کورونا وبا سے متعلق 24000 تحقیقی مقالے ایک پلیٹ فارم پر موجود

دنیا کے ممتاز سائنسی اداروں کی تحقیق جمع کرنے کا مقصد کورونا وائرس سے بچاؤ اور ویکسین سازی کو فروغ دینا ہے

https://pages.semanticscholar.org/coronavirus-research ویب سائٹ کے ذریعے اب کورونا پر لکھے جانے والے 24 ہزار تحقیقی مقالے مفت میں پڑھے جاسکتے ہیں۔ فوٹو: فائل

کورونا وائرس کی وبا اس وقت دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ اس مسئلے پر دنیا بھر کے سائنسداں، دن رات تحقیق کررہے ہیں۔ اب ایک آن لائن پلیٹ فارم ہر کورونا وائرس اور اس سے پھیلنے والی وبا پر 24 ہزار تحقیقی مقالے رکھے گئے ہیں۔

کئی اداروں، جامعات اور انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین نے ایک ہی پلیٹ فارم اب ہزاروں تحقیقی مقالہ جات بلا معاوضہ رکھے ہیں جن سے کوئی بھی فائدہ اٹھاسکتا ہے۔ تمام مقالے مکمل ہیں اور کئی مضامین نہ صرف شائع شدہ ہیں بلکہ دو ایسے پلیٹ فارم سے بھی لیے گئے ہیں جہاں ماہرین اپنی تحقیق کو کہیں بھی شائع کرانے سے قبل پوسٹ کرتے ہیں۔ ان میں bioRxiv اور medRxiv جیسی ویب سائٹ بھی شامل ہیں۔

اس تحقیقی پلیٹ فارم پر 2 SARS-CoV- (وائرس کا سائنسی نام) اور کووڈ 19 (کورنا بیماری کا سائنسی نام) کی مفصل معلومات موجود ہے۔ اس طرح ایک ہی پلیٹ فارم پر کورونا کے مرض اور بیماری، دونوں پر ہی جدید ترین معلومات حاصل کی جاسکتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جیسے جیسے مزید تحقیقی مقالے سامنے آتے ہیں وہ اس ڈیٹا بیس میں شامل ہوتے رہتے ہیں۔ اس طرح ڈیٹا بیس مسلسل بڑھ رہا ہے۔


درحقیقت یہ ڈیٹا بیس ویب سائٹ امریکہ میں وائٹ ہاؤس آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی (اوایس ٹی پی) کے دیگر اداروں کے تعاون سے بنائی ہے۔ اس میں نیشنل لائبریری آف میڈیسن (این ایل ایم)، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ ، مائیکروسوفٹ اور ایلن انسٹی ٹیوٹ فار آرٹیفیشل انٹیلی جنس(اے 12) کا تعاون بھی شامل ہے۔ اس مناسبت سے ڈیٹا بیس کو اے 12 سیمنٹک اسکالر ویب سائٹ کا نام دیا گیا ہے۔

ویب سائٹ پر اکاؤنٹ بنانے کے بعد اب تمام معلومات تک بلامعاوضہ دسترس حاصل کی جاسکتی لیکن پورٹل نے مالی معاونت کے لیے سبسکرپشن کا آپشن بھی رکھا ہے تاکہ ادارے کی مالی مدد ہوسکے ۔

ویب سائٹ میں تحقیقی مقالوں کو ایک ڈیٹا بیس کی صورت میں بھی دیکھا جاسکتا ہے یعنی طریقہ کار، حوالہ جات، ریفرنس اورمصنفین کو ان کے کام کے لحاظ سے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایلمو اور بی ای آر ٹی جیسے نیچرل لینگویج ماڈل کے ذریعے تحقیقی مقالوں میں یکسانیت اور مماثلت کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے۔
Load Next Story