عراق و افغانستان کی الم ناک صورتحال

عالمی سپرپاور امریکا کو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے افغان امن کے لیے مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنا چاہیے

عالمی سپرپاور امریکا کو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے افغان امن کے لیے مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنا چاہیے۔ فوٹو:فائل

اس وقت عراق میں حکومت کے خلاف جاری مظاہروں میں سیکیورٹی فورسزکی فائرنگ سے مزید 28مظاہرین جاں بحق اور 180زخمی ہوچکے ہیں۔ یہ سب کچھ انتہائی افسوسناک ہے، اس طرح قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ایک لمحہ فکریہ ہے۔

جو حکومتیں عوام سے دور ہوجاتی ہیں ان میں ایسے حالات کا جنم لینا انوکھی بات نہیں ۔ یہ مظاہرے بغداد اورکربلا سمیت کئی دوسرے عراقی شہروں میں بھی جاری ہیں۔ مظاہرین حکومت میں بڑھتی ہوئی کرپشن ، بے روزگاری اور مہنگائی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

اقتدار میں رہنے کی خواہش اور عوامی مسائل سے عدم دلچسپی کے باعث یہ حالت پیدا ہوئے ہیں۔ عراق پہلے ہی زخموں سے چور ہے چہ جائیکہ اب عوام سڑکوں پر ہیں،ان عوامی مظاہرین کی قیادت کسی کے ہاتھ میں نہیں ہے تو صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔


دوسری جانب افغانستان کے صوبہ قندوز میں ایک گاڑی سڑک کے کنارے بچھی بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے نتیجے میں دھماکا ہوا، جس کے باعث 8بچوں اور 6 خواتین سمیت 15افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔

فوری طور پر دھماکے کی ذمے داری کسی نے قبول نہیں کی ہے۔ معصوم اور بے گناہ خون بہانے کا عمل انسانیت کا قتل ہے۔ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان ٹکراؤ اور تصادم کی صورتحال نے عام شہریوں کی زندگی اجیرن بنا ڈالی ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق افغانستان میں رواں برس 2018ء کے مقابلے میں دہشت گردی کے واقعات میں شہریوں کی بڑی تعداد جاں بحق ہوگئی ہے۔

عالمی سپرپاور امریکا کو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے افغان امن کے لیے مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنا چاہیے تاکہ افغانستان میں پائیدار امن قائم ہوسکے اور خطے کے دیگر ممالک بشمول پاکستان دہشتگرد گروہوں سے محفوظ رہ سکیں۔
Load Next Story