فروٹ ایکسپورٹرزکاگرین لیب سرٹیفکیشن تسلیم کرنے پرزور
وزارت فوڈسیکیورٹی کی ہٹ دھرمی نے روس کیلیے کینوبرآمدات خطرے میں ڈال دیں، عبدالواحد
گزشتہ سال روسی قرنطینہ کی جانب سے پاکستانی کینو کی برآمدا ت پر گرین لیب کے سرٹیفکیشن تسلیم ہونے کے بعد 6 ہزارکنٹینرز کینو روس برآمد کیے گئے تھے۔ فوٹو : محمد نعمان / ایکسپریس
پھل وسبزیوں کے برآمدکنندگان نے وفاقی حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کی جانب سے ہنگامی بنیادوں پر گرین لیب کی سرٹیفکیشن کو تسلیم نہ کرنے کی صورت میں روس کے لیے پاکستان سے50 ارب روپے مالیت کی برآمدات خطرے میں پڑجائے گی۔
جمعرات کو کراچی پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آل پاکستان فروٹ اینڈویجٹیبل ایکسپورٹر زایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین وترجمان عبدالواحد نے کہا ہے کہ وزارت نیشنل فوڈسیکیورٹی اینڈ ریسرچ کی ہٹ دھرمی نے روس کے لیے پاکستانی کینوکی برآمدی سرگرمیوں کو خطرے سے دوچار کردیا ہے جوروسی مارکیٹ میں بھارت کی مضبوط لابی کی کوششوں کی کامیابی کا سبب بن رہی ہے۔ عبدالواحد نے بتایاکہ گزشتہ سال روسی قرنطینہ کی جانب سے پاکستانی کینو کی برآمدا ت پر گرین لیب کے سرٹیفکیشن تسلیم ہونے کے بعد 6 ہزارکنٹینرز کینو روس برآمد کیے گئے تھے لیکن روسی قرنطینہ کی جانب سے غیرمتوقع طور پرپاکستانی آلو میں گولڈن میموٹیل سے متعلق اعتراضات سامنے آنے کے بعداکتوبر2013 سے پاکستان کے ایگروپروڈکٹس کی درآمدات پرپابندی عائد کردی گئی ۔
لیکن افسوس اس امر پر ہے کہ اس معاملے کو خوش اسلوبی کے ساتھ حل کرنے کے بجائے وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیوریٹی اینڈ ریسرچ نے یک جنبش قلم گرین لیب کی سرٹیفکیشن کو ہی تسلیم کرنے سے انکارکردیا جس سے معاملات الجھتے جارہے ہیں اور کینو کی برآمدات خطرات سے دوچارہوچکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ رشین قرنطینہ کی جانب سے گرین لیب کے ساتھ ایم اویو پردستخط کرنے کے واضح اشاروں کے باوجود وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ نے اپنی انا کو ترجیح دیتے ہوئے پاکستانی کینو کی برآمدات کومشکلات سے دوچارکردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کینو کے یکم دسمبر سے شروع ہونے والے برآمدی سیزن کو بچانے کیلیے وزیراعظم نوازشریف، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزارت تجارت اور ٹریڈڈیولپمنٹ اتھارٹی ہنگامی بنیادوں پراپنا کرداراداکریں۔
ورنہ برآمدات پر پابندی واپس لینے کے فیصلے میں تاخیرسے ملک کو زرمبادلہ میں خطیرنقصان سے دوچار ہونا پڑیگا۔ سابق وائس چیئرمین ایسوسی ایشن اسلم پکالی نے اس حساس معاملے پرمتعلقہ وزارت ودیگرحکومتی اداروں کی عدم دلچسپی پرافسوس کا اظہارکیااور کہا کہ بھارتی لابی وزیراعظم من موہن سنگھ کے دورہ روس کے بعد زیادہ متحرک ہوگئی ہے، حکومتی مشینری فوری طورپر زرعی سیکٹر کی ریشین مارکیٹ تک رسائی کیلیے گرین لیب سرٹیفکیٹ کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستانی زرعی سیکٹر کوفروغ دینے کے اقدامات کرے۔
جمعرات کو کراچی پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آل پاکستان فروٹ اینڈویجٹیبل ایکسپورٹر زایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین وترجمان عبدالواحد نے کہا ہے کہ وزارت نیشنل فوڈسیکیورٹی اینڈ ریسرچ کی ہٹ دھرمی نے روس کے لیے پاکستانی کینوکی برآمدی سرگرمیوں کو خطرے سے دوچار کردیا ہے جوروسی مارکیٹ میں بھارت کی مضبوط لابی کی کوششوں کی کامیابی کا سبب بن رہی ہے۔ عبدالواحد نے بتایاکہ گزشتہ سال روسی قرنطینہ کی جانب سے پاکستانی کینو کی برآمدا ت پر گرین لیب کے سرٹیفکیشن تسلیم ہونے کے بعد 6 ہزارکنٹینرز کینو روس برآمد کیے گئے تھے لیکن روسی قرنطینہ کی جانب سے غیرمتوقع طور پرپاکستانی آلو میں گولڈن میموٹیل سے متعلق اعتراضات سامنے آنے کے بعداکتوبر2013 سے پاکستان کے ایگروپروڈکٹس کی درآمدات پرپابندی عائد کردی گئی ۔
لیکن افسوس اس امر پر ہے کہ اس معاملے کو خوش اسلوبی کے ساتھ حل کرنے کے بجائے وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیوریٹی اینڈ ریسرچ نے یک جنبش قلم گرین لیب کی سرٹیفکیشن کو ہی تسلیم کرنے سے انکارکردیا جس سے معاملات الجھتے جارہے ہیں اور کینو کی برآمدات خطرات سے دوچارہوچکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ رشین قرنطینہ کی جانب سے گرین لیب کے ساتھ ایم اویو پردستخط کرنے کے واضح اشاروں کے باوجود وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ نے اپنی انا کو ترجیح دیتے ہوئے پاکستانی کینو کی برآمدات کومشکلات سے دوچارکردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کینو کے یکم دسمبر سے شروع ہونے والے برآمدی سیزن کو بچانے کیلیے وزیراعظم نوازشریف، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزارت تجارت اور ٹریڈڈیولپمنٹ اتھارٹی ہنگامی بنیادوں پراپنا کرداراداکریں۔
ورنہ برآمدات پر پابندی واپس لینے کے فیصلے میں تاخیرسے ملک کو زرمبادلہ میں خطیرنقصان سے دوچار ہونا پڑیگا۔ سابق وائس چیئرمین ایسوسی ایشن اسلم پکالی نے اس حساس معاملے پرمتعلقہ وزارت ودیگرحکومتی اداروں کی عدم دلچسپی پرافسوس کا اظہارکیااور کہا کہ بھارتی لابی وزیراعظم من موہن سنگھ کے دورہ روس کے بعد زیادہ متحرک ہوگئی ہے، حکومتی مشینری فوری طورپر زرعی سیکٹر کی ریشین مارکیٹ تک رسائی کیلیے گرین لیب سرٹیفکیٹ کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستانی زرعی سیکٹر کوفروغ دینے کے اقدامات کرے۔