خیبرپختون خوا میں آٹے کی ترسیل پرعائد پابندی ختم
پنجاب سے یومیہ ڈیڑھ لاکھ تھیلے آٹا خیبر پختونخواہ کو بھیجا جائے گا، بندش سے کسٹم پنجاب کی رشوت خوری عروج پر تھی
این ایل سی پاسکو گودام سے 2 لاکھ 70 ہزار ٹن گندم اٹھا کر سندھ فوڈ کو پہنچائے گا۔فوٹو:فائل
پنجاب نے خیبر پختونخوا کے لیے آٹے کی ترسیل پرعائد پابندی ختم کردی جس کے بعد وہاں آٹا کی قیمت کم ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی حکومت کی ہدایت پر پنجاب نے خیبر پختونخوا کے لیے آٹے کی ترسیل پر عائد پابندی ختم کردی۔ وفاقی حکومت پاسکو کے گوداموں میں سے 2 لاکھ ٹن گندم محکمہ خوراک پنجاب کو فراہم کرے گی جب کہ پنجاب سے یومیہ ڈیڑھ لاکھ تھیلے آٹا خیبر پختونخوا کو بھیجا جائے گا تاہم پنجاب کی قائم کردہ سرحدی چیک پوسٹوں پر سرکاری پرمٹ دکھا کر آٹا لے جانے کی اجازت ہوگی۔
دوسری جانب سندھ میں آٹا بحران ختم کرنے کے لیے بھی وفاقی حکومت نے اقدامات شروع کردیئے ہیں اور گندم کی لفٹنگ میں حائل رکاوٹ ختم کرنے کے لیے نجی ٹرانسپورٹرز کے ٹھیکے منسوخ کردیئے گئے ہیں جب کہ این ایل سی پاسکو گودام سے 2 لاکھ 70 ہزار ٹن گندم اٹھا کر سندھ فوڈ کو پہنچائے گا۔
واضح رہے کہ خیبر پختون خوا کی سردیوں میں 70 فیصد اور گرمیوں میں 90 فیصد آٹا کی ضروریات پنجاب کی ملز پوری کرتی ہیں اور اس حوالے سے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے چیف سیکریٹریز کی میٹنگ میں کے پی کے کی ملز نے بھی اعتراف کیا ہے۔
آٹے کی ترسیل پر پابندی سے کسٹم پنجاب نے بہت فائدہ اٹھایا
دوسری جانب خیبر پختون خوا کے صوبائی دارالحکومت سمیت خیبر پختونخوا میں پنجاب سے آٹے کی ترسیل مکمل بند ہونے کی وجہ سے آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 20 کلو سپر فائن آٹے کا تھیلا 1100 روپے میں جب کہ 85 کلو کی بوری 5200 روپے میں ملنے لگی۔
آٹا ڈیلرز نے انکشاف کیا ہے کہ پنجاب سے آٹے کی ترسیل پر پابندی کے بعد پنجاب کسٹم نے بہت فائدہ اٹھایا، وہ پنجاب سے آٹا لوڈر گاڑی سے 15000 روپے وصول کرکے خیبر پختونخوا میں آٹا چھوڑ رہے تھے جس کے سبب آٹے کے موجودہ نرخ میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا، پشاور میں آٹا ڈیلرز کے پاس تین روز کا ذخیرہ رہ گیا ہے جس کے بعد آٹا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
دریں اثنا مہنگے آٹا کی وجہ سے نائی بائیوں نے پیر سے روٹی کی قیمت بڑھانے اور ہڑتال کی دھمکی دے رکھی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی حکومت کی ہدایت پر پنجاب نے خیبر پختونخوا کے لیے آٹے کی ترسیل پر عائد پابندی ختم کردی۔ وفاقی حکومت پاسکو کے گوداموں میں سے 2 لاکھ ٹن گندم محکمہ خوراک پنجاب کو فراہم کرے گی جب کہ پنجاب سے یومیہ ڈیڑھ لاکھ تھیلے آٹا خیبر پختونخوا کو بھیجا جائے گا تاہم پنجاب کی قائم کردہ سرحدی چیک پوسٹوں پر سرکاری پرمٹ دکھا کر آٹا لے جانے کی اجازت ہوگی۔
دوسری جانب سندھ میں آٹا بحران ختم کرنے کے لیے بھی وفاقی حکومت نے اقدامات شروع کردیئے ہیں اور گندم کی لفٹنگ میں حائل رکاوٹ ختم کرنے کے لیے نجی ٹرانسپورٹرز کے ٹھیکے منسوخ کردیئے گئے ہیں جب کہ این ایل سی پاسکو گودام سے 2 لاکھ 70 ہزار ٹن گندم اٹھا کر سندھ فوڈ کو پہنچائے گا۔
واضح رہے کہ خیبر پختون خوا کی سردیوں میں 70 فیصد اور گرمیوں میں 90 فیصد آٹا کی ضروریات پنجاب کی ملز پوری کرتی ہیں اور اس حوالے سے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے چیف سیکریٹریز کی میٹنگ میں کے پی کے کی ملز نے بھی اعتراف کیا ہے۔
آٹے کی ترسیل پر پابندی سے کسٹم پنجاب نے بہت فائدہ اٹھایا
دوسری جانب خیبر پختون خوا کے صوبائی دارالحکومت سمیت خیبر پختونخوا میں پنجاب سے آٹے کی ترسیل مکمل بند ہونے کی وجہ سے آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 20 کلو سپر فائن آٹے کا تھیلا 1100 روپے میں جب کہ 85 کلو کی بوری 5200 روپے میں ملنے لگی۔
آٹا ڈیلرز نے انکشاف کیا ہے کہ پنجاب سے آٹے کی ترسیل پر پابندی کے بعد پنجاب کسٹم نے بہت فائدہ اٹھایا، وہ پنجاب سے آٹا لوڈر گاڑی سے 15000 روپے وصول کرکے خیبر پختونخوا میں آٹا چھوڑ رہے تھے جس کے سبب آٹے کے موجودہ نرخ میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا، پشاور میں آٹا ڈیلرز کے پاس تین روز کا ذخیرہ رہ گیا ہے جس کے بعد آٹا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
دریں اثنا مہنگے آٹا کی وجہ سے نائی بائیوں نے پیر سے روٹی کی قیمت بڑھانے اور ہڑتال کی دھمکی دے رکھی ہے۔