الشباب کا کینیا میں امریکی ملٹری بیس پر حملہ ایک فوجی اور دو سویلین ہلاک

ہلاک ہونے والوں میں ایک امریکی شہری اور امریکی محکمہ دفاع کے دو سویلین کنٹریکٹر شامل

کینیا کی فوج کا حملہ ناکام بنانے اور چار دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ، امریکی کمانڈر کا سیکیورٹی ناقص ہونے کا اعتراف (فوٹو: انٹرنیٹ)

شدت پسند تنظیم الشباب نے امریکی اور کینین فوج کے زیر استعمال ملٹری بیس پر حملہ کردیا نتیجے میں تین امریکی باشندے ہلاک اور دو زخمی ہوگئے، ہلاک ہونے والوں میں ایک فوجی اور سویلین شامل ہیں۔

عراقی میڈیا کے مطابق یہ حملہ مشرقی افریقا میں واقع ملک کینیا کے معروف ساحلی علاقے لامو میں کیا گیا جہاں ملٹری بیس پر امریکا اور کینیا کی افواج موجود ہیں۔



عینی شاہدین کے مطابق ایئربیس کے نزدیک منڈا جزیرے پر واقع سمبا کیمپ سے گولیوں کی آوازیں سنائی دیں بعدازاں سیاہ دھواں اٹھتا نظر آیا۔


کینیا کی فوج کا کہنا ہے کہ حملے کو ناکام بناتے ہوئے کم از کم 4 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا جب کہ باغیوں کو فوجی بیس سے باہر منتقل کردیا گیا تھا۔

اس کے برعکس افریقا ریجن کے لیے تعینات امریکی کمانڈ کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی کی صورتحال تاحال پتلی ہے۔ امریکی کمانڈ کی جانب سے رات گئے ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی اور کہا گیا کہ حملے کے باعث تین امریکی شہری ہلاک ہوئے ہیں جن میں ایک فوجی اہلکار اور دو افراد محکمہ دفاع کے سویلین ٹھیکے دار تھے جب کہ دو امریکی زخمی بھی ہوئے۔

دوسری جانب الشباب نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوجی بیس کے ایک اڈے کا کنٹرول سنبھالنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سی این این کے مطابق الشباب کا کہنا ہے کہ اڈے پر اب بھی جھڑپ جاری ہے اور کینیا کی فوج جنگی طیاروں کا استعمال کر رہی ہے۔



واضح رہے کہ شدت پسند تنظیم کو القاعدہ کا ونگ بھی قرار دیا جاتا ہے جب کہ الشباب کا گرڈھ کینیا کا پڑوسی ملک صومالیہ ہے۔
Load Next Story