جلن مٹانے دوا پہنچانے اور کینسر سے بچانے والا ہائیڈروجل انجکشن
ہائیڈروجل کے ٹیکے کی بدولت جسم میں دوا پہنچانے اور زخم کو تیزی سے مندمل کرنےکا کام لیا جاسکتا ہے
ان ہائیڈروجل کو انجیکشن کے ذریعے بھی جسم میں داخل کیاجاسکتا ہے۔ فوٹو: فائل
سائنسدانوں نے ہائیڈروجل (گاڑھے آبی محلول) پر مشتمل انجکشن بنائے ہیں جن کے ذریعے زخموں کو درست کرنے، دوا پہنچانے اور کینسر کے علاج میں مدد لی جاسکتی ہے۔
ہائیڈرجل کو خاص انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے اور یہ عین اسی طرح تشکیل پاتے ہیں جس طرح جسمانی خلیات (سیل) جڑ کر ایک چادر کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ اس پر خون کی نئی رگیں بن سکتی ہیں اور جب قدرتی کھال یا ٹشو بن جائے تو یہ ہائیڈروجل کی پرت خود گھل کر ختم ہوجاتی ہے۔ ہائیڈروجل پر حیاتیاتی شئے یا دوا رکھی جاسکتی ہے اور اس طرح زخموں کو تیزی سے مندمل کیا جاتا ہے۔
یہ تحقیق رائس یونیورسٹی کے بایو انجینئر جیفرے ہارٹگیرنک اور ان کے ساتھیوں نے کی ہے۔ محققین نے خاص پیپٹائڈ والے ہائیڈروجل پر برسوں کام کرکے ان کی 100 سے زائد اقسام تیار کی ہیں۔ دوسرے مرحلے میں ہائیڈروجل کو جسم کے اندر موجود ماحول میں کام کرنے کے قابل بنایا ہے۔
جسم کی اندرونی جلن اگرچہ کسی خرابی یا بیماری کا پتا دیتی ہے اور مضر سمجھی جاتی ہے لیکن بسا اوقات یہ مفید بھی ہوتی ہے۔ کبھی یہ زخم کے انفیکشن کو ظاہر کرتی ہے تو کبھی بدن میں درد کا پتا بھی دیتی ہے۔ جسم کے اندر جلن تمام اقسام کو خلیات کو سرگرم کرتی ہے تاکہ وہاں عضو یا بافتوں کی نشوونما شروع ہوسکے۔
اس کے لیے مختلف (مثبت یا منفی) چارج والے ہائیڈروجل بنائے گئے جنہوں نے زخموں پر درمیانے درجے کی قابلِ برداشت سوزش پیدا کی اور اس کے بعد کئی طریقوں سے وہاں کا جائزہ لیا گیا۔ ماہرین نے نوٹ کیا کہ ہائیڈروجل کے ذریعے درست انداز میں سوزش پیدا ہونے سے زخم مندمل ہونے لگے کیونکہ خود جسم نے اپنا ردِ عمل ظاہر کیا تھا۔ اس کےعلاوہ ان ہائیڈروجل کو زخم تک کئی دوائیں پہنچانے میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
ہائیڈرجل کو خاص انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے اور یہ عین اسی طرح تشکیل پاتے ہیں جس طرح جسمانی خلیات (سیل) جڑ کر ایک چادر کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ اس پر خون کی نئی رگیں بن سکتی ہیں اور جب قدرتی کھال یا ٹشو بن جائے تو یہ ہائیڈروجل کی پرت خود گھل کر ختم ہوجاتی ہے۔ ہائیڈروجل پر حیاتیاتی شئے یا دوا رکھی جاسکتی ہے اور اس طرح زخموں کو تیزی سے مندمل کیا جاتا ہے۔
یہ تحقیق رائس یونیورسٹی کے بایو انجینئر جیفرے ہارٹگیرنک اور ان کے ساتھیوں نے کی ہے۔ محققین نے خاص پیپٹائڈ والے ہائیڈروجل پر برسوں کام کرکے ان کی 100 سے زائد اقسام تیار کی ہیں۔ دوسرے مرحلے میں ہائیڈروجل کو جسم کے اندر موجود ماحول میں کام کرنے کے قابل بنایا ہے۔
جسم کی اندرونی جلن اگرچہ کسی خرابی یا بیماری کا پتا دیتی ہے اور مضر سمجھی جاتی ہے لیکن بسا اوقات یہ مفید بھی ہوتی ہے۔ کبھی یہ زخم کے انفیکشن کو ظاہر کرتی ہے تو کبھی بدن میں درد کا پتا بھی دیتی ہے۔ جسم کے اندر جلن تمام اقسام کو خلیات کو سرگرم کرتی ہے تاکہ وہاں عضو یا بافتوں کی نشوونما شروع ہوسکے۔
اس کے لیے مختلف (مثبت یا منفی) چارج والے ہائیڈروجل بنائے گئے جنہوں نے زخموں پر درمیانے درجے کی قابلِ برداشت سوزش پیدا کی اور اس کے بعد کئی طریقوں سے وہاں کا جائزہ لیا گیا۔ ماہرین نے نوٹ کیا کہ ہائیڈروجل کے ذریعے درست انداز میں سوزش پیدا ہونے سے زخم مندمل ہونے لگے کیونکہ خود جسم نے اپنا ردِ عمل ظاہر کیا تھا۔ اس کےعلاوہ ان ہائیڈروجل کو زخم تک کئی دوائیں پہنچانے میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔