اب فیس بک پر سروے کے بدلے رقم کمائیں
15 منٹ کے سروے کے 1000 پوائنٹس ہوں گے جس کے بعد پے پیل کے ذریعے 5 ڈالر حاصل کیے جاسکیں گے
فیس بک نے سروے کی ایپ لانچ کردی جس سے صارفین رقم بھی کماسکیں گے (فوٹو: دی ورج ویب سائٹ)
فیس بک نے مارکیٹ ریسرچ، مصنوعات کی جانچ اور سہولیات بہتر بنانے کی ایک نئی سروس شروع کی ہے جس میں عام صارفین سروے میں شامل ہوکر رقم بھی کماسکیں گے۔
پہلے مرحلے میں یہ سروس امریکا میں جاری کی گئی ہے جہاں 18 سال سے زائد عمر کے افراد ویو پوائنٹس کی ایپ ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد انہیں وہ کئی طرح کے سروے میں حصہ لے سکتے ہیں۔ اس سروے کا مقصد یہ ہے کہ خود 'فیس بک سوشل میڈیا کے منفی اثرات کو کم کرنا چاہتی ہے اور اس کے فوائد کو بڑھانا چاہتی ہے۔' اس کے علاوہ فیس بک کی جانب سے دیگر کمپنیوں کے سروے میں بھی شامل ہوا جاسکتا ہے۔
ساتھ ہی فیس بک اپنی نئی ایپس اور فیچرز کو پہلے سے ہی آزما کر ان کو مزید بہتر بنانا چاہتی ہے اور اس میں ویو پوائنٹس ایپ اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
1000 پوائنٹس کے 5 ڈالر
یاد رہے کہ یہ سروس ابھی امریکا میں ہی پیش کی جارہی ہے۔ اگر کوئی ویو پوائںٹس ایپ پر 15 منٹ سروے کرتا ہے تو اس سے 1000 پوائنٹس ملتے ہیں جس کے بعد آپ پے پیل کے ذریعے 5 ڈالر کماسکتےہیں۔ فیس بک نے کہا ہے کہ وہ اس ڈیٹا کو اپنے تک ہی محدود رکھے گی اور کسی تیسرے فریق کو فروخت نہیں کرے گی۔
https://www.youtube.com/watch?v=w6hT7gs2uGE&feature=emb_logo
اس کی ایپ آئی او ایس اور اینڈروئڈ دونوں کے لیے دستیاب ہے جبکہ اگلے برس دیگر ممالک کے افراد بھی اس میں حصہ لے سکیں گے اور کچھ رقم بناسکیں گے۔ دوسری جانب تجزیہ کاروں نے اس معاملے پر شک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شاید فیس بک لوگوں سے مزید ڈیٹا اینٹھنا چاہتا ہے اور لوگ رقم کی لالچ میں دھڑادھڑ اپنی تفصیلات اسے فراہم کردیں گے۔
سوشل میڈیا اور بالخصوص فیس بک کے ناقدین نے اس بار بھی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کم عمر بچے رقم کی لالچ میں اپنا ڈیٹا بھی فیس بک کو دیتے ہیں تو انہیں کیسے روکا جاسکتا ہے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ بہت اچھا نہیں ہوگا۔
امریکی صارفین نے کہا ہے کہ انہوں نے ایپ ڈاؤن لوڈ کی ہے لیکن انہیں نہ انہیں سروے میں شامل کیا گیا اور نہ ہی کسی رقم کی پیشکش کی گئی لیکن معلوم ہوا ہے کہ پہلے مرحلے مخصوص علاقوں اور مخصوص موضوعات کے سروے کیے گئے ہیں۔
پہلے مرحلے میں یہ سروس امریکا میں جاری کی گئی ہے جہاں 18 سال سے زائد عمر کے افراد ویو پوائنٹس کی ایپ ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد انہیں وہ کئی طرح کے سروے میں حصہ لے سکتے ہیں۔ اس سروے کا مقصد یہ ہے کہ خود 'فیس بک سوشل میڈیا کے منفی اثرات کو کم کرنا چاہتی ہے اور اس کے فوائد کو بڑھانا چاہتی ہے۔' اس کے علاوہ فیس بک کی جانب سے دیگر کمپنیوں کے سروے میں بھی شامل ہوا جاسکتا ہے۔
ساتھ ہی فیس بک اپنی نئی ایپس اور فیچرز کو پہلے سے ہی آزما کر ان کو مزید بہتر بنانا چاہتی ہے اور اس میں ویو پوائنٹس ایپ اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
1000 پوائنٹس کے 5 ڈالر
یاد رہے کہ یہ سروس ابھی امریکا میں ہی پیش کی جارہی ہے۔ اگر کوئی ویو پوائںٹس ایپ پر 15 منٹ سروے کرتا ہے تو اس سے 1000 پوائنٹس ملتے ہیں جس کے بعد آپ پے پیل کے ذریعے 5 ڈالر کماسکتےہیں۔ فیس بک نے کہا ہے کہ وہ اس ڈیٹا کو اپنے تک ہی محدود رکھے گی اور کسی تیسرے فریق کو فروخت نہیں کرے گی۔
https://www.youtube.com/watch?v=w6hT7gs2uGE&feature=emb_logo
اس کی ایپ آئی او ایس اور اینڈروئڈ دونوں کے لیے دستیاب ہے جبکہ اگلے برس دیگر ممالک کے افراد بھی اس میں حصہ لے سکیں گے اور کچھ رقم بناسکیں گے۔ دوسری جانب تجزیہ کاروں نے اس معاملے پر شک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شاید فیس بک لوگوں سے مزید ڈیٹا اینٹھنا چاہتا ہے اور لوگ رقم کی لالچ میں دھڑادھڑ اپنی تفصیلات اسے فراہم کردیں گے۔
سوشل میڈیا اور بالخصوص فیس بک کے ناقدین نے اس بار بھی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کم عمر بچے رقم کی لالچ میں اپنا ڈیٹا بھی فیس بک کو دیتے ہیں تو انہیں کیسے روکا جاسکتا ہے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ بہت اچھا نہیں ہوگا۔
امریکی صارفین نے کہا ہے کہ انہوں نے ایپ ڈاؤن لوڈ کی ہے لیکن انہیں نہ انہیں سروے میں شامل کیا گیا اور نہ ہی کسی رقم کی پیشکش کی گئی لیکن معلوم ہوا ہے کہ پہلے مرحلے مخصوص علاقوں اور مخصوص موضوعات کے سروے کیے گئے ہیں۔