سارک میں تجارت مقامی کرنسی میں ہونی چاہیےزبیرعلی
صدر‘وزیراعظم سے ملاقات کرکے تاجروںکے مسائل سے آگاہ کرینگے، قائم مقام صدرفیڈریشن
صدر‘وزیراعظم سے ملاقات کرکے تاجروںکے مسائل سے آگاہ کرینگے، قائم مقام صدرفیڈریشن. فوٹو فائل
خیبر پختونخوا کی بزنس کمیونٹی کا اہم اجلاس گزشتہ روز فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس کے ریجنل آفس پشاور میں ایف پی سی سی آئی کے قائم مقام صدر زبیر علی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔
جس میں ہری پور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، مردان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، ڈیرہ اسماعیل خان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، ٹرائبل ایریا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور سوات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدور، نائب صدور و ایگزیکٹو ممبران، خیبرپختونخوا کی ایسوسی ایشنوں کے عہدیداران، ایف پی سی سی آئی کے ایگزیکٹو ممبران سمیت خیبرپختونخوا کی بزنس کمیونٹی نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
اجلاس کے شرکا نے زبیر علی خان کو ایف پی سی سی آئی کے قائم مقام صدر بننے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اپنے اپنے اضلاع میں تاجروں کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر زبیر علی نے سارک ممالک میں تجارت مقامی کرنسی میں کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بالخصوص خیبرپختونخوا کے تاجر ہمارے بھائی ہیں اور ہم ان کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں جن کے حل کیلیے بہت جلد صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیر اعظم راجا پرویز اشرف، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا امیر حیدر خان ہوتی، گورنر بیرسٹر مسعود کوثر و دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کرکے مسائل حل کرائے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جس تاجر کو کوئی مشکل ہو تو وہ مجھ سے کسی بھی وقت رابطہ کر سکتا ہے، ایف پی سی سی آئی نے ہمیشہ پاکستان کی ایکسپورٹ کو بڑھانے اور پاکستانی مصنوعات کیلیے بہتر سے بہتر منڈیاں تلاش کرنے کیلیے کوششیں کی ہیں جو ہمیشہ جاری رہیں گی۔انہوںنے کہا کہ پاکستان کی بزنس کمیونٹی اور عوام مل کر پاکستان کے امیج کو بہتر بنانے میں کردار ادا کریں، پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور ان وسائل سے فائدہ اٹھانے کیلیے محنت کی ضرورت ہے، ہم اپنے حق کیلیے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، دنیا کا مقابلہ کرنے کیلیے ہمیں دن رات محنت کرنا ہوگی۔
انھوں نے کہا کہ حکومت نے اگر بجلی و گیس بحران پر توجہ نہ دی تو یہ بحران سنگین ہو جائیگا، بجلی و گیس بحران کے ساتھ پاکستان کی معیشت پر سیاسی صورتحال کا بھی برا اثر پڑا ہے، ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کیلیے ہمیں آگے آنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے تمام فلاسفر اور اقتصادی ماہرین کی رائے ہے کہ کسی بھی ملک کی جب تک ہمسایوں کے ساتھ تجارت ٹھیک نہیں ہوگی وہ کبھی بھی ترقی نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہونا چاہیے کہ پاکستان کی تجارت بڑھے اور سارک ریجن میں تجارت اپنی ہی کرنسی میں ہو۔
جس میں ہری پور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، مردان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، ڈیرہ اسماعیل خان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، ٹرائبل ایریا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور سوات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدور، نائب صدور و ایگزیکٹو ممبران، خیبرپختونخوا کی ایسوسی ایشنوں کے عہدیداران، ایف پی سی سی آئی کے ایگزیکٹو ممبران سمیت خیبرپختونخوا کی بزنس کمیونٹی نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
اجلاس کے شرکا نے زبیر علی خان کو ایف پی سی سی آئی کے قائم مقام صدر بننے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اپنے اپنے اضلاع میں تاجروں کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر زبیر علی نے سارک ممالک میں تجارت مقامی کرنسی میں کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بالخصوص خیبرپختونخوا کے تاجر ہمارے بھائی ہیں اور ہم ان کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں جن کے حل کیلیے بہت جلد صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیر اعظم راجا پرویز اشرف، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا امیر حیدر خان ہوتی، گورنر بیرسٹر مسعود کوثر و دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کرکے مسائل حل کرائے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جس تاجر کو کوئی مشکل ہو تو وہ مجھ سے کسی بھی وقت رابطہ کر سکتا ہے، ایف پی سی سی آئی نے ہمیشہ پاکستان کی ایکسپورٹ کو بڑھانے اور پاکستانی مصنوعات کیلیے بہتر سے بہتر منڈیاں تلاش کرنے کیلیے کوششیں کی ہیں جو ہمیشہ جاری رہیں گی۔انہوںنے کہا کہ پاکستان کی بزنس کمیونٹی اور عوام مل کر پاکستان کے امیج کو بہتر بنانے میں کردار ادا کریں، پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور ان وسائل سے فائدہ اٹھانے کیلیے محنت کی ضرورت ہے، ہم اپنے حق کیلیے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، دنیا کا مقابلہ کرنے کیلیے ہمیں دن رات محنت کرنا ہوگی۔
انھوں نے کہا کہ حکومت نے اگر بجلی و گیس بحران پر توجہ نہ دی تو یہ بحران سنگین ہو جائیگا، بجلی و گیس بحران کے ساتھ پاکستان کی معیشت پر سیاسی صورتحال کا بھی برا اثر پڑا ہے، ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کیلیے ہمیں آگے آنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے تمام فلاسفر اور اقتصادی ماہرین کی رائے ہے کہ کسی بھی ملک کی جب تک ہمسایوں کے ساتھ تجارت ٹھیک نہیں ہوگی وہ کبھی بھی ترقی نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہونا چاہیے کہ پاکستان کی تجارت بڑھے اور سارک ریجن میں تجارت اپنی ہی کرنسی میں ہو۔