ڈرون حملے پاکستان میں خود کش دھماکے کرانیکی منظم سازش ہے سیاسی و مذہبی رہنما
اتحادیوں کو اپنے مفادات عزیز ہیں، فضل الرحمن،امریکا پاکستان کا دوست نہیں بلکہ دشمن ہے،حمید گل
جب بھی پاکستان کی طرف سے مذاکرات کی کوششیں کی جاتی ہیں امریکہ ڈرون حملے کرکے ان ساری کوششوں کو سبوتاژ کر دیتاہے۔فوٹو:فائل
مذہبی و سیاسی رہنماؤں نے امریکا کی طرف سے ڈرون حملوں کو تحریک طالبان سے مذاکرات سبوتاژ کرنے اور پاکستان میں امن و امان برباد کرنے کی خوفناک سازش قرار دیا ہے اور کہاکہ جب بھی پاکستان نے مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کرنے کی کوشش کی ہے۔
امریکا نے ڈرون حملے کرکے حالات خراب کیے ہیں، امریکا کی طرف سے حالیہ ڈرون حملے پاکستانی حکمرانوں کیلیے پیغام ہے کہ ان کے نزدیک آپ کی باتوں کی کوئی حیثیت نہیں، حکومت پاکستان کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ امریکا پاکستان نہیں بھارت کو اپنا اتحادی سمجھتا ہے، ڈرون حملے پاکستان میں خودکش حملے پروان چڑھانے کی منظم سازش ہیں، جب تک ڈرون حملے نہیں روکے جائیں گے، مذاکرا ت مشکلات سے دوچار رہیں گے۔ امریکا ڈرون حملوںسے باز نہیں آتا تو ڈرون گرانے اور نیٹو سپلائی بند کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔
ان خیالات کا اظہارامیر جے یو آئی(ف) فضل الرحمٰن، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، امیر جماعۃالدعوۃ پروفیسر حافظ محمد سعید، صاحبزادہ ابوالخیر زبیر، جنرل ریٹائرڈ حمید گل، جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم، مسلم لیگ (ض) کے سربراہ اعجاز الحق، حافظ عبدالرحمٰن مکی اور امیر جماعت اہلحدیث حافظ عبدالغفار روپڑی و دیگر نے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ڈرون حملے نے ثابت کر دیا کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو صرف اپنے مفادات عزیز ہیں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ امریکا نے اپنا قانون بنا رکھا ہے جب چاہتا ہے ڈرون حملہ کر دیتا ہے، حالیہ ڈرون حملہ طالبان سے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے، امریکا خود مذاکرات کا راستہ نکالتا ہے۔
جبکہ دوسروں کیلیے رکاوٹیں ڈالتا ہے اسکا دہرا معیار کسی طرح بھی ٹھیک نہیں۔ پنجاب کیصوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ڈرون حملے سے مذاکرات کا عمل بری طرح متاثر ہوگا، تحریک طالبان سے مذاکرات جاری رہنے چاہئیں، ڈرون حملے کے بعد سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ امیر جماعۃالدعوۃ حافظ سعید نے کہاکہ جب بھی پاکستان کی طرف سے مذاکرات کی کوششیں کی جاتی ہیں امریکہ ڈرون حملے کرکے ان ساری کوششوں کو سبوتاژ کر دیتاہے۔
انھوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ پاکستانی حدود میں گھسنے والے ڈرون طیارے مار گرانے کا اعلان کرے اور نیٹو سپلائی لائن بند کر دی جائے۔ آئی این پی کے مطابق ملی یکجہتی کونسل کے صدر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیرنے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ حکومت کے طالبان سے مذاکرات شروع ہونے والے تھے امریکا کا ڈرون حملہ کر کے تحریک طالبان کے سینئر رہنما کو نشانہ بنانا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ امریکہ پاکستان میںبدامنی کو قائم رکھنا چاہتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ اپنے مذموم مقاصد حاصل کرسکے۔
جنرل ریٹائرڈ حمید گل نے کہاکہ حکومت پاکستان کو طالبان سے مذاکرات کے عمل کو خفیہ رکھنا چاہیے تھا، امریکا نے ڈرون حملے کرکے بتا دیاہے کہ وہ پاکستان کا دوست نہیں بلکہ دشمن ہے۔ دفاعی تجزیہ نگار لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم نے کہاکہ حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت پاکستان کے مفاد میں نہیں، حکومت اور طالبان کے درمیان شروع ہونیوالے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی ایک سازش ہے۔مسلم لیگ (ض) کے سربراہ اعجاز الحق نے کہاکہ امریکا نے مذاکرات میں تیسری مرتبہ رخنہ ڈال دیا ہے۔
جماعۃالدعوۃ کی سیاسی امور کمیٹی کے سربراہ حافظ عبدالرحمٰن مکی نے کہاکہ امریکا کو واضح پیغام دیا جائے کہ ہم ڈرون حملوں کا منہ توڑ جواب دینے کیلیے تیار ہیں۔ امیر جماعت اہلحدیث حافظ عبدالغفار روپڑی نے کہاکہ امریکا طالبان کے ساتھ حکومت پاکستان کے مذاکرات کو ناکام بنانا چاہتا ہے اور پاکستان میں تخریب کاری ودہشتگردی کی لہر کو جاری رکھ کر انتقام کا نشانہ بنانا چاہتا ہے۔
امریکا نے ڈرون حملے کرکے حالات خراب کیے ہیں، امریکا کی طرف سے حالیہ ڈرون حملے پاکستانی حکمرانوں کیلیے پیغام ہے کہ ان کے نزدیک آپ کی باتوں کی کوئی حیثیت نہیں، حکومت پاکستان کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ امریکا پاکستان نہیں بھارت کو اپنا اتحادی سمجھتا ہے، ڈرون حملے پاکستان میں خودکش حملے پروان چڑھانے کی منظم سازش ہیں، جب تک ڈرون حملے نہیں روکے جائیں گے، مذاکرا ت مشکلات سے دوچار رہیں گے۔ امریکا ڈرون حملوںسے باز نہیں آتا تو ڈرون گرانے اور نیٹو سپلائی بند کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔
ان خیالات کا اظہارامیر جے یو آئی(ف) فضل الرحمٰن، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، امیر جماعۃالدعوۃ پروفیسر حافظ محمد سعید، صاحبزادہ ابوالخیر زبیر، جنرل ریٹائرڈ حمید گل، جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم، مسلم لیگ (ض) کے سربراہ اعجاز الحق، حافظ عبدالرحمٰن مکی اور امیر جماعت اہلحدیث حافظ عبدالغفار روپڑی و دیگر نے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ڈرون حملے نے ثابت کر دیا کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو صرف اپنے مفادات عزیز ہیں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ امریکا نے اپنا قانون بنا رکھا ہے جب چاہتا ہے ڈرون حملہ کر دیتا ہے، حالیہ ڈرون حملہ طالبان سے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے، امریکا خود مذاکرات کا راستہ نکالتا ہے۔
جبکہ دوسروں کیلیے رکاوٹیں ڈالتا ہے اسکا دہرا معیار کسی طرح بھی ٹھیک نہیں۔ پنجاب کیصوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ڈرون حملے سے مذاکرات کا عمل بری طرح متاثر ہوگا، تحریک طالبان سے مذاکرات جاری رہنے چاہئیں، ڈرون حملے کے بعد سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ امیر جماعۃالدعوۃ حافظ سعید نے کہاکہ جب بھی پاکستان کی طرف سے مذاکرات کی کوششیں کی جاتی ہیں امریکہ ڈرون حملے کرکے ان ساری کوششوں کو سبوتاژ کر دیتاہے۔
انھوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ پاکستانی حدود میں گھسنے والے ڈرون طیارے مار گرانے کا اعلان کرے اور نیٹو سپلائی لائن بند کر دی جائے۔ آئی این پی کے مطابق ملی یکجہتی کونسل کے صدر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیرنے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ حکومت کے طالبان سے مذاکرات شروع ہونے والے تھے امریکا کا ڈرون حملہ کر کے تحریک طالبان کے سینئر رہنما کو نشانہ بنانا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ امریکہ پاکستان میںبدامنی کو قائم رکھنا چاہتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ اپنے مذموم مقاصد حاصل کرسکے۔
جنرل ریٹائرڈ حمید گل نے کہاکہ حکومت پاکستان کو طالبان سے مذاکرات کے عمل کو خفیہ رکھنا چاہیے تھا، امریکا نے ڈرون حملے کرکے بتا دیاہے کہ وہ پاکستان کا دوست نہیں بلکہ دشمن ہے۔ دفاعی تجزیہ نگار لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم نے کہاکہ حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت پاکستان کے مفاد میں نہیں، حکومت اور طالبان کے درمیان شروع ہونیوالے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی ایک سازش ہے۔مسلم لیگ (ض) کے سربراہ اعجاز الحق نے کہاکہ امریکا نے مذاکرات میں تیسری مرتبہ رخنہ ڈال دیا ہے۔
جماعۃالدعوۃ کی سیاسی امور کمیٹی کے سربراہ حافظ عبدالرحمٰن مکی نے کہاکہ امریکا کو واضح پیغام دیا جائے کہ ہم ڈرون حملوں کا منہ توڑ جواب دینے کیلیے تیار ہیں۔ امیر جماعت اہلحدیث حافظ عبدالغفار روپڑی نے کہاکہ امریکا طالبان کے ساتھ حکومت پاکستان کے مذاکرات کو ناکام بنانا چاہتا ہے اور پاکستان میں تخریب کاری ودہشتگردی کی لہر کو جاری رکھ کر انتقام کا نشانہ بنانا چاہتا ہے۔