نمرتا کیس جائے وقوعہ سے فنگر پرنٹس کے ناقص نمونے حاصل کرنے کا انکشاف
پولیس کی جانب سے نادرا کو ایک ماہ کی تاخیر سے فنگرپرنٹس میچنگ بھیجے گئے
یونیورسٹی انتظامیہ واقعے کے فوری بعد اگر جائے وقوعہ کو محفوظ بنا لیتی تو فنگر پرنٹس میچ ہو سکتے تھے۔ فوٹو: فائل
نمرتا چندانی ہلاکت کیس میں پولیس کی جانب سے حاصل کردہ فنگر پرنٹس کی نادرا بھی شناخت نہ کرسکی۔
ایکسپریس نیوزکے مطابق بی بی آصفہ ڈینٹل کالج میں فائنل ایئر کی طالبہ نمرتا چندانی ہلاکت کیس میں نادرا کی جاری کردہ فنگر پرنٹ رپورٹ مل گئی ہے ۔ واقعے کے جوڈیشنل انکوائری افسر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اقبال حسین میتلو کو بھی نادرا رپورٹ جمع کروائی جا چکی ہے۔ جس میں کسی قسم کا کوئی ٹوس ثبوت نہیں مل پایا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس کے جائے وقوعہ سے جمع شدہ فنگر پرنٹس کا معیار انتہائی ناقص ہے، جس کی وجہ سے سے ان فنگر پرنٹس کا نادرا کے پاس موجود بائیو ڈیٹا سے کراس میچ نہیں ہوپایا۔ واقعے کے بعد متعدد افراد کے جائے وقوعہ پر آنے کے باعث فنگر پرنٹس کو نقصان ہوا، یونیورسٹی انتظامیہ واقعے کے فوری بعد اگر جائے وقوعہ کومحفوظ بنا لیتی توفنگرپرنٹس میچ ہوسکتے تھے۔
اس خبرکوبھی پڑھیں: نمرتا کی ڈی این اے رپورٹ جاری، کپڑوں پر مرد کے نشانات مل گئے
دوسری جانب پولیس کی جانب سے نادرا کو ایک ماہ کی تاخیر سے فنگرپرنٹس میچنگ بھیجے جانے بھی کا انکشاف ہوا ہے۔
ایکسپریس نیوزکے مطابق بی بی آصفہ ڈینٹل کالج میں فائنل ایئر کی طالبہ نمرتا چندانی ہلاکت کیس میں نادرا کی جاری کردہ فنگر پرنٹ رپورٹ مل گئی ہے ۔ واقعے کے جوڈیشنل انکوائری افسر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اقبال حسین میتلو کو بھی نادرا رپورٹ جمع کروائی جا چکی ہے۔ جس میں کسی قسم کا کوئی ٹوس ثبوت نہیں مل پایا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس کے جائے وقوعہ سے جمع شدہ فنگر پرنٹس کا معیار انتہائی ناقص ہے، جس کی وجہ سے سے ان فنگر پرنٹس کا نادرا کے پاس موجود بائیو ڈیٹا سے کراس میچ نہیں ہوپایا۔ واقعے کے بعد متعدد افراد کے جائے وقوعہ پر آنے کے باعث فنگر پرنٹس کو نقصان ہوا، یونیورسٹی انتظامیہ واقعے کے فوری بعد اگر جائے وقوعہ کومحفوظ بنا لیتی توفنگرپرنٹس میچ ہوسکتے تھے۔
اس خبرکوبھی پڑھیں: نمرتا کی ڈی این اے رپورٹ جاری، کپڑوں پر مرد کے نشانات مل گئے
دوسری جانب پولیس کی جانب سے نادرا کو ایک ماہ کی تاخیر سے فنگرپرنٹس میچنگ بھیجے جانے بھی کا انکشاف ہوا ہے۔