سینیٹ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان تلخ کلامی
حکومت پرآرٹیکل 6 لگنا چاہیے،حاجی عدیل،جس پرلگنا چاہیے تھا اس پرلگایا نہیں ہم پرکیا لگائیں گے، شاہدخاقان عباسی کا جواب
گزشتہ دور حکومت میں ایم ڈی او جی ڈی سی ایل کی حیثیت سے مسعود صدیقی کی تقرری قانونی تھی تاہم تقرری و برطرفی وفاقی حکومت کا اختیار ہے،،وزیرپٹرولیم و قدرتی وسائل فوٹو فائل
سینیٹ کے اجلاس کے دوران خیبر پختونخوا میں ایم ڈی او جی ڈی سیایل کی برطرفی اور گیس کی فراہمی کے لئے نئی اسکیموں سے انکار پر وفاقی وزیر پیٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان تلخ کلامی ہوئی ہے۔
چیئرمین سید نئیر حسین بخاری کی سربراہی میں سینیٹ کا اجلاس شروع ہوا تو وزرا کی غیر موجودگی کے باعث وقفہ سوالات موخر کرنے کی درخواست کی گئی جس پر قائد حزب اختلاف سینیٹر رضا ربانی نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ صرف وزارت پانی وبجلی کے ہی 2 وزیر نہیں کابینہ میں دیگر وزرا کی بھی فوج ظفر موج ہے لیکن وہ ایوان میں آنا اپنی توہین سمجھتے ہیں، چیئرمین سینیٹ نے سوالات موخر کرتے ہوئے حکومتی ارکان کو ہدایت کی کہ اگر آئندہ سوالات کا سلسلہ موخر کرنا ہو تو بروقت اطلاع کی جائے۔
اجلاس کے دوران سابق ایم ڈی او جی ڈی سی ایل مسعود صدیقی کی برطرفی پر اپوزیشن کے اعتراض پر وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے اعتراف کیا کہ گزشتہ دور حکومت میں ایم ڈی او جی ڈی سی ایل کی حیثیت سے مسعود صدیقی کی تقرری قانونی تھی تاہم تقرری و برطرفی وفاقی حکومت کا اختیار ہے، جس معاہدے کے تحت مسعود صدیقی کو بھرتی کیا گیا اسی کے تحت ان کی برطرفی بھی برطرفی عمل میں لائی گئی، جس پر پیپلز پارٹی کے سینیٹر سعید غنی نے کہا کہ ایک قابل افسر کو صرف اس لئے برطرف کیا گیا کہ ان کی تقرری سابق حکومت نے کی۔
کرک اور کوہاٹ میں گیس کی فراہمی کی اسکیموں کے اجرا سے متعلق اٹھائے گئے اعتراض پر وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت اخراجات میں کمی کی راہ پر گامزن ہے اس سلسلے میں تمام محکموں کو اپنے اخراجات 30 فیصد کم کرنے کے اہداف دے دیئے ہیں وفاقی حکومت یا وزیراعظم کے صوابدیدی فنڈز ختم کردیئےگئے ہیں، نئے گیس منصوبوں کے لئے وفاقی حکومت کوئی نئے فنڈز بھی جاری نہیں کرے گی، خیبرپختونخوا میں نئے گیس منصوبے کے لئے وفاقی حکومت نہیں صوبائی حکومت فنڈ دے گی اس کے علاوہ گیس کی قلت کے باعث نئی گیس اسکیمیں شروع نہیں کی جاسکتی، وفاقی وزیر کے جواب میں عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر حاجی عدیل نے کہا کہ گیس اور دیگر سہولیات کی فراہمی حکومت کا فرض ہے، خیبر پختونخوا کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہے، پانی اورگیس ہم سے لیتے ہیں لیکن دیتے کچھ نہیں، بنیادی سہولیات کی فراہمی سے انکار پرحکومت پر آرٹیکل 6 لگنا چاہیے، جس پر وزیر پیٹرولیم نے جواب دیا کہ جس پرآرٹیکل 6 لگنا چاہیے تھا اس پرآپ نے لگایا نہیں ہم پر کیا لگائیں گے۔
چیئرمین سید نئیر حسین بخاری کی سربراہی میں سینیٹ کا اجلاس شروع ہوا تو وزرا کی غیر موجودگی کے باعث وقفہ سوالات موخر کرنے کی درخواست کی گئی جس پر قائد حزب اختلاف سینیٹر رضا ربانی نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ صرف وزارت پانی وبجلی کے ہی 2 وزیر نہیں کابینہ میں دیگر وزرا کی بھی فوج ظفر موج ہے لیکن وہ ایوان میں آنا اپنی توہین سمجھتے ہیں، چیئرمین سینیٹ نے سوالات موخر کرتے ہوئے حکومتی ارکان کو ہدایت کی کہ اگر آئندہ سوالات کا سلسلہ موخر کرنا ہو تو بروقت اطلاع کی جائے۔
اجلاس کے دوران سابق ایم ڈی او جی ڈی سی ایل مسعود صدیقی کی برطرفی پر اپوزیشن کے اعتراض پر وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے اعتراف کیا کہ گزشتہ دور حکومت میں ایم ڈی او جی ڈی سی ایل کی حیثیت سے مسعود صدیقی کی تقرری قانونی تھی تاہم تقرری و برطرفی وفاقی حکومت کا اختیار ہے، جس معاہدے کے تحت مسعود صدیقی کو بھرتی کیا گیا اسی کے تحت ان کی برطرفی بھی برطرفی عمل میں لائی گئی، جس پر پیپلز پارٹی کے سینیٹر سعید غنی نے کہا کہ ایک قابل افسر کو صرف اس لئے برطرف کیا گیا کہ ان کی تقرری سابق حکومت نے کی۔
کرک اور کوہاٹ میں گیس کی فراہمی کی اسکیموں کے اجرا سے متعلق اٹھائے گئے اعتراض پر وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت اخراجات میں کمی کی راہ پر گامزن ہے اس سلسلے میں تمام محکموں کو اپنے اخراجات 30 فیصد کم کرنے کے اہداف دے دیئے ہیں وفاقی حکومت یا وزیراعظم کے صوابدیدی فنڈز ختم کردیئےگئے ہیں، نئے گیس منصوبوں کے لئے وفاقی حکومت کوئی نئے فنڈز بھی جاری نہیں کرے گی، خیبرپختونخوا میں نئے گیس منصوبے کے لئے وفاقی حکومت نہیں صوبائی حکومت فنڈ دے گی اس کے علاوہ گیس کی قلت کے باعث نئی گیس اسکیمیں شروع نہیں کی جاسکتی، وفاقی وزیر کے جواب میں عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر حاجی عدیل نے کہا کہ گیس اور دیگر سہولیات کی فراہمی حکومت کا فرض ہے، خیبر پختونخوا کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہے، پانی اورگیس ہم سے لیتے ہیں لیکن دیتے کچھ نہیں، بنیادی سہولیات کی فراہمی سے انکار پرحکومت پر آرٹیکل 6 لگنا چاہیے، جس پر وزیر پیٹرولیم نے جواب دیا کہ جس پرآرٹیکل 6 لگنا چاہیے تھا اس پرآپ نے لگایا نہیں ہم پر کیا لگائیں گے۔