ایل اوسی پر اشتعال انگیزی بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی
جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنانا انسانی عظمت، بین الاقوامی انسانی حقوق قوانین کی خلاف ورزی ہے، دفترخارجہ
پاکستان نے ایل او سی کے چری کوٹ سیکٹر پر بھارتی فائرنگ سے شہری کی شہادت پر شدید احتجاج کیا، دفترخارجہ (فوٹو : فائل)
KARACHI:
دفتر خارجہ نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی پر بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج کیا ہے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی فورسز کی جانب سے آج ایک بار پھر لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی اور سیز فائرمعاہدے کی خلاف ورزی پر بھارتی ناظم الامور کو دفترخارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کے مطابق بھارتی ناظم الامور کو ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیا اور سارک زاہد حفیظ چودھری نے طلب کیا اور ایل او سی کے چری کوٹ سیکٹر پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی پر احتجاج کیا۔
ڈی جی ساوٴتھ ایشیا زاہد حفیظ چوہدری نے بھارتی ناظم الامور گورو اہلوالیا کو احتجاجی مراسلہ دیا جس میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کی طرف سے 2017ء سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں تیزی آئی ہے اور اس دوران بھارت کی جانب سے سیکڑوں بار سیزفائر معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی، بھارتی فوج شہری آبادیوں کو بھاری اسلحے سے نشانہ بنارہی ہے اور آج بھی ایل او سی کے چری کوٹ سیکٹر پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک شہری شہید اور ایک خاتون زخمی ہوئی۔
مراسلے میں تنبیہ کی گئی ہے کہ جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنانا انسانی عظمت، بین الاقوامی انسانی حقوق قوانین کی خلاف ورزی ہے، اورعلاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
پاکستان نے بھارت پر 2003ء کے جنگ بندی معاہدے کا احترام کرنے کے لیے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اپنی افواج کو جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد کی ہدایت کرے اور لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری پر امن برقرار رکھے۔
دفتر خارجہ نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی پر بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج کیا ہے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی فورسز کی جانب سے آج ایک بار پھر لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی اور سیز فائرمعاہدے کی خلاف ورزی پر بھارتی ناظم الامور کو دفترخارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کے مطابق بھارتی ناظم الامور کو ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیا اور سارک زاہد حفیظ چودھری نے طلب کیا اور ایل او سی کے چری کوٹ سیکٹر پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی پر احتجاج کیا۔
ڈی جی ساوٴتھ ایشیا زاہد حفیظ چوہدری نے بھارتی ناظم الامور گورو اہلوالیا کو احتجاجی مراسلہ دیا جس میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کی طرف سے 2017ء سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں تیزی آئی ہے اور اس دوران بھارت کی جانب سے سیکڑوں بار سیزفائر معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی، بھارتی فوج شہری آبادیوں کو بھاری اسلحے سے نشانہ بنارہی ہے اور آج بھی ایل او سی کے چری کوٹ سیکٹر پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک شہری شہید اور ایک خاتون زخمی ہوئی۔
مراسلے میں تنبیہ کی گئی ہے کہ جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنانا انسانی عظمت، بین الاقوامی انسانی حقوق قوانین کی خلاف ورزی ہے، اورعلاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
پاکستان نے بھارت پر 2003ء کے جنگ بندی معاہدے کا احترام کرنے کے لیے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اپنی افواج کو جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد کی ہدایت کرے اور لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری پر امن برقرار رکھے۔