ترکی کا یورپ کو انتباہ
ترکی کی امداد میں مناسب اضافہ نہ کیا تو شامی مہاجرین کا سیلاب یورپی ممالک کی طرف جانا شروع کر دیں گے۔
ترکی کی امداد میں مناسب اضافہ نہ کیا تو شامی مہاجرین کا سیلاب یورپی ممالک کی طرف جانا شروع کر دیں گے۔ فوٹو، فائل
ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے مغربی ممالک کو خبردار کیا ہے اگر انھوں نے شام کے تنازعے کے پیش نظر ترکی کی امداد میں مناسب اضافہ نہ کیا تو شامی مہاجرین کا سیلاب یورپی ممالک کی طرف جانا شروع کر دیں گے۔
صدر اردوان نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے ساتھ ان کی ملاقات کے بعد اس تنازعے کے بارے میں کوئی امن معاہدہ یا کم از کم فائر بندی کا سمجھوتہ ضرور ہو جائے گا کیونکہ ادلب میں باغیوں کے ساتھ سرتوڑ لڑائی جاری ہے تا کہ اس علاقے پر ان کا قبضہ چھڑایا جا سکے۔ صدر اردوان نے یورپ کو انتباہ کیا کہ انھیں شامی مہاجرین کے حوالے سے اپنی ذمے داری کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔
انھوں نے کہا کہ علاقے میں تشدد کے واقعات کی بنا پر بے گھر ہونے والوں کا بہت بڑا ہجوم اکیلے ترکی نہیں سنبھال سکے گا چنانچہ اس مقصد کے لیے یورپ والوں کی بڑی امداد اور حمایت درکار ہو گی۔ ترکی کے صدر اردوان نے کہا جب ہم نے اپنے دروازے کھولے تو شور شروع ہو گیا کہ ترکی کو اپنا دروازہ بند کرنا پڑے گا تاہم اب دروازہ کھل چکا ہے لہٰذا مغربی ملک کو اپنی ذمے داری کا احساس کرتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور اس بھاری بھر کم بوجھ کو نمٹانے کے لیے پیش قدمی کرنا ہو گی۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں پناہ گزین جن میں افغان، شامی اور عراقی شامل ہیں ترکی کی سرحد پر جمع ہیں۔ ترکی کا یہ بارڈر یونان کے ساتھ ملتا ہے ۔ یورپی یونین نے کہا ہے کہ ترکی مہاجرین کو اپنے ملک میں آنے لیکن انھیں یورپ میں داخل نہ ہونے دے۔
صدر اردوان نے کہا جوں جوں وقت گزرتا جائے گا، مہاجرین کی تعداد میں لاکھوں کروڑوں کا اضافہ ہوتا جائے گا لہٰذا وہ وقت آنے سے قبل صورتحال کا تدارک کیا جانا چاہیے۔ مہاجرین کی تعداد میں بے پناہ اضافہ کے باعث پناہ گزینوں کی ہلاکتیں شروع ہو چکی ہیں جن میں مزید اضافے کا خطرہ ہے۔ یونان نے کہا ہے کہ وہ اپنے طور پر اس آنے والے طوفان سے تحفظ کی راہ تلاش کر رہا ہے لیکن کسی اکیلے ملک کے لیے یہ ممکن نہیں۔
صدر اردوان نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے ساتھ ان کی ملاقات کے بعد اس تنازعے کے بارے میں کوئی امن معاہدہ یا کم از کم فائر بندی کا سمجھوتہ ضرور ہو جائے گا کیونکہ ادلب میں باغیوں کے ساتھ سرتوڑ لڑائی جاری ہے تا کہ اس علاقے پر ان کا قبضہ چھڑایا جا سکے۔ صدر اردوان نے یورپ کو انتباہ کیا کہ انھیں شامی مہاجرین کے حوالے سے اپنی ذمے داری کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔
انھوں نے کہا کہ علاقے میں تشدد کے واقعات کی بنا پر بے گھر ہونے والوں کا بہت بڑا ہجوم اکیلے ترکی نہیں سنبھال سکے گا چنانچہ اس مقصد کے لیے یورپ والوں کی بڑی امداد اور حمایت درکار ہو گی۔ ترکی کے صدر اردوان نے کہا جب ہم نے اپنے دروازے کھولے تو شور شروع ہو گیا کہ ترکی کو اپنا دروازہ بند کرنا پڑے گا تاہم اب دروازہ کھل چکا ہے لہٰذا مغربی ملک کو اپنی ذمے داری کا احساس کرتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور اس بھاری بھر کم بوجھ کو نمٹانے کے لیے پیش قدمی کرنا ہو گی۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں پناہ گزین جن میں افغان، شامی اور عراقی شامل ہیں ترکی کی سرحد پر جمع ہیں۔ ترکی کا یہ بارڈر یونان کے ساتھ ملتا ہے ۔ یورپی یونین نے کہا ہے کہ ترکی مہاجرین کو اپنے ملک میں آنے لیکن انھیں یورپ میں داخل نہ ہونے دے۔
صدر اردوان نے کہا جوں جوں وقت گزرتا جائے گا، مہاجرین کی تعداد میں لاکھوں کروڑوں کا اضافہ ہوتا جائے گا لہٰذا وہ وقت آنے سے قبل صورتحال کا تدارک کیا جانا چاہیے۔ مہاجرین کی تعداد میں بے پناہ اضافہ کے باعث پناہ گزینوں کی ہلاکتیں شروع ہو چکی ہیں جن میں مزید اضافے کا خطرہ ہے۔ یونان نے کہا ہے کہ وہ اپنے طور پر اس آنے والے طوفان سے تحفظ کی راہ تلاش کر رہا ہے لیکن کسی اکیلے ملک کے لیے یہ ممکن نہیں۔