سے کسی جرم کے ارتکاب کی صورت میں اسے امریکی عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے یا افغان عدالت میں۔ جان کیری نے کہاکہ ہم نے واضح طور پر بتا دیا کہ ایسی کسی بھی صورت میں مقدمہ امریکا میں چلایا جانا چاہیے، وہ انتخاب کر سکتے ہیں کہ یا تو وہ ہماری یہ بات تسلیم کریں یا پھر وہاں کوئی بھی امریکی فوجی خدمات انجام نہیں دے گا۔ افغانستان میں کابل کے نواح میں واقع غیر ملکی امدادی کارکنوں کی ایک کالونی پر شدت پسندوں نے حملہ کیا ہے، برطانو ی نشریاتی ادارے کے مطابق سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کالونی جو ایک قلعہ نما کمپائونڈ ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں مختلف عالمی امدادی اداروں کے کارکن اور عالمی سفارت کار رہتے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملے کا آغاز ایک کار بم دھماکے سے ہوا جو کمپائونڈ کے دروازے پر کیا گیا جسے گرین ولیج کہا جاتا ہے، ایک خاتون اورکم از 4 بچے اس کار بم دھماکے میں ہلاک ہوگئے جو پاس سے گزرتی ہوئی ایک کار میں سوار تھے۔ اطلاعات کے مطابق کمپائونڈ کی حفاظت پر تعینات سیکیورٹی عملے نے حملہ آوروں پر فائرنگ کی اور ان پر قابو پا لیا،دوسری جانب بعض اطلاعات کے مطابق شدت پسند کمپائونڈ میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ دریں اثنا افغانستان میں شدت پسندوں کے حملے میں ایک برطانوی فوجی ہلاک ہوگیا۔ برطانیہ کی وزارت دفاع سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق ان کا ایک فوجی شورش زدہ جنوبی صوبے ہلمند میں پٹرولنگ کے دوران شدت پسندوں کی فائرنگ کی زد میں آگیا اور ہلاک ہوگیا۔