مہنگائی میں کمی افسانہ یا حقیقت

حکومت کے اقدامات کا تسلسل اس امرکا عندیہ ہے کہ عام آدمی زندگی میں ریلیف کا کوئی قابل عمل نمونہ لایا جائے۔


Editorial March 04, 2020
حکومت کے اقدامات کا تسلسل اس امرکا عندیہ ہے کہ عام آدمی زندگی میں ریلیف کا کوئی قابل عمل نمونہ لایا جائے۔ فوٹو : فائل

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ماہ فروری میں جنوری کے مقابلہ میں مہنگائی میں دو فیصد کمی ہوئی ہے جب کہ یوٹیلیٹی اسٹورز پر مختلف اشیا ء پر سبسڈی کے مثبت نتائج ملنا شروع ہوچکے ہیں ، اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں انھوں نے مزیدکہا کہ حکومت افراط زر پرکنٹرول اور شہریوں پر بوجھ کم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔

ادھر پیرکو کم آمدنی والے طبقہ کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالہ سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے، وزیراعظم نے آیندہ مالی سال کے بجٹ میں راشن کارڈ کے لیے بھی رقوم مختص کرنے کی ہدایت کی، حکومت راشن کارڈ 25 ہزار روپے سے کم آمدنی والے افراد کو دیے جائیں گے۔

ملکی معاشی صورتحال کی بہتری کے لیے حکومت کے اقدامات کا تسلسل اس امرکا عندیہ ہے کہ عام آدمی زندگی میں ریلیف کا کوئی قابل عمل نمونہ لایا جائے جس سے غریب کو اوپر لانے میں مدد مل سکے اور انھیں مہنگائی ، غربت اور بیروزگاری کے جن عذابوں کا سامنا ہے ان میں کمی لائی جاسکے اور عوام ایک اجتماعی آسودہ حالی کے اس منظر نامہ کا حقیقی حصہ بن جائیں جس کی امید حکمراں لگائے بیٹھے ہیں۔

حکومت کے معاشی پروگراموں، عمومی اصلاحات اور عبوری ریلیف کے جن اقدامات کا وزیر اعظم اور ان کے معاشی مشیر و معاونین خصوصی حوالہ دیتے ہیں ، اسی وقت نتیجہ خیز ہوسکتے ہیں اور عوام ان کی افادیت اور اہمیت کو تسلیم کریں گے، جب ان کی زندگی پر ان اقدامات کے اثرات مرتب ہونگے اور ان کی توقعات اورآرزوؤں کے مطابق معاشی آسودگی ان کے روزمرہ کی زندگی میں خون کی طرح گردش کرتی نظر آئے گی، تاہم ملکی معیشت کو جن چیلنجزکا سامناہے، اس کے لیے ایک بنیادی اقتصادی اور سماجی نظام کی ضرورت ہے۔

یہ کام پی ٹی آئی حکومت اور وزیر اعظم عمران خان کے خیال میں پچھلی حکومتوں نے نہیں کیا ، ملک ایک مثالی اقتصادی نظام کو ترستا رہا یہاں تک کہ ملکی خزانہ خالی ہوگیا، اسے ڈیفالٹ کا خطرہ تھا ، مگر وہ موجودہ حکومت کے دورے کے مطابق بر وقت اور ہمہ جہتی کوششوں سے ٹالاگیا، لیکن معاشی حقائق اور مارکیٹ فورسزکی جدلیات کا تقاضہ ہے کہ حکومت معیشت کے استحکام کے لیے اپنی سمت سازی پر مکمل توجہ دے اور اس بات کے لیے ٹھوس عملی اقدامات کو عوام کی ضرورتوں سے ہم آہنگ کرے، ضروری نہیں کہ وزرا اور مشیروں کی فوج ظفر موج روزانہ بیانات جاری کرے اور ہینڈ آؤٹ کے طرز پر قوم کو خوشخبری دی جائے کہ فلاں فلاں چییزوں کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں ، فلاں ریلیف کا یہ نتیجہ نکلاہے۔

اس کام نے قوم کی نیندیں بحال کر دی ہیں۔ اس پروگرام سے عوام خوشی سے نہال ہوگئے اور کل جو اقدامات ہونے والے ہیںان سے قوم کی قسمت بدل جائے گی، عوام کے سارے مسائل ہوجائیںگے اورکوئی عالمی مالیاتی ادارہ کے در پر کشکول لے کر نہیں جائے گا۔ ایسے اعلانات کی ضرورت نہیں پڑے گی اگر حکمرانی کی بنیاد ٹھوس اقتصادی روڈ میپ پر قائم ہو، اور جنھیں معاشی اصلاحات، نتیجہ خیز اقدامات اورتبدیلی لانے کے ٹاسک دیے گئے ہیں وہ اپنے اہداف مکمل کریں اور ایک معاشی منزل تک پہنچنے کے لیے حکومتی پروگراموں میں اجماعیت کے کلیدی نکتے کو پیش نظر رکھیں تاکہ ایک شفاف ،کرپشن اور استحصال سے پاک معاشی نظام کی روشنی پھیلے تو حکومت اور اس کے معاشی مسیحاؤںکو اس کا ڈھنڈورا ٹی وی ٹاکس، سیمینار اور اخباری بیانات میں نہ کرنا پڑے ، بلکہ معاشی ریلیف کی فراہمی کا عمل خود اس کی گواہی دے۔

گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا ہے کہ معیشت میں بہتری آرہی ہے، ہم پر امید ہیں کہ آیندہ مہنگائی کی شرح میں کمی کے واضح امکانات ہیں ،آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اسٹیٹ بینک قانون میں تبدیلی کی جارہی ہے اور اسٹیٹ بینک کی خودمختاری میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

گزشتہ روز کراچی میں انگلش اسپیکنگ یونین کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ معاشی صورتحال میں بہتری آرہی ہے اور اصلاحات کی وجہ سے چیزیں بہتر ہوتی نظر آرہی ہیں، سپلائی چین درست ہونے سے بھی بہتری ہوگی ،کسی بھی ملک کے پاس جتنا زیادہ زرمبادلہ ذخائر ہوگا وہ ملک اتنا ہی خودمختار ہوگا، پاکستان کو گرتے ہوئے زرمبادلہ ذخائرکی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے،گزشتہ چند ماہ میں زرمبادلہ ذخائر 12.5 ارب ڈالر سے زائد بڑھ گئے ہیں، 7 ماہ کے دوران کرنٹ اکاونٹ خسارے میں نمایاں کمی ہوئی ہے، تجارتی خسارہ بھی کم ہوا ہے ، برآمدات بڑھنے سے بہت فائدہ ہوگا، برآمدکنندگان کو سہولت دی ہے جس سے برآمدات میں بھی بہتری ہوگی۔

حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم دل سے چاہتے ہیں کہ عوام کو معاشی ریلیف ملے اور اس کے لیے وہ کام بھی کررہے ہیں مگر ضرورت ان کاموں میں ترتیب ، مقصدیت اور افادیت کا لنک تلاش کرنا اور ایک مربوط اقتصادی پروگرام کو شجر سایہ دارکی شکل دینا ہے۔ اب اس کی مثال یوں سمجھ لیجیے کہ حکومت ایک اعلان کرتی ہے کہ مہنگائی دو فیصد کم ہوگئی ہے۔

مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ معیشت کی صورتحال مستحکم ہو رہی ہے، برآمدات بڑھ رہی ہیں ، اسد عمر صاحب کہتے ہیں کہ مہنگائی کی شرح میں کمی آئی ہے، فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم مہنگائی میں کمی لانے پر پرعزم ہیں، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے بیان دیا ہے کہ مالی سال میں برآمدات میں اضافہ ہوا ہے، وفاقی ادارہ شماریات نے مختلف اشیاء کی قیمتوں میں کمی اور بعض کی قیمتوں میں اضافہ کی بات کی ہے تاہم حکومت نے عوام کا وہ پیمانہ مہیا نہیں کیا جس سے وہ اپنے گھریلو بجٹ اور روزمرہ کی اشیاء کی گرانی سے پیدا ہونے والے مالی خسارے کا اندازہ لگا سکیں۔

بات مہنگائی کی ہے تو اس کا سب سے بڑا بیرومیٹر تو سبزیاں ہیں، سبزیوں کی قیمتوں میں اتارچڑھاؤ ملک گیر ہو اور عام آدمی کو آٹا، گھی ،چینی، چاول، دودھ، دہی ، بھنڈی، گوبھی ،پالک،آلو، کدو، دالیں،مصالحے سستے دستیاب ہوں تو سمجھ جائے کہ مہنگائی کم ہورہی ہے، لیکن بازار میں کوئی سبزی سستی نہیں، کوئی سبزی سو روپے سے کم نہیں ملتی، غریب آدمی درکنار متوسط طبقہ بکری کا گوشت ، مچھلی اور پھل خریدنے خریدنے کی طاقت نہیں رکھتا۔

سوال یہ ہے کہ جن مجرم عناصر ، ذخیرہ اندوزوں، اسمگلروں اور گرانی کی ذمے دار مافیا ؤں کو عبرتناک سزا دینے کے بلند بانگ دعوے کیے گئے ان میں کتنوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلا گیا، وہ جو حکمرانوں کے دائیں بائیں دیکھے جاتے تھے، ان سے کس نے جواب دہی کی؟ لہذا مہنگائی کی کمی کا چرچا کرنا اور حقیقت میں عوام کو مہنگائی سے نجات دلانا دو الگ باتیں ہیں۔

اب بھی وقت ہے کہ حکومت اپنے اہداف پر نظر رکھے، معاشی حقیقت پسندی پر قائم رہے تو عوام کو ریلیف مہیاکرنے لیے دودھ اور شہد کی نہریں بہانے کی فرہاد شکن روایت کی ضرورت نہیں پڑے گی، حکومتی معاشی ٹیم قوم کے دکھ شیئرکرے، ڈھنڈورچیوں سے کنارہ کر لے اور صرف عمل کرے۔ مہنگائی میں کمی کو غربت کے آئینہ میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں