ایرانی پھلوں کی اسمگلنگ روکنے کیلیے حکمت عملی تیار

بلوچستان اسمبلی میں قراردادپیش،وفاقی اداروں کوموثرنگرانی کیلیے متحرک کیا جائیگا

گزشتہ برس ایرانی پھلوں سے بلوچستان کے کاشتکاروں اورٹریڈرزکوبھاری نقصان ہوا، جبار کاکڑ۔ فوٹو؛ فائل

بلوچستان کے کاشت کاروں اور ٹریڈرز نے ایران سے پھلوں کی غیرقانونی آمد کی روک تھام کے لیے مہم کا آغاز کردیا ہے۔

اس ضمن میں بلوچستان اسمبلی میں قرار داد پیش کی جائیگی اور وفاقی حکومت کے ماتحت اداروں کو بھی سرحدوں کی موثر نگرانی اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے متحرک کیا جائے گا۔ بلوچستان زمیندار ایکشن کمیٹی اور بلوچستان ہارٹی کلچر کوآپریٹو سوسائٹی کے بانی رکن حاجی جبار کاکڑ نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ گزشتہ سال ایران سے بڑے پیمانے پر پھلوں کی آمد سے بلوچستان کے کاشتکاروں اور ٹریڈرز کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا تاہم اس سال پھلوں کی اسمگلنگ کا راستہ روکنے کے لیے حکمت عملی تیار کرلی گئی ہے۔




انہوں نے بتایا کہ رواں ہفتے بلوچستان اسمبلی میں قرار داد پیش کی جائیگی جس کے تحت ایران سے پھلوں کی غیرقانونی آمد کا راستہ بند کرنے کے لیے صوبائی اداروں کو فعال بنایا جائے گا، ساتھ ہی وفاقی حکومت کے ماتحت اداروں کو بھی متحرک کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایاکہ رواں سیزن میں ایران سے پھلوں کی غیرقانونی آمد نہ ہونے کے برابر ہے۔
Load Next Story