ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے جنازے میں بھگدڑ سے 50 شرکا جاں بحق 213 زخمی

ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی آبائی شہر کرمان میں آج تدفین کی جائےگی

سوگواران نے قاسم سلیمانی کی تصاویر ولے پوسٹر اور ایرانی جھنڈے تھام رکھے ہیں، ایرانی میڈیا فوٹوانٹرنیٹ

ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے آبائی شہر کرمان میں جنازے کے جلوس میں بھگدڑ مچنے سے 50 شرکا جاں بحق اور 213 سے زائد زخمی ہوگئے۔

3 جنوری کو عراق کے دارالحکومت بغداد کے ایئر پورٹ پر امریکی راکٹ حملوں میں ہلاک ہونے والے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ ان کے آبائی شہر کرمان میں بھی اداکی گئی۔ قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: امریکا اور اسرائیل کو سیاہ دن دیکھنا پڑے گا

ایرانی میڈیا کے مطابق سوگواران نے قاسم سلیمانی کی تصاویر والے پوسٹر اور ایرانی جھنڈے تھام رکھے تھے۔ اس دوران جنازے کے جلوس میں بھگدڑ مچنے اور دم گھٹنے سے 50 شرکا جاں بحق اور 213 زخمی ہوگئے۔


زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔



گزشتہ روز ایران کے دارالحکومت تہران میں القدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی اور ان کے ساتھیوں کی نماز جنازہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی امامت میں ادا کی گئی تھی۔ نماز جنازہ میں ایران کے صدر حسن روحانی کے علاوہ اسپیکر پارلیمنٹ، چیف جسٹس سمیت اعلی عسکری قیادت، حکومتی شخصیات اور ہزاروں شہریوں نے شرکت کی تھی۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: تہران میں جنرل قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ ادا

واضح رہے کہ 3 جنوری کو عراق کے دارالحکومت بغداد کے ایئرپورٹ پر امریکا کی جانب سے راکٹ حملے کیے گئے تھے جس کے نتیجے میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر قدس جنرل قاسم سلیمانی سمیت 8 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ راکٹ حملے میں عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر "ابومہدی المہندس" بھی جاں بحق ہوگئے تھے۔
Load Next Story