بھارتی طالبہ کا مسلم مخالف قانون پر گولڈ میڈل وصولی کرنے سے انکار

طالبہ کو صدر رام ناتھ کووند کے واپس چلے جانے تک زبردستی کانووکیشن میں شرکت سے روکے رکھا گیا

ربیحہ نے شعبہ ابلاغیات میں اول پوزیشن حاصل کی تھی، فوٹو : فیس بک

جارحیت پسند مودی سرکار کی متعصبانہ پالیسیوں کی وجہ سے عوام میں غم و غصہ بڑھتا جا رہا ہے اور ہر سطح پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جس کی ایک مثال مسلم طالبہ ربیحہ عبدالرحیم ہیں جنہوں نے مسلم مخالف قانون کے باعث گولڈ میڈل لینے سے انکار کردیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی ریاست کیرالہ کی انڈیچیری یونیورسٹی کے 27ویں کانووکیشن میں صدر رام ناتھ کووند کو طلبا میں میڈلز اور اسناد تقسیم کرنا تھا تاہم طلبا کے گروپ نے مسلم مخالف متنازع قانون پر احتجاجاً صدر سے اسناد لینے سے انکار کردیا جس پر سیکیورٹی سخت کردی گئی اور کسی بھی مسلمان طلبہ کو کانووکیشن میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔



ایسے طلبا میں شعبہ ابلاغیات میں ٹاپ کرنے والی ہونہار طالبہ ربیحہ رحیم بھی شامل ہیں۔ ربیحہ کو کسی ممکنہ احتجاج کے پیشن نظر کانووکیشن سینٹر میں داخل ہونے نہیں دیا گیا، صدر رام ناتھ کووند کے کانووکیشن سے جانے کے بعد ربیحہ کو اندر جانے کی اجازت دی گئی تاہم ربیحہ نے اسٹیج پر پہنچ کر اپنی سند تو لے لی لیکن گولڈ میڈل لینے سے انکار کردیا۔

یہ خبر پڑھیں: شہریت بل کی متنازع شقوں کومنسوخ کرنے کیلیے عالمی برادری بھارت پر دباؤ ڈالے، او آئی سی

مسلم طالبہ نے میڈیا کو بتایا کہ شہریت ترمیمی قانون کیخلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بھرپور شرکت کی تھی تاہم گولڈ میڈل لیتے ہوئے کسی قسم کے احتجاج کا ارادہ نہیں تھا اس کے باوجود مجھے صدر رام ناتھ کووند کے واپس چلے جانے تک کانووکیشن میں شرکت سے روک دیا گیا۔ میں ایسے گولڈ میڈل کو ٹھوکر مارتی ہوں۔








View this post on Instagram


I have dreamt often about the moment I would receive my gold medal and master's certificate fondly. Never did I imagine it would end up being a way in which I could send a strong peaceful message across India. As a woman, as a student, as an Indian, today in my graduation I reject the Gold medal that is awarded to me in solidarity with all the students and public of India who are fighting against CAA and NRC in India. This is my way of showing the world what education means to us youth, not medals and certificates but learning the message of unity, peace and standing up against injustice, fascism and bigotry. And even though (for unknown reasons) I was send out of the auditorium where 100s of students sat awaiting their medals when the president came and was only allowed inside when he left, I feel at peace for the fact that I was able to take a stand as an educated youth. P. S.. I have been seeing news which says I was asked to remove my scarf. That is false. No one asked me to remove anything. No one told me why I was kept outside.


A post shared by Rabeeha Abdurehim (@rabeeha.abdurehim) on Dec 23, 2019 at 3:21am PST



Load Next Story