کچھ بھی ناممکن نہیں

وقار احمد شیخ  پير 17 فروری 2020
عمل کی ابتدا کیجئے، آپ کا شمار بھی دنیا کے کامیاب ترین انسانوں میں ہونے لگے گا۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

عمل کی ابتدا کیجئے، آپ کا شمار بھی دنیا کے کامیاب ترین انسانوں میں ہونے لگے گا۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

انسان کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے۔ ایک ایسی مخلوق جس کےلیے تمام کائنات کو قابل تسخیر بنادیا گیا۔ اب چاہے یہ سمندر کی اتھاہ گہرائیاں ہوں یا سنگلاخ پہاڑوں کی بلند و بالا چوٹیاں، کائنات میں پھیلے سیارے ہوں یا خلا کی بے کراں وسعتیں، انسان کو انھیں تسخیر کرنے کی صلاحیتیں قدرت کی طرف سے ودیعت کی گئی ہیں۔ انسان اگر کچھ کرنے کی دل میں ٹھان لے تو اس کےلیے کچھ بھی ناممکن نہیں رہتا۔ لیکن ان تمام باتوں کے پیچھے کارفرما ہوتا ہے ایک جذبہ، کچھ کرنے کی لگن، جیتنے کا جنون، مشکلات سے نمٹنے کا حوصلہ اور عزم و ہمت کا جوہر۔

سخت حالات سے لڑنے کا حوصلہ لیے عزم و ہمت کے انسانی پیکر کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے کےلیے مصروف بہ عمل ہیں۔ مختلف جہتوں میں پیش قدمی کا سلسلہ جاری ہے۔ ٹیکنالوجی کے میدان میں نت نئے تجربات ہورہے ہیں۔ یہ سب کارہائے نمایاں سرانجام دینے والے انسان ہی ہیں لیکن انسانوں کی اس بھیڑ میں کچھ ایسے بھی ہیں، جو آج تک اپنی ذات کے حصار میں سمٹے ہوئے ہیں۔ انھوں نے حسرتوں و ناکامیوں کا ایک خول اپنے اوپر اوڑھ لیا ہے۔ عمل اور حوصلے سے عاری یہ انسان عرصے سے ایک ہی نقطے پر رکے ہوئے ہیں۔ ان کی راہیں مسدود ہوچکی ہیں اور ان میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ اپنی کامیابیوں کے آڑے آنے والی رکاوٹیں کو ہٹا سکیں۔

کیا وجہ ہے کہ یہ انسان سب جیسے ہوتے ہوئے بھی ناکام ہیں؟ ﷲ نے انھیں بھی دوسروں جیسا بنایا، وہی جسمانی ساخت دی، وہی ماحول عطا کیا، ان ہی اسباب سے نوازا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اپنی ناکامیوں پر یہ قدرت سے شکوہ کناں ہیں؟ اپنی محرومیوں پر قسمت کا گلہ کرتے ہیں؟ آخر کیا کمی ہے جو یہ سب جیسے ہوتے ہوئے بھی ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں؟

یقیناً جذبہ۔ وہی جذبہ جس نے کچے گھڑے پر سمندر پار کرنے کی ٹھانی، ایسی ہمت جس نے پہاڑ سے دودھ کی نہر نکالنے کا خیال پیدا کیا، وہ جنون جس نے سکندر کو بحرِ ظلمات میں گھوڑے دوڑانے پر مجبور کردیا، ایسی لگن جس نے قوت پرواز بخشی، وہ عزم جس نے زمین کی سرحدیں پار کرکے انسان کو چاند پر پہنچا دیا۔ یہ ناکام لوگ ان جذبوں سے عاری ہیں۔ حقیقت حال سے بے خبر، قسمت کا رونا رونے والے اپنی خامیوں کو دور کرنے کے بجائے قدرت کو ستم گر ٹھہراتے ہیں۔ ان لوگوں کو حقیقت سے روشناس کرانا ضروری ہے۔

انھیں سمجھنا چاہیے کہ ان کی حسرت و ناکامیوں کے پیچھے خود ان کا اپنا ہی ہاتھ ہے، اگر وہ چاہیں تو بے عملی کی یہ راہ چھوڑ کر کامیابیوں کے سفر پر گامزن ہوسکتے ہیں۔ اور اس کےلیے انھیں زیادہ کچھ نہیں کرنا پڑے گا صرف وہ جذبہ اپنے اندر جگانا ہوگا جس سے یہ محروم ہیں۔ اپنے احساس کو جھنجھوڑنا ہوگا۔ بے عملی کی اس کیفیت سے باہر آنا ہوگا۔ انھیں اپنے آپ کو باور کرانا ہوگا کہ وہ بھی دوسرے انسانوں کی مانند ہیں اور کسی سے کم تر نہیں۔ اپنے اندر کے احساس کمتری کو ختم کرکے مشکلات کا سامنا کرنے کی ہمت پیدا کرنی ہوگی۔ تب کہیں جاکر کامیابیوں کی راہیں ان کے سامنے کھلتی چلی جائیں گی۔

اپنے آپ کو یہ باور کرائیے کہ آپ کا شمار بھی اشرف المخلوقات میں ہوتا ہے جس کےلیے کچھ بھی ناممکن نہیں۔ اپنے اندر مسابقت کا جذبہ جگائیے۔ اپنے جیسے دوسرے انسانوں سے اپنا موازنہ اور مقابلہ کیجئے۔ قسمت کو دوش دینے کے بجائے ان خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کیجئے جو کامیابی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

یاد رکھیں! یہاں مشکلات ضرور ہیں لیکن ناممکن کچھ بھی نہیں۔ دنیا میں سب کچھ ممکن ہے، ضرورت ہے تو صرف عمل کی، پختہ ارادے اور ثابت قدمی کی۔ مستقل مزاجی کا ثبوت دیجئے۔ چھوٹی چھوٹی ناکامیوں سے گھبرانے کے بجائے ان پر قابو پانے کی کوشش کیجئے۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ کامیابی آپ سے دور رہ سکے۔ ایک بار ہمت کیجئے، راہیں خود بہ خود کھلتی چلی جائیں گی۔ وہ منزل جو آج دور نظر آرہی ہے، اس کا حصول مشکل ضرور ہے لیکن آپ کی کوششوں سے ممکن ہوسکتا ہے۔ عمل کی ابتدا کیجئے، آپ کا شمار بھی دنیا کے کامیاب ترین انسانوں میں ہونے لگے گا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

وقار احمد شیخ

وقار احمد شیخ

بلاگر جامعہ کراچی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز ہیں اور گزشتہ پندرہ سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ موصوف اپنے حقیقی نام کے علاوہ ’’شایان تمثیل‘‘ کے قلمی نام سے نفسیات وما بعدالنفسیات کے موضوعات پر ایک الگ پہچان رکھتے ہیں۔ کالم نگاری کے علاوہ کہانیوں کی صنف میں بھی طبع آزمائی کرتے رہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔