معصوم شامی بچے ایلان کردی کے ڈوبنے کے ذمہ داروں کو 125 سال قید کا حکم

انسانی اسمگلروں نے ایلان کردی کے اہل خانہ سمیت درجنوں پناہ گزینوں کو کینیڈا پہنچانے کا جھانسہ دیا تھا

انسانی اسمگلروں نے جھانسہ دیکر پناہ گزینوں کو کینیڈا پہنچانے کے خواب دکھائے تھے، فوٹو : فائل

ترکی کی عدالت نے جنگ زدہ شام سے محفوظ مقام پر لے جانے کا لالچ دے کر معصوم شامی بچے ایلان کردی سمیت درجنوں افراد کے جاں بحق ہونے کے 3 ذمہ داروں کو 125 سال قید کی سزا سنادی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ترکی کی فوجداری عدالت نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث 3 کارندوں کو125، 125 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ تینوں کو قید کے دوران کسی مرحلے پر بھی پیرول پر رہا نہیں کیا جائے گا۔

ترکی کی سیکیورٹی فورسز نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث ان کارندوں کو ایک خفیہ آپریشن کے دوران حراست میں لیا تھا جس کے بعد تینوں کے خلاف مقدمہ چلایا گیا اور شواہد کی روشنی میں آج عدالت نے تینوں کو سزائیں سنا دیں۔


انسانی اسمگلرز نے 2015ء میں شام سے ایلان کردی کے اہل خانہ کے علاوہ درجن سے زائد افراد کو کینیڈا پہنچانے کا جھانسہ دیا تھا لیکن کشتی کے کھلے سمندر میں طوفان کی زد میں آنے کے سبب ملاح مسافروں کو تنہا چھوڑ کر سمندر میں کود کر فرار ہوگیا تھا۔

3 سالہ ننھے فرشتے ایلان کردی کی لاش لہروں نے ترکی کے ساحل پر پہنچائی تھی، معصوم بچے کو ایک سیکیورٹی اہلکار نے مردہ حالت میں اپنی گود میں اُٹھایا اور ایمبولینس تک پہنچایا۔ اس تصویر نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔

واضح رہے کہ 2016ء میں بھی ترکی کی عدالت نے 2 انسانی اسمگلروں موفواکا الباش اور عاصم الفرہاد کو غفلت برتنے اور ناقص انتظام کرنے پر 4 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ ان دونوں نے پیسے لے کر پناہ گزینوں کو ایجنٹوں کے حوالے کیا تھا۔
Load Next Story