ڈرون گرانے کیلیے تمام جماعتوں کو مل کر فیصلہ کرنا ہوگا بلور

صوبائی حکومت کوخارجہ پالیسی مرتب کرنے کا اختیارنہیں،ایساہوا تو غلط ہوگا،رہنما اے این پی


Monitoring Desk November 06, 2013
طالبان نے ہمارے ساتھ بہت زیادتی کی ہے لیکن ہم پھر بھی مذاکرات کے حامی ہیں ۔ فوٹو: فائل

اے این پی کے رہنما حاجی غلام احمد بلور نے کہا ہے کہ اگر ڈرون گرانا یا نیٹوکی سپلائی روکنی ہے تو پھرسب کومل بیٹھ کرفیصلہ کرنا ہوگا ۔

صوبائی حکومت کے اختیار میں نہیں کہ وہ خارجہ پالیسی مرتب کرے اگر ایسا کچھ ہوتا ہے تو غلط ہوگا۔ایکسپریس نیوزکے پروگرام کل تک میں میزبان جاوید چوہدری سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ احتجاج ہوسکتا ہے بھوک ہڑتال ہوسکتی ہے لیکن یہ کہنا کہ خارجہ پالیسی ہم طے کریں گے غلط ہے۔ طالبان نے ہمارے ساتھ بہت زیادتی کی ہے لیکن ہم پھر بھی مذاکرات کے حامی ہیں ۔



تحریک انصاف کے رہنما مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ ہم نے وفاق کو 20 نومبر تک کا ٹائم دیا ہے تاکہ وہ یہ نہ کہیں کہ ہم نے اپنے طور پرکوئی آزادفیصلہ کرلیا ہے۔پشاورہائی کورٹ کا فیصلہ ہے کہ ڈرون حملے غلط ہیں تو ہم عدالتی فیصلے پر چل رہے ہیں ہم اپنی بات نہیں کرتے ہم عدالت کے حکم کے مطابق کہہ رہے ہیں ۔ ہمارا خارجہ پالیسی پراختلاف نہیں ہے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ ڈرون حملے رک جائیں ۔آج امریکاہمارے قانون اور آئین کو بھی پامال کررہا ہے امریکا نے جان بوجھ کر مذاکرات کو سبوتاژکیا ہے۔ ہمارا یہ ایشو نہیں ہے کہ حکیم اللہ محسود شہید تھا یا نہیں ہمارا تو ایشو ہی قیام امن کی کوششیں کرنا ہے۔