فرنیچر اسٹور میں مرنے والے بچے کے ورثا کو 7 ارب روپے کا زرِ تلافی
کیلیفورنیا میں دو سالہ بچہ آئیکیا کمپنی کی بنائی ہوئی درازوں والی میز کے الٹنے سے ہلاک ہوگیا تھا
دو سالہ جوزف آئیکی یا کی میز والی دراز کے گرنے سے مرگیا تھا جس کے زرِ تلافی کے طور پر خاندان کو سات ارب روپے کی رقم دی گئی ہے۔ فوٹو: این پی آر
فرنیچر کے مشہور برانڈ آئیکیا نے اپنی درازوں والی میز گرنے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے بچے کے والدین کو چار کروڑ 60 لاکھ ڈالر زرِ تلافی ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ رقم سات ارب پاکستانی روپیوں سے بھی زیادہ بنتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق کیلیفورنیا کے ایک خاندان کے دو سالہ بچے جوزف ڈیوڈک پرآئیکیا کمپنی کی تیارکردہ درازوں والی میز گرگئی تھی۔ اس حادثے میں ننھا جوزف ہلاک ہوگیا تھا۔ بچے کے لواحقین نے الزام عائد کیا تھا کہ کمپنی کی تیار کردہ درازیں محفوظ نہیں اور لڑھک سکتی ہیں۔ بچے کی ہلاکت بھی اسی وجہ سے ہوئی ہے۔
جوزف ڈیوڈک کے اہلِ خانہ کے وکیل نے کہا کہ جس ماڈل کی دراز سے بچہ ہلاک ہوا ہے وہ ٹھیک سے کھڑی نہیں ہوسکتی تھی اور ہلکی سی جنبش سے گرجاتی تھی۔ دوسری جانب امریکی صارفین کے تحفظ کے کمیشن نے کہا ہے کہ سویڈن کی اس مشہور فرنیچر کمپنی کی مصنوعات سے صرف امریکا میں ہی آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں اکثریت بچوں کی ہے۔
وکیل ڈینیئل مان نے کہا کہ اب بھی لاکھوں درازیں پوری دنیا میں موجود ہیں جنہیں کمپنی نے واپس نہیں لیا اور وہ اب بھی استعمال میں ہیں۔
دراز کو اگر کسی دیوار کے سہارے کھڑا نہ کیا جائے تو وہ آگے یا پیچھے لڑھک سکتی ہے اور اسی حادثے میں جوزف کی جان گئی ہے۔ دوسری جانب آئیکیا نے رضامندی ظاہر کی ہے کہ وہ اس ماڈل کو گاہکوں سےواپس لینے کی کوشش کرے گی لیکن اس سے قبل تمام صارفین سے رابطہ کرکے بذریعہ ای میل انہیں خطرات سے آگاہ کیا جائے گا۔
دوسری جانب جوزف کے والدین کا کہنا ہے کہ ہم اپنی بات دوسروں تک پہنچانا چاہتے ہیں تاکہ کوئی اور خاندان اس دکھ سے نہ گزرے جس کرب کا سامنا ہمیں کرنا پڑا ہے۔
اس سے قبل تین چھوٹے بچوں پر آئیکیا کا ڈریسر گر گیا تھا جس سے تینوں کی ہلاکت ہوئی تھی؛ اور 2016 میں بھی تین بچوں کی ہلاکت پر کیے گئے مقدمے کے بعد کمپنی نے متاثرہ خاندانوں کو مجموعی طور پر 5 کروڑ ڈالر کی رقم بطور ہرجانہ ادا کی تھی۔
تفصیلات کے مطابق کیلیفورنیا کے ایک خاندان کے دو سالہ بچے جوزف ڈیوڈک پرآئیکیا کمپنی کی تیارکردہ درازوں والی میز گرگئی تھی۔ اس حادثے میں ننھا جوزف ہلاک ہوگیا تھا۔ بچے کے لواحقین نے الزام عائد کیا تھا کہ کمپنی کی تیار کردہ درازیں محفوظ نہیں اور لڑھک سکتی ہیں۔ بچے کی ہلاکت بھی اسی وجہ سے ہوئی ہے۔
جوزف ڈیوڈک کے اہلِ خانہ کے وکیل نے کہا کہ جس ماڈل کی دراز سے بچہ ہلاک ہوا ہے وہ ٹھیک سے کھڑی نہیں ہوسکتی تھی اور ہلکی سی جنبش سے گرجاتی تھی۔ دوسری جانب امریکی صارفین کے تحفظ کے کمیشن نے کہا ہے کہ سویڈن کی اس مشہور فرنیچر کمپنی کی مصنوعات سے صرف امریکا میں ہی آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں اکثریت بچوں کی ہے۔
وکیل ڈینیئل مان نے کہا کہ اب بھی لاکھوں درازیں پوری دنیا میں موجود ہیں جنہیں کمپنی نے واپس نہیں لیا اور وہ اب بھی استعمال میں ہیں۔
دراز کو اگر کسی دیوار کے سہارے کھڑا نہ کیا جائے تو وہ آگے یا پیچھے لڑھک سکتی ہے اور اسی حادثے میں جوزف کی جان گئی ہے۔ دوسری جانب آئیکیا نے رضامندی ظاہر کی ہے کہ وہ اس ماڈل کو گاہکوں سےواپس لینے کی کوشش کرے گی لیکن اس سے قبل تمام صارفین سے رابطہ کرکے بذریعہ ای میل انہیں خطرات سے آگاہ کیا جائے گا۔
دوسری جانب جوزف کے والدین کا کہنا ہے کہ ہم اپنی بات دوسروں تک پہنچانا چاہتے ہیں تاکہ کوئی اور خاندان اس دکھ سے نہ گزرے جس کرب کا سامنا ہمیں کرنا پڑا ہے۔
اس سے قبل تین چھوٹے بچوں پر آئیکیا کا ڈریسر گر گیا تھا جس سے تینوں کی ہلاکت ہوئی تھی؛ اور 2016 میں بھی تین بچوں کی ہلاکت پر کیے گئے مقدمے کے بعد کمپنی نے متاثرہ خاندانوں کو مجموعی طور پر 5 کروڑ ڈالر کی رقم بطور ہرجانہ ادا کی تھی۔