بھارت کا چین سے ملحقہ سرحد پر 50 ہزار اضافی فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ
لائن آف ایکچول کنٹرول پر50 ہزارفوجیوں کی تعیناتی میں650 ارب کی رقم خرچ ہوگی، بھارتی میڈیا
پہلے مرحلے میں بھارتی فوجیوں کو رانچی اور جھارکھنڈ میں تعینات کیا جائے گا۔ فوٹو؛ فائل
بھارتی حکومت نے ایک بار پھر اپنے جنگی جنون کا مظاہرہ کرتے ہوئے چین سے ملحقہ سرحد پر 50 ہزار اضافی فوجیوں کو تعینات کرنے کی منظوری دے دی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلے مرحلے میں فوجیوں کو رانچی اور جھارکھنڈ میں تعینات کیا جائے گا اور انفرا اسٹرکچر کی بہتری کے بعد فوجیوں کو مغربی بنگال میں پناگرا میں لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) پرتعینات کیا جائے گا، 50 ہزارفوجیوں کی چین سے ملحقہ سرحد پر تعیناتی میں 650 ارب کی رقم خرچ ہوگی۔ اس حوالے سے بھارتی فوجی افسران کی تعیناتیوں کا باقاعدہ آغاز بھی کیا جا چکا ہے جب کہ ان کے چیف کا چناؤ آرمی کا پروموشن بورڈ نئے ترقی پانے والے میجر جرنلز میں سے کرے گا، پناگرا میں بھارتی فوج کے ٹینکوں کے ساتھ فضائیہ کے سی 130 جے سپر ہرکیولز طیارے بھی تعینات کئے جائیں گے۔
واضح رہے کہ بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کی سربراہی میں کابینہ نے جولائی میں چین کی سرحد پر فوجیوں کے اضافے کی منظوری دے تھی جب کہ بھارتی فوج نے 2010 میں بھی اضافی فوج کو چین سے ملحقہ سرحد پر تعینات کرنے کی درخواست دی تھی جسے حکومت نے یہ کہہ کر ردکر دیا تھا کہ فوج کے تینوں ادارے مل کر اس حوالے سے لائحہ عمل طے کریں اور اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کریں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلے مرحلے میں فوجیوں کو رانچی اور جھارکھنڈ میں تعینات کیا جائے گا اور انفرا اسٹرکچر کی بہتری کے بعد فوجیوں کو مغربی بنگال میں پناگرا میں لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) پرتعینات کیا جائے گا، 50 ہزارفوجیوں کی چین سے ملحقہ سرحد پر تعیناتی میں 650 ارب کی رقم خرچ ہوگی۔ اس حوالے سے بھارتی فوجی افسران کی تعیناتیوں کا باقاعدہ آغاز بھی کیا جا چکا ہے جب کہ ان کے چیف کا چناؤ آرمی کا پروموشن بورڈ نئے ترقی پانے والے میجر جرنلز میں سے کرے گا، پناگرا میں بھارتی فوج کے ٹینکوں کے ساتھ فضائیہ کے سی 130 جے سپر ہرکیولز طیارے بھی تعینات کئے جائیں گے۔
واضح رہے کہ بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کی سربراہی میں کابینہ نے جولائی میں چین کی سرحد پر فوجیوں کے اضافے کی منظوری دے تھی جب کہ بھارتی فوج نے 2010 میں بھی اضافی فوج کو چین سے ملحقہ سرحد پر تعینات کرنے کی درخواست دی تھی جسے حکومت نے یہ کہہ کر ردکر دیا تھا کہ فوج کے تینوں ادارے مل کر اس حوالے سے لائحہ عمل طے کریں اور اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کریں۔