انسانی دانت پر مشتمل دنیا کی پہلی ڈینٹل چِپ تیار

چپ پر انسانی دانت کے بعض اجزا شامل کرکے دانتوں میں کیڑے لگنے اور فِلنگ کے عمل کو بہتر طور پر سمجھا جاسکے گا

اوریگون یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے دنیا کی پہلی چپ بنائی ہے جو عین دانتوں کی طرح ہے۔ بشکریہ اوریگون یونیورسٹٰی

سائنس کی خبروں میں دلچسپی رکھنے والے افراد اس سے قبل چپ پر تجربہ گاہ، چپ پر انسانی دماغی خلیات اور دیگر ایسی ہی پیش رفت پڑھ چکے ہیں۔ اس میں تازہ اضافہ انسانی دانت کو چپ پر منتقل کرکے کیا گیا ہے۔


دانت والی چپ ہوبہو انسانی دانت کی طرح ہے کیونکہ اس پر انسانی دانت کے زندہ حیاتیاتی ٹشو چپکائے گئے ہیں اور دانتوں کی معدن کے کچھ اجزا بھی شامل کیے گئے ہیں۔ اس طرح یہ دنیا کی پہلی چپ ہے جو دانتوں کی خرابی بالخصوص کیڑے لگنے اور جوف (کیویٹی) بننے کے عمل کو سمجھنے میں مدد دے گی۔

اوریگون ہیلتھ اینڈ سائنس یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اسے تیار کیا ہے۔ چپ میں ڈاڑھ سے کشید کردہ بعض حصے شامل کرکے انہیں ربڑ کی دو سلائیڈوں کے درمیان پھنسایا گیا۔ ربڑ کی ہر پرت کے اندر باریک سوراخ بنائے گئے ہیں جس میں مائعات ڈالے جاسکتے ہیں۔


یہ عمل انسانی دانت میں سوراخ کی طرح ہی ہے جس میں عین انسانی منہ میں موجود مختلف کیمیکل، بیکٹیریا اور تیزاب وغیرہ ڈال کر دانت کے خراب ہونے کا پورا مرحلہ دیکھا جاسکتا ہے۔ اسے سمجھ کر ہم دانتوں کے مرض کو بہتر طور پر جان سکیں گے اور دانتوں کی مرمت کے بہتر علاج سامنے آئیں گے۔

ایک مرتبہ دانت کو خراب کرنے کا عمل شروع ہوجائے گا تو سائنسداں وقفے وقفے سے خردبین کے ذریعے اس کا مشاہدہ کریں گے۔ اس طرح ہم ابتدا سے جان سکیں گے کہ دانت خراب ہونے کا عمل کس طرح شروع ہوتا ہے۔ اوریگون کے سائنسداں اس طرح دانتوں کے لیے موزوں ترین بھرت (فلنگ) اور دیگر علاج کو بھی جان سکیں گے۔

تحقیقی ٹیم میں شامل سینئر سائنسداں پروفیسر لوئز نے کہا کہ ' چند سال میں ہی ڈاکٹر کسی مریض کا دانت نکال کر اسی طرح کے آلے میں رکھیں گے اور دیکھیں گے کہ آخر کس طرح فلنگ جلد یا بدیر جواب دے جاتی ہیں، اس طرح دانتوں کے لیے بہترین علاج سامنے آئے گا اور دندان سازی کا پورا عمل ایک نئے انقلاب سے دوچار ہوگا'۔
Load Next Story