ملک کو قائم مقام نظام کے تحت چلایا جارہا ہے چیف جسٹس

سرکاری اداروں کے اہم عہدوں پر بیٹوں اور بھتیجوں بھانجوں کی تعیناتیاں کب تک چلیں گی، چیف جسٹس

حکومت کے کام عدالت نے کرنے ہیں تو پھر حکومت کس کام کی ہے، چیف جسٹس. فوٹو فائل

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوپدری نے کہا کہ ملک کو قائم مقام نظام کے تحت چلایا جارہا ہے، سرکاری اداروں کے اہم عہدوں پر بیٹوں اور بھتیجوں بھانجوں کی تعیناتیاں کب تک چلیں گی۔


چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 3رکنی بینچ بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور لوڈشیڈنگ سے متعلق کیس کی سماعت کررہا ہے،دوران سماعت چیف جسٹس نے نیپرا کے مستقل چیئرمین کی بجائے قائم مقام چیئرمین کی تعیناتی پر برہمی کا اظہار کیا، جس پر درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے عدالت کو بتایاکہ نیپرا کے قائم مقام چیئرمین خواجہ آصف کے قریبی عزیز ہیں، جواب میں جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ پی آئی اے اور پی ٹی اے چیئرمین بھی قائم مقام چیئرمین تعینات ہیں، جس پر وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ اب یہ معاملہ عدالت میں آ گیا ہے، امید ہے چیئرمین بھی تعینات ہو جائے گا۔

اس موقع پر چیف جسٹس نےکہا حکومت کے کام عدالت نے کرنے ہیں تو پھر حکومت کس کام کی ہے، جتنے پہاڑ گرانے ہیں عوام پر گرا دیں، نیپرا میں کب کب قائم مقام چیئرمین اور کب کب چیئرمین رہا، عدالت نے 1997 سے اب تک کا نیپرا کا تمام ریکارڈ طلب کرلیا، سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اداروں کو ایڈہاک ازم پر چلایا جارہا ہے، بیٹوں اور بھتیجوں کی تعیناتیاں کب تک چلیں گی، جس پر اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے عدالت کو بتایا کہ خواجہ آصف کیس کے فیصلہ کے بعد بہت سے اداروں کے سربراہ نہیں رہے، کمیشن بن گیا ہے جلد تعیناتیاں ہو جائیں گی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اقربا پروری اور سفارش کا نظام کب ختم ہوگا، حکومت کو خواجہ آصف کیس کا فیصلہ پسند نہیں تو نظرثانی کی درخواست لے آئیں، ہم غور کرلیں گے۔

Recommended Stories

Load Next Story