سمندری تیزابیت سے شارک کی جلد جھلسنے کا امکان
سمندروں میں تیزابیت بڑھنے سے شارک کی جلد پر خردبینی چھلکے اور دانت غائب ہوسکتے ہیں
تصویر میں پفیڈر شارک دکھائی دے رہی ہے اور سمندری تیزابیت سے اس کی جلد متاثر ہوسکتی ہے (فوٹو: نیو سائنٹسٹ)
آب و ہوا میں تبدیلی یا کلائمٹ چینج کے باعث سب سے زیادہ بے زبان جانور متاثر ہورہے ہیں اور اب خبر یہ ہے کہ سمندروں میں بڑھتی ہوئی تیزابیت یعنی ایسڈیفکیشن سے شارک کی جلد جھلس سکتی ہے اور ان کی جلد کے خدوخال شدید متاثر ہوسکتے ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ شارک کی کھال پر بنے خردبینی ابھار یا ڈینٹیکلز ان جانوروں کو تیرنے میں مدد دیتے ہیں اور اگر پانی میں تیزابیت بڑھتی ہے تو اس سے شارک کے تیرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
جنوبی افریقا میں شعبہ زراعت اور ماہی گیری کے ماہر لیوز اورسوالڈ کہتے ہیں کہ جیسے جیسے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ بڑھتی ہے تو وہ سمندر کی گہرائی میں سرایت کرتی جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں سمندروں میں تیزابیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اب اس تیزابیت کی تباہ کاریاں مونگے اور مرجانی چٹانوں کی بربادی کی صورت میں نمودار ہورہی ہیں۔
کاربن ڈائی آکسائیڈ کے سمندر اور خود شارک پر اثرات جاننے کے لیے لیوز اور ان کے ساتھیوں نے 80 کے قریب پفیڈر شارک پر تجربات کیے۔ یہ شارک کم گہرے پانیوں میں رہتی ہے اور اسے ایک تالاب میں ڈالا گیا۔ اگرچہ یہ مچھلیاں پہلے ہی تیزابی پانی کو سہنے کی مطابقت پیدا کرچکی تھی۔
تجرباتی پانی میں تیزابیت اتنی تھی کہ بعض سمندری جانور بھی اس میں نہیں رہ سکتے تھے۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی زیادتی کی وجہ سے ان کے جسم تک آکسیجن نہیں پہنچ پارہی تھی۔ اس کیفیت میں پفیڈر شارک نے اپنے خون میں الکلی بڑھائی تاکہ وہ مزید بیمار نہ ہوپائے۔
سائنسدانوں نے شارک کو ایک ٹینک میں ڈالا جس کی پی ایچ یا تیزابیت کا پیمانہ 8 تھا جو اب عالمی سمندروں میں عام ہوچکا ہے۔ نو ہفتے بعد دیکھا گیا کہ شارک نے اپنے خون میں الکلی بڑھائی لیکن اس کے بعد ایک عجیب وغریب مظہر نوٹ کیا گیا یعنی ان کی جلد پر بنے باریک ابھار متاثر ہونے لگے۔
اسی طرح شارک کے دانت بھی عین اسی مادے سے بنے ہوتے جس سے ڈینٹیکلز تشکیل پاتے ہیں تو خدشہ ہے کہ سمندری تیزابیت شارک کے دانتوں کو بھی متاثر کرے گی یا کررہی ہے۔ ماہرین نے بتایا کہ شارک کی جلد پر موجود ابھار اسے تیرنے میں مدد دیتے ہیں۔ ایک طرح کی شارک ، وائٹ شارک بھی ہے جس کے تیرنے میں 12 فیصد کردار ان خدوخال کا ہوتا ہے ۔ ڈینٹیکلز اس شارک کی تیزرفتاری میں 12 فیصد تک کردار ادا کرتے ہیں۔
اگر شارک کی جلد کے یہ ابھار ختم ہوجاتے ہیں تو ان کی رفتار پر اثر پڑتا ہے اور وہ شکار پکڑنے سے محروم رہ جائیں گی۔ واضح رہے کہ اس وقت بھی شارک اپنی بقا کے مسائل کی شکار ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ شارک کی کھال پر بنے خردبینی ابھار یا ڈینٹیکلز ان جانوروں کو تیرنے میں مدد دیتے ہیں اور اگر پانی میں تیزابیت بڑھتی ہے تو اس سے شارک کے تیرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
جنوبی افریقا میں شعبہ زراعت اور ماہی گیری کے ماہر لیوز اورسوالڈ کہتے ہیں کہ جیسے جیسے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ بڑھتی ہے تو وہ سمندر کی گہرائی میں سرایت کرتی جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں سمندروں میں تیزابیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اب اس تیزابیت کی تباہ کاریاں مونگے اور مرجانی چٹانوں کی بربادی کی صورت میں نمودار ہورہی ہیں۔
کاربن ڈائی آکسائیڈ کے سمندر اور خود شارک پر اثرات جاننے کے لیے لیوز اور ان کے ساتھیوں نے 80 کے قریب پفیڈر شارک پر تجربات کیے۔ یہ شارک کم گہرے پانیوں میں رہتی ہے اور اسے ایک تالاب میں ڈالا گیا۔ اگرچہ یہ مچھلیاں پہلے ہی تیزابی پانی کو سہنے کی مطابقت پیدا کرچکی تھی۔
تجرباتی پانی میں تیزابیت اتنی تھی کہ بعض سمندری جانور بھی اس میں نہیں رہ سکتے تھے۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی زیادتی کی وجہ سے ان کے جسم تک آکسیجن نہیں پہنچ پارہی تھی۔ اس کیفیت میں پفیڈر شارک نے اپنے خون میں الکلی بڑھائی تاکہ وہ مزید بیمار نہ ہوپائے۔
سائنسدانوں نے شارک کو ایک ٹینک میں ڈالا جس کی پی ایچ یا تیزابیت کا پیمانہ 8 تھا جو اب عالمی سمندروں میں عام ہوچکا ہے۔ نو ہفتے بعد دیکھا گیا کہ شارک نے اپنے خون میں الکلی بڑھائی لیکن اس کے بعد ایک عجیب وغریب مظہر نوٹ کیا گیا یعنی ان کی جلد پر بنے باریک ابھار متاثر ہونے لگے۔
اسی طرح شارک کے دانت بھی عین اسی مادے سے بنے ہوتے جس سے ڈینٹیکلز تشکیل پاتے ہیں تو خدشہ ہے کہ سمندری تیزابیت شارک کے دانتوں کو بھی متاثر کرے گی یا کررہی ہے۔ ماہرین نے بتایا کہ شارک کی جلد پر موجود ابھار اسے تیرنے میں مدد دیتے ہیں۔ ایک طرح کی شارک ، وائٹ شارک بھی ہے جس کے تیرنے میں 12 فیصد کردار ان خدوخال کا ہوتا ہے ۔ ڈینٹیکلز اس شارک کی تیزرفتاری میں 12 فیصد تک کردار ادا کرتے ہیں۔
اگر شارک کی جلد کے یہ ابھار ختم ہوجاتے ہیں تو ان کی رفتار پر اثر پڑتا ہے اور وہ شکار پکڑنے سے محروم رہ جائیں گی۔ واضح رہے کہ اس وقت بھی شارک اپنی بقا کے مسائل کی شکار ہیں۔