راولپنڈی کا رابطہ تیسرے روز بھی منقطع غذائی اشیا کی قلت
آٹے کا تھیلا 12 سو روپے، ایک انڈا 25 روپے تک بکتارہا، دودھ، ڈبل روٹی، پینے کے پانی اورادویہ کی بھی قلت
آلو 120 روپے کلو، آٹے کا تھیلا 12 سو روپے، ایک انڈا 25 روپے تک بکتارہا، دودھ، ڈبل روٹی، پینے کے پانی اورادویہ کی بھی قلت. فوٹو : ایکسپریس
سانحہ راجا بازارکے تیسرے روز بھی کرفیو کے نفاذ کے باعث راولپنڈی کا زمینی رابطہ اسلام آباد اور دیگر شہروں سے مکمل طور پر منقطع رہا۔
شہر میں اشیائے خورونوش کی شدید قلت پیدا ہوگئی اور قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوگیا جبکہ مریضوں کو اسپتال منتقل کرنے میں بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اتوار کو بھی راولپنڈی کے تمام بڑے داخلی راستے بند رہے۔ فیض آباد میں مری روڈ، پشاور روڈ، کھنہ پل اور مورگاہ میں راولپنڈی آنے والی سڑکوں کو کنٹینر رکھ کر بند کردیا گیا تھا جبکہ تمام چھوٹے داخلی راستے بھی بیریئر اور رسیاں لگاکر بند کردیے گئے تھے اور وہاں پر سیکیورٹی فورسز کی نفری تعینات رہی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کرفیو زدہ علاقوں میں شہری شدید خوف وہراس کا شکار ہیں اور وقفے کے دوران بڑی تعداد میں لوگ اپنے عزیز واقارب اور دیگر شہروںکو منتقل ہوگئے۔
اتوار کو بھی شہر میں اشیائے خورونوش کی فراہمی کا سلسلہ معطل رہا جس کے باعث بازاروں میں کھانے پینے کی چیزوں کی قلت پیدا ہوگئی ہے، کرفیو میں نرمی کے دوران جب شہریوں نے بازاروں اور مارکیٹوں کا رخ کیا تو زیادہ تر دکانوں میں عام استعمال کی چیزوں کی قلت دیکھی گئی اور جن دکانوں پر اشیائے خورونوش دستیاب تھیں، ان کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ دیکھا گیا، آلو 120 روپے کلو، آٹے کا 20 کلو کا تھیلا 1200 روپے جبکہ ایک انڈا 20 سے 25 روپے تک فروخت ہوتا رہا ۔ مارکیٹوں میں دودھ ، ڈبل روٹی اور ادویہ کی بھی قلت رہی۔ ایک شہری عظیم قریشی نے ''ایکسپریس'' سے رابطے پر بتایاکہ اکثر گھروں میں پینے کا پانی باہر سے آتا ہے 48 گھنٹوں سے پانی دستیاب نہیں، ایک انڈا 25 اور آلو 90 روپے کلو بیچے جارہے ہیں۔
رتہ امرال سے وقاص اور محلہ عیدگاہ سے قیصر نامی شہری نے بتایاکہ محلوں میں چھوٹی دکانیں بھی کھولنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ کرفیو کے باعث بے نظیر ایئرپورٹ اور ریلوے اسٹیشن پر پہنچنے والے مسافروں کو بھی سخت اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ اندرون شہر جانیوالے مسافر کرفیو میں نرمی کادن بھر انتظار کرتے رہے۔ موبائل فون کی مسلسل بندش سے بھی لوگوں کو شدید مشکلات درپیش ہیں اور لوگ اپنے عزیز واقارب کی خیریت کے بارے میں فکر مند ہیں۔ راول ٹائون اور پوٹھوہار ٹائون کے کرفیو زدہ علاقوں میں آج سے شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم ملتوی کردی گئی جبکہ دیگر علاقوںمیں مہم شیڈول کے مطابق شروع ہوگی۔
دوسری جانب کرفیو کی خلاف ورزی پر ایک درجن سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ این این آئی کے مطابق مشتعل افراد کی جانب سے نذر آتش کی گئی دکانوں کی آگ پر 2 روز بعد بھی قابو نہیں پایا جاسکا اور وقفے وقفے سے ملبے میں شعلے بھڑک اٹھتے ہیں۔ راولپنڈی میں کشیدہ صورتحال کے باعث اسلام آباد میں بھی معمول کی سرگرمیاں معطل رہیں اور سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی۔ وفاقی دارالحکومت میں بھی سیکیورٹی کے پیش نظر جمعے اور ہفتے کی رات ایک بجے سے موبائل فون سروس معطل کی گئی جو ہفتے کی سہ پہر 3 بجے کے قریب بحال کی گئی۔ دارالحکومت کے داخلی راستوں پر تمام گاڑیوں کی سخت چیکنگ کی جاتی رہی ، مذہبی جماعتوں کے ممکنہ احتجاج کو روکنے کیلیے ریڈ زون مکمل طور پر سیل رہا۔
شہر میں اشیائے خورونوش کی شدید قلت پیدا ہوگئی اور قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوگیا جبکہ مریضوں کو اسپتال منتقل کرنے میں بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اتوار کو بھی راولپنڈی کے تمام بڑے داخلی راستے بند رہے۔ فیض آباد میں مری روڈ، پشاور روڈ، کھنہ پل اور مورگاہ میں راولپنڈی آنے والی سڑکوں کو کنٹینر رکھ کر بند کردیا گیا تھا جبکہ تمام چھوٹے داخلی راستے بھی بیریئر اور رسیاں لگاکر بند کردیے گئے تھے اور وہاں پر سیکیورٹی فورسز کی نفری تعینات رہی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کرفیو زدہ علاقوں میں شہری شدید خوف وہراس کا شکار ہیں اور وقفے کے دوران بڑی تعداد میں لوگ اپنے عزیز واقارب اور دیگر شہروںکو منتقل ہوگئے۔
اتوار کو بھی شہر میں اشیائے خورونوش کی فراہمی کا سلسلہ معطل رہا جس کے باعث بازاروں میں کھانے پینے کی چیزوں کی قلت پیدا ہوگئی ہے، کرفیو میں نرمی کے دوران جب شہریوں نے بازاروں اور مارکیٹوں کا رخ کیا تو زیادہ تر دکانوں میں عام استعمال کی چیزوں کی قلت دیکھی گئی اور جن دکانوں پر اشیائے خورونوش دستیاب تھیں، ان کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ دیکھا گیا، آلو 120 روپے کلو، آٹے کا 20 کلو کا تھیلا 1200 روپے جبکہ ایک انڈا 20 سے 25 روپے تک فروخت ہوتا رہا ۔ مارکیٹوں میں دودھ ، ڈبل روٹی اور ادویہ کی بھی قلت رہی۔ ایک شہری عظیم قریشی نے ''ایکسپریس'' سے رابطے پر بتایاکہ اکثر گھروں میں پینے کا پانی باہر سے آتا ہے 48 گھنٹوں سے پانی دستیاب نہیں، ایک انڈا 25 اور آلو 90 روپے کلو بیچے جارہے ہیں۔
رتہ امرال سے وقاص اور محلہ عیدگاہ سے قیصر نامی شہری نے بتایاکہ محلوں میں چھوٹی دکانیں بھی کھولنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ کرفیو کے باعث بے نظیر ایئرپورٹ اور ریلوے اسٹیشن پر پہنچنے والے مسافروں کو بھی سخت اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ اندرون شہر جانیوالے مسافر کرفیو میں نرمی کادن بھر انتظار کرتے رہے۔ موبائل فون کی مسلسل بندش سے بھی لوگوں کو شدید مشکلات درپیش ہیں اور لوگ اپنے عزیز واقارب کی خیریت کے بارے میں فکر مند ہیں۔ راول ٹائون اور پوٹھوہار ٹائون کے کرفیو زدہ علاقوں میں آج سے شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم ملتوی کردی گئی جبکہ دیگر علاقوںمیں مہم شیڈول کے مطابق شروع ہوگی۔
دوسری جانب کرفیو کی خلاف ورزی پر ایک درجن سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ این این آئی کے مطابق مشتعل افراد کی جانب سے نذر آتش کی گئی دکانوں کی آگ پر 2 روز بعد بھی قابو نہیں پایا جاسکا اور وقفے وقفے سے ملبے میں شعلے بھڑک اٹھتے ہیں۔ راولپنڈی میں کشیدہ صورتحال کے باعث اسلام آباد میں بھی معمول کی سرگرمیاں معطل رہیں اور سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی۔ وفاقی دارالحکومت میں بھی سیکیورٹی کے پیش نظر جمعے اور ہفتے کی رات ایک بجے سے موبائل فون سروس معطل کی گئی جو ہفتے کی سہ پہر 3 بجے کے قریب بحال کی گئی۔ دارالحکومت کے داخلی راستوں پر تمام گاڑیوں کی سخت چیکنگ کی جاتی رہی ، مذہبی جماعتوں کے ممکنہ احتجاج کو روکنے کیلیے ریڈ زون مکمل طور پر سیل رہا۔