حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے باعث دہشت گردی کے خطرات بڑھ گئے آئی جی سندھ
کراچی میں اسلحے کی برآمدگی کیلیے کرفیو نہیں گھیراؤ کرکے تلاشی کی حکمت عملی زیرغورہے،شاہدندیم بلوچ
خودکش دھماکے روکنے کیلیے ٹیکنالوجی کی ضرروت ہے۔آئی جی سندھ ۔ فوٹو: فائل
انسپیکٹرجنرل سندھ شاہدندیم بلوچ نے کہاہے کہ حکیم اللہ محسودکے مارے جانے کے بعدمحرم میں سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں،جس کومدنظررکھتے ہوئے محکمہ پولیس نے بھی قیام امن کے حوالے سے تیاریوں میں اضافہ کر دیا۔
کراچی میں اچانک ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ باعث تشویش ہے،ان کلنگز میں سے کچھ کی نشاندہی ہوئی ہیں تاہم تحقیقات کے بعدہی اصل حقائق سامنے آئیںگے۔یہ بات انھوں نے ڈی آئی جی حیدرآباد ریجن کے دفتر میں میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کہی۔انھوں نے کہاکہ محرم الحرام میں اندورن سندھ رینجرزکی تعیناتی کیلیے اجلاس جاری ہیں جبکہ صرف حیدرآبادریجن کے اضلاع میں15 ہزار400سے زائد پولیس افسران اور اہلکار متعین کیے جائیں گے،موبائل فون پرپابندی لگانا وفاق کامسئلہ ہے لیکن محرم الحرام کے دوران موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پرپابندی متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنر اورایس ایس پی کی تجاویز پر لگائی جائیں گی، خودکش دھماکے روکنے کیلیے ٹیکنالوجی کی ضرروت ہے۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی شاہدحیات نے محرم الحرام سے قبل شروع ہونے والے ٹارگٹ کلنگز کوشیعہ سنی فسادات کی سازش قراردیتے ہوئے دعویٰ کیاہے کہ پولیس فرقہ وارانہ فسادات قتل میں ملوث عناصرکے قریب پہنچ گئی ہے جنھیں جلدہی گرفتار کرلیاجائے گا۔منگل کونارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈاینڈ انڈسٹری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہدحیات نے کہا کہ پیر کواہل تشیع اورمنگل کو سنی افرادکو نشانہ بنایا گیاتاہم پولیس نے فرقہ وارانہ فسادات کے سازش کے مرتکب ملزمان کے نام حاصل کرلیے ہیں اور انھیں2دنوں میں گرفتار کرلیا جائے گا، ہم کسی کے دبائو میں نہیں ہیں، انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ شہر میں پولیس کی سرپرستی میں جرائم کے اڈے چل رہے تھے اوراب بھی بھتہ خوری ہورہی ہے جس میں افغانستان اورجنوبی افریقہ کی موبائل سموںکااستعمال ہورہاہے۔
کراچی میں اچانک ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ باعث تشویش ہے،ان کلنگز میں سے کچھ کی نشاندہی ہوئی ہیں تاہم تحقیقات کے بعدہی اصل حقائق سامنے آئیںگے۔یہ بات انھوں نے ڈی آئی جی حیدرآباد ریجن کے دفتر میں میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کہی۔انھوں نے کہاکہ محرم الحرام میں اندورن سندھ رینجرزکی تعیناتی کیلیے اجلاس جاری ہیں جبکہ صرف حیدرآبادریجن کے اضلاع میں15 ہزار400سے زائد پولیس افسران اور اہلکار متعین کیے جائیں گے،موبائل فون پرپابندی لگانا وفاق کامسئلہ ہے لیکن محرم الحرام کے دوران موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پرپابندی متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنر اورایس ایس پی کی تجاویز پر لگائی جائیں گی، خودکش دھماکے روکنے کیلیے ٹیکنالوجی کی ضرروت ہے۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی شاہدحیات نے محرم الحرام سے قبل شروع ہونے والے ٹارگٹ کلنگز کوشیعہ سنی فسادات کی سازش قراردیتے ہوئے دعویٰ کیاہے کہ پولیس فرقہ وارانہ فسادات قتل میں ملوث عناصرکے قریب پہنچ گئی ہے جنھیں جلدہی گرفتار کرلیاجائے گا۔منگل کونارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈاینڈ انڈسٹری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہدحیات نے کہا کہ پیر کواہل تشیع اورمنگل کو سنی افرادکو نشانہ بنایا گیاتاہم پولیس نے فرقہ وارانہ فسادات کے سازش کے مرتکب ملزمان کے نام حاصل کرلیے ہیں اور انھیں2دنوں میں گرفتار کرلیا جائے گا، ہم کسی کے دبائو میں نہیں ہیں، انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ شہر میں پولیس کی سرپرستی میں جرائم کے اڈے چل رہے تھے اوراب بھی بھتہ خوری ہورہی ہے جس میں افغانستان اورجنوبی افریقہ کی موبائل سموںکااستعمال ہورہاہے۔